مظفر گڑھ میں ریت اور چوکر ملے آٹے کی فروخت کا انکشاف 

مظفر گڑھ میں ریت اور چوکر ملے آٹے کی فروخت کا انکشاف 

  

مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ‘تحصیل رپورٹر) ریت اور چوکر کی بھاری ملاوٹ کے باعث غریب خاندانوں کے لیے سرکاری آٹا کھانا بھی ناممکن ہوگیا،،کہتے ہیں خدارا سرکاری آٹا کی فراہمی کے نام پر غریبوں سے مذاق بند کیا جائے،ریت اور چوکر ملا سرکاری آٹے کا گٹو لیکر غریب مل ورکر پریس کلب پہنچ گیا،تفصیلات کیمطابق غریب اور مزدور اپنے اہلخانہ کا پیٹ بھرنے(بقیہ نمبر23صفحہ 6پر)

 کے لیے ایک دن کی مزدوری چھوڑ کر لمبی لائنوں میں لگنے کے بعد سرکاری آٹے کا گٹو خریدتے ہیں،مگر اس سب کے باوجود انھیں کھانے کے لیے وہ آٹا فراہم کیا جارہا ہے جو مال مویشیوں کو کھلایا جاتا ہے.موضع بھٹہ پور بستی پنجے والا تحصیل مظفرگڑھ کا رہائشی مل ورکر حضور بخش سرکاری آٹے کا گٹو لیے مظفرگڑھ پریس کلب پہنچ گیا.حضور بخش کیمطابق اس نے تلیری نہر کے قریب واقع سرکاری سیلز پوائنٹ سے لمبی لائن میں لگنے کے بعد سرکاری آٹے کے 2 گٹو حاصل کیے،اس نے ایک گٹو کھولا تو اس میں ریت اور چوکر اتنی مقدار میں شامل تھا کہ بچوں کے لیے کھانا بھی مشکل ہوگیا،حضور بخش کیمطابق  ریت اور چوکر کی بھرمار کے باعث وہ دوسرا ان کھلا آٹے کا گٹو سیلز پوائنٹ پر واپس کرنے آیا تو سیلز پوائنٹ والوں نے گٹو واپس لینے سے انکار کردیا،حضور بخش کیمطابق اسکی حلال طریقے سے کمائی ہوئی رقم تو ضائع ہوگئی ہے لیکن میڈیا حکومت کو بتائے کہ غریب سے مذاق بند کیا جائے،رقم لیکر بھی اگر یہی کھلانا ہے تو خدارا غریب کو سرکاری آٹے کا لالچ نہ دیا جائے،حضور بخش کا کہنا تھا کہ انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں کیاجارہا اس لیے اب وہ یہی آٹا اپنے جانوروں کو ہی کھلائے گا،معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو اسسٹنٹ کمشنر مظفرگڑھ رانا محمد شعیب نے معاملے کا نوٹس لے لیا،اسسٹنٹ کمشنر مظفرگڑھ کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص سے رابطہ کرکے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اگر آٹا مضرصحت ثابت ہوا تو ذمہ داروں کیخلاف کاروائی کی جائیگی۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -