میونسپل کمیٹی کوٹ ادو‘ قومی خزانے کو نقصان  پہنچانے والے 6 ملزمان کی سزا معطل

میونسپل کمیٹی کوٹ ادو‘ قومی خزانے کو نقصان  پہنچانے والے 6 ملزمان کی سزا معطل

  

 ملتان (خصو صی  ر پو رٹر) لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے ججز مسٹر جسٹس انوار الحق پنوں اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے میونسپل کمیٹی کوٹ ادو میں بوگس (بقیہ نمبر10صفحہ 6پر)

اور ناقص ترقیاتی اسکیموں کی مد میں قومی خزانے کو 17 کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کے مقدمہ میں قید اور بھاری جرمانوں کی سزا پانیوالے چھ ملزمان کی سزا معطل کردی ہے جبکہ دو ملزمان کی حد تک کیس کی سماعت 16 مارچ تک ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزمان کی جانب سے ایڈووکیٹ محمد نعیم خان نے دلائل پیش کیے۔ یاد رہے کہ اس مقدمہ میں ملوث 8 سرکاری افسران اور ٹھیکیداروں کو احتساب عدالت ملتان نے 11 دسمبر 2020 کو سخت قید اور بھاری جرمانوں کی سزا سنائی تھی جبکہ 8 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے مقدمہ سے بری کر دیا تھا۔فاضل عدالت نے ملزم سابق تحصیل میونسپل آفیسر کوٹ ادو مظہر محمود ٹوانہ کو 7 سال قید 3 کروڑ روپے جرمانہ جبکہ ٹھیکیداروں ملک اللہ دتہ کو پانچ سال قید 1 کروڑ جرمانہ کی سزا سنائی تھی جنہوں نے سزا معطلی کے لیے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے جس پر آئندہ سماعت پر وکلا بحث کریں گے۔ دوسری جانب ملزمان نذر حسین کی 2 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا، رفیق احمد خان کی 3 سال اور 20 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا، مدثر شریف کی 2 سال اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا، احتشام الرحمن کی 2 سال اور 2 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا،شاہد اقبال کی چھ ماہ قید اور 1 لاکھ جرمانہ کی سزا،خادم حسین  کی دو سال اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ احتساب عدالت نے ملزمان اکانٹ آفسیر ٹی ایم او کوٹ ادو ملک ریاض حسین، ٹھیکیدار آصف مبین، خان رفیق خان، محمد خالد، اقبال، محمد موسی، محمد حفیظ اللہ اور واحد بخش کو بری کیا تھا۔ نیب حکام نے ریفرنس نمبر 51M سال 2016 میں دائر کیا جس میں الزام عائد کیا کہ ملزم سابق ٹی ایم او مظہر محمود حیات ٹوانہ نے دیگر محکمے کے اہلکاروں اور کوٹ ادو کے ٹھیکیداروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے پانچ لاکھ روپے کی مالی اعانت فراہم کی، جبکہ بوگس ڈویلپمنٹ سکیموں اور غیر معیاری کاموں کے عمل کے ذریعے قومی خزانے کو 170 ملین کا نقصان پہنچایا، تحقیقات کے دوران سڑکوں کے منصوبوں وغیرہ سے متعلق 86 اسکیموں کا معائنہ کیا گیا جس میں غیر معیاری کام کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا تعین کیا گیا۔ جبکہ 10 اسکیمیں جعلی پائی گئیں۔ ملزم مظہر محمود ٹوانہ نے نہ صرف ان غیر معیاری اسکیموں کی منظوری دیکر ٹھیکیداروں کو ادائیگی کی بلکہ ملزمان نے بوگس سکیموں کی بھی تمام ادائیگیاں بھی کر دیں۔ تاہم فاضل عدالت نے نیب کے پیش کردہ شواہد اور وکلا دلائل کے بعد جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو سزا سنائی تھی اور سزا معطلی پر وکلا بحث کریں گے۔

معطل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -