قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے سابق  ڈی پی اوز اور ڈی ایس پیز کیخلاف سماعت  مزید کاروائی کیلئے 30 مارچ تک ملتوی

قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے سابق  ڈی پی اوز اور ڈی ایس پیز کیخلاف سماعت  ...

  

 ملتان (خصو صی  ر پو رٹر) احتساب عدالت ملتان نے قومی خزانے میں خورد برد کرکے اربوں روپے کی کرپشن کرنے کے مقدمہ میں ملوث سابق پولیس ڈی پی اوز اور (بقیہ نمبر28صفحہ 6پر)

ڈی ایس پیز کے خلاف سماعت مزید کاروائی کے لیے 30 مارچ تک ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس موقع پر مقدمہ کے گواہ محمد انور کا بیان قلمبند کرلیا گیا  جبکہ مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا گیا ہے۔ ملزمان کا موقف ہے کہ ان کے خلاف نیب نے جو انکوائری شروع کی وہ بے بنیاد ہے نیب کے پاس کوئی ثبوت نہیں جس وقت میں کرپشن کی نشاہدہی کی جارہی ہے ملزمان اس وقت عہدے پر موجود نہیں تھے۔قبل ازیں فاضل عدالت میں نیب حکام کے مطابق ملزمان سابق ڈی پی او شاکر حسین داوڑ، ڈی ایس پیز تنویر امجد، قدیر انور اور اشفاق احمد سمیت دیگر کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کرنے کا ریفرنس 2017 میں تیار کیا گیا۔ جن پر الزام تھا کہ انہوں نے دوران تعیناتی ڈی پی او وہاڑی پے اینڈ الانسز اور دیگر اخراجات کی مد میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا اس معاملے پر 2008 سے 2012 اور 2012 سے 2013 تک انکوائریوں کی علیحدہ علیحدہ شروعات ہوئی ان پر الزامات تھے کہ انہوں نے اکاونٹنٹ ڈی پی او آفس مرحوم عبدالستار کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جس پر انکوائری لاہور دفتر گئی اس کے بعد ملتان منتقل کی گئی ان معاملات میں 20 سے زائد افراد کو ملزم ٹھہرایا گیا۔ آڈیٹ رپورٹ پر انکوائری شروع ہوئی پانچ افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔کیس میں دیگر ڈی پی اوز بھی ملوث تھے جن میں سے شارق کمال گزشتہ برس 16 جنوری کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری ہو چکے ہیں جبکہ ملزمان پر 20 دسمبر 2018 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔1019 کے ملین کیس میں پولیس افسران پیش ہوتے رہے تھے۔

ملتوی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -