سینیٹ الیکشن: موبائل فون نکلنے پر خرم شیر زمان کو ایوان سے نکال دیا گیا

سینیٹ الیکشن: موبائل فون نکلنے پر خرم شیر زمان کو ایوان سے نکال دیا گیا

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی ارکان کو کو متحد رکھنے کا ٹاسک لینے والے خرم شیر زمان کی جیب سے موبائل برآمد ہوا،جس پر پیپلزپارٹی نے احتجاج کیاجس پر پولنگ اسٹیشن میں پی ٹی آئی کے دوسرے ارکان کی بھی دوبارہ تلاشی لی گئی۔تفصیلات کے مطابق سندھ سے ایوان بالا کی گیارہ نشستوں کے لئے اسمبلی ہال میں پولنگ کا عمل جاری تھااسی دوران شور شرابہ ہوا پیپلزپارٹی کی خاتون رکن اسمبلی شمیم ممتازنے خرم شیرزمان کو روکا، شمیم ممتاز نے اعتراض اٹھایا کہ خرم شیر زمان کے پاس موبائل ہے لہٰذا ان کی تلاشی لی جائے۔خرم شیر زمان کے پاس موبائل فون کی موجودگی پر پی پی پی کی خواتین ارکان نے شدید احتجاج کیا، خواتین ارکان کا موقف تھا کہ کسی کو فون اندر لے جانیکی اجازت نہیں ہے۔اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی سعید غنی نے اعتراض کیا، بعد ازاں خرم شیر زمان کی تلاشی لی گئی تو ان کے پاس سے موبائل فون برآمد ہوا، اس کے علاوہ ان کے ساتھ آنے والے کریم گبول کی بھی تلاشی لی گئی، تلاشی دینے کے بعد کریم بخش گبول نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا، کریم گبول گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں ہونے والے ہنگامہ آرائی کے مرکزی کردار تھے۔تاہم موبائل برآمد ہونے پر خرم شیر زمان سے بیلٹ پیپر واپس لیا گیا اور انہیں پولنگ کے عمل میں حصہ لینے سے روک دیا گیا، بعد ازاں الیکشن حکام نے انہیں ایوان سے باہر بھی نکال دیا۔پی ٹی آئی رہنما کی جیب سے فون برآمد ہونے پر سندھ اسمبلی میں شورشرابہ شروع ہوگیا،جس پر پولنگ اسٹیشن میں پی ٹی آئی کے دوسرے ارکان کی بھی دوبارہ تلاشی لی گئی۔سعید غنی نے الزام عائد کیا کہ خرم شیر زمان موبائل لے کر آئے اور ووٹ کی تصویر لے رہے تھے، فون پی پی ایم پی اے شمیم ممتاز نے خرم شیرزمان کی جیب سے نکالا۔ترجمان سندھ حکومت نے واقعے سے متعلق جاری بیان میں کہا کہ خرم شیرزمان ووٹ ڈالنے گئے تو ان کے پاس سے الیکٹرونک ڈیوائس نکلی، سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، جس کا ثبوت آچکا، یہ زور زبردستی سے ووٹ حاصل کرنیکی کوشش کررہے ہیں، الیکشن کمیشن کو انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔مرتضی وہاب نے کہاکہ یہ دوسروں پرالزام لگاتے تھے کیونکہ  ان کے اپنے ضمیرمیں کھوٹ تھا۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی امداد پتافی نے کہا کہ اپوزیشن ارکان نے مجھ پر موبائل فون رکھنے کا الزام عائد کیا تھا، تلاشی لینے پر مجھ سے موبائل نہیں ملا تاہم خرم شیرزمان کی تلاشی پر ان کے پاس سے موبائل ملا۔امداد پتافی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کا نوٹس لے اور خرم شیر زمان پر پابندی لگائے اور ان کا ووٹ نہ گنا جائے۔پیپلزپارٹی کی رکن سندھ اسمبلی سعدیہ جاوید نے خرم شیر زمان سے موبائل ملنے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ کے لیے لائن میں کھڑی تھی، مجھ سے آگے ہیرسوھو، شمیم ممتاز اور پھر خرم شیر زمان تھے، ہم نے کہا پہلے قائم علی شاہ کو ووٹ ڈالنے دیں، خرم کو بیلٹ پیپرمل گئے تھے۔سعدیہ جاوید نے کہا کہ کلثوم چانڈیو نے نشاندہی کی کہ خرم شیر زمان کے پاس موبائل ہے، پہلے خرم شیر زمان نے انکار کیا، پھر لائٹ جلی تو موبائل الیکشن کمیشن کو دیا، ہم نے شور شرابا کیا کہ فون لے کر کیسے آگئے، الیکشن کمیشن نے خرم شیر زمان سے موبائل لیا اور ووٹ ڈالنے سے روک دیا۔

مزید :

صفحہ اول -