بعض نجی میڈیکل کالجز پیسہ بٹورنے کی مشینیں بن چکی ہیں: چیف جسٹس قیصر رشید

بعض نجی میڈیکل کالجز پیسہ بٹورنے کی مشینیں بن چکی ہیں: چیف جسٹس قیصر رشید

  

 پشار(نیوز رپورٹر)پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید خان نے کہا ہے کہ بعض نجی میڈیکل کالجز پیسہ بٹورنے کی مشینیں بن چکی ہیں، پاکستان میڈیکل کمیشن نے اب تک انکے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟ اب تک کسی کالج کو بند کیاہے۔ ہم جے آئی ٹی بناکر ان کالجز کا آڈٹ کا حکم دینگے کہ یہ کالجز کس طرح طلبہ کو چار ج کررہے ہیں۔ ایسے کالجز کو بند ہوناچاہیے جو مستحق طلبہ کی حق تلفی کرتے ہیں،اب ہم ایسے تلخ احکامات جاری کرینگے کہ جس سے بعض لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔ فاضل چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سے نجی میڈیکل کالجز سے متعلق رپورٹ بھی آئندہ سماعت 25مارچ کو پیش کرنے کے احکامات جاری کردیئے،چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دورکنی بنچ نے وسیم الدین خٹک ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر لائبہ جاوید کی رٹ پر سماعت شروع کی تو اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شمائل احمدبٹ، کے ایم یو وکیل عبدالمنیم، پی ایم سی سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر جاوید بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔چیف جسٹس قیصررشید نے اے جی سے استفسارکیا کہ یہ کیاہورہاہے؟ شکایات مل رہی ہیں کہ بعض نجی میڈیکل کالجز سیٹوں کوفروخت کرتے ہیں؟ جس پر اے جی نے بتایا کہ بعض نجی میڈیکل کالجز کیجانب سے 20نمبرانٹرویو کیلئے مختص ہونے پرلاکھوں وکروڑو ں روپے لئے جارہے ہیں جبکہ ایک نجی میڈیکل کالج کیخلاف 16شکایات بھی ملی ہیں اوریہ کالجز نمبر فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کی تشویش پر حکومت نے باقاعدہ اشتہاردیاکہ 20نمبربیچنے کی شکایات پر متعلقہ حکام کو مطلع کیاجائے تاکہ اس پر فوری ایکشن لیاجاسکے۔ وسیم خٹک ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ صرف نجی میڈیکل کالجز نے 20نمبر انٹرویو کیلئے مختص کئے ہیں حالانکہ پبلک سیکٹر میں ایسا نہیں ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے کیوں ظلم روا رکھا ہے؟ انہیں کیوں فری ہینڈ دے رکھا ہے؟ہم اس میں جے آئی ٹی تشکیل دیکر ان نجی کالجز کا باقاعدہ آڈٹ کا حکم دینگے، اسکے بعد ایسے کالجز کیخلاف کارروائی کرینگے کیونکہ انکے خلاف مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کیجانب سے شکایات مل رہی ہیں۔ وسیم خٹک ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے اعلامیہ جاری کیا کہ نجی میڈیکل کالجز میں 90فیصدسیٹوں پر خیبرپختونخوا کے طلبہ کو داخلے دیئے جائینگے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا اوردیگر صوبوں کے طلبہ پیسے دیکر داخلے لے لیتے ہیں،انہوں نے بتایا کہ ایک نمبر کم یا زیادہ ملنے سے بڑافرق پڑتا ہے اور یہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بعض میڈیکل کالجز منی منٹنگ مشین بن چکی ہیں، کیا اب تک پی ایم سی نے کوئی میڈیکل کالج بند کیاہے؟بعدازاں عدالت نے کیس پر سماعت 25مارچ تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل کو رپورٹ بھی پیش کرنے کے احکامات دیئے۔  

مزید :

صفحہ اول -