موسم ِبہار کی آمد پر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں رنگارنگ تقریبات

موسم ِبہار کی آمد پر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں رنگارنگ تقریبات

  

معروف اولڈ راوینز کی پذیرائی،جی سی یو میں طارق فارانی کی یاد میں محفل موسیقی اور تعزیتی ریفرنس

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں گزشتہ دنوں پہلے تو اولڈ راوینز یونین کے انتخابات کی گہما گہمی رہی اور اس کے بعد کالا شاہ کاکو کیمپس میں سالانہ کھیلوں کا انعقاد کیا گیا جن میں سٹاف اراکین اور طلباء و طالبات نے نہ صرف بھرپور شرکت کی بلکہ نئے کیمپس میں طلباء و طالبات کے جوش و خروش سے ایسا محسوس ہوتا تھاجیسے یہاں ایک فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ دو روزہ سالانہ کھیلوں کے بعد ہفتہ کے روز جم خانہ ایونٹس کا آغاز دن کے 2بجے ہو چکا تھا اور اس دفعہ وائس چانسلر نے ایک نئی روایت کا آغاز کیا جس کے مطابق یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کے طلباء و طالبات نے فلیگ مارچ کیا اور مہمانانِ گرامی، وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی اور سٹاف اراکین کو سلامی دی۔ مہمان خصوصی وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر شفقت محمود بھی جلد ہی پہنچ گئے اور پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے تمام شعبہ جات کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے ساتھ یونیورسٹی کی ضروریات کا تذکرہ بھی کیا اور یونیورسٹی میں تین نئے شعبہ جات کے اجرا کا اعلان بھی کیا جس میں سب سے زیادہ شعبہ ابلاغیات (ماس کمیونیکیشن) کی اہمیت تھی۔ ڈاکٹر اصغر زیدی نے طلباء و طالبات سے براہِ راست رابطے کا ایک نیا کلچر متعارف کروایا ہے جسے پروفیسر ڈاکٹر خلیق الرحمن نے شروع کیا تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے یونیورسٹی میں کافی اصلاحات بھی کی ہیں اور وہ اس یونیورسٹی کو دنیا کی بہترین جامعات میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے انہیں حکومت کی طرف سے مالی وسائل کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی کی رپورٹ کے بعد مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر شفقت محمود وفاقی وزیر تعلیم نے اپنے خطاب میں بتایا کہ وہ چھ سال اس مادرِ علمی میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور کچھ عرصہ تدریسی فرائض بھی سرانجام دیئے انہوں نے کہا کہ جی سی نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں علیٰ ترین شخصیات کو جنم دیا اور شاعر مشرق علامہ اقبال، صوفی تبسم، فیض احمد فیض، پطرس بخاری اور دیگر بلند پایہ شخصیات نے اس ادارے کو عالمگیر شہرت اور بلند مقام عطا کیا۔ 

راوی اور گورنمنٹ کالج گزٹ

 راوی اورکالج گزٹ کے نگران اساتذہ بھی دنیا کے معروف اور ممتاز اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی بھی علمی و ادبی نیز غیر نصابی سرگرمیوں کی سرپرستی فرماتے ہیں۔ ماضی میں اقبال محمود اعوان، طاہر سعید، شاہد مسعود، عرفان وحید، شاہد رشید سہیل عامر،امین الحسنات اور راقم الحروف بھی کالج گزٹ سے وابستہ رہے ”راوی“ کی مجلس ادارت میں حنیف رامے، محمود شام وحید رضا بھٹی، اشرف عظیم، اسد اللہ غالب، باصر کاظمی، احمد علیم، حافظ محمد جنید رضا اور بلند پایہ علمی و ادبی شخصیات نے راوی کے یادگار شمارے شائع کئے۔ راوی کے نگران اساتذہ میں پروفیسر محمد منور، میرزا ریاض، مشرف انصاری، جعفر بلوچ، صابر لودھی، ڈاکٹر نیر صمدانی، طارق زیدی، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، پروفیسر صدیق اعوان، خالد مسعود صدیقی اور بے شمار معروف اساتذہ شامل رہے ہیں۔ ”راوی“ کا اجرا 1906ء میں ہوا تھا اور اب اس کی اشاعت کو ایک سو پندرہ سال ہو چکے ہیں۔ راوی کے بے شمار خصوصی نمبر بھی شائع ہو چکے ہیں جن میں قائداعظم، علامہ اقبال، محمد حسین آزاد، اشفاق احمد اور دیگر اہم شخصیات کے حوالے سے گرانقدر مقالات اور مضامین شائع کئے گئے لیکن گورنمنٹ کالج کی ایک اہم ترین شخصیت صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے لئے کوئی خصوصی نمبر شائع نہیں کیا گیا۔ کالا شاہ کاکو میں زیر تعمیر ہوسٹل کا نام ”اشفاق احمد“ سے منسوب کیا گیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ نیوہاسٹل کا نام صوفی تبسم سے منسوب کیا جائے اور صوفی تبسم کے نام سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا شعبہ فارسی ایک علمی و ادبی میگزین جاری کرے شعبہ فارسی کا علمی مجلہ کاوش کے نام سے شائع کیا جا رہا ہے اسے بھی صوفی تبسم سے منسوب کیا جا سکتا ہے چونکہ صوفی تبسم بیک وقت فارسی، اردو اور پنجابی کے قادرالکلام شاعر تھے اور بیک وقت شعبہ اردو فارسی کے سربراہ تھے اس لئے شعبہ اردو بھی اپنے تحقیقی مجلات میں سے کسی ایک کو ان سے منسوب کر سکتا ہے چونکہ صوفی تبسم ایک اعلیٰ پائے کے مترجم تھے اس لئے ان کے نام سے سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی کی طرز پر کسی بھی سطح کی ٹرانسلیشن سوسائٹی کا نام رکھا جا سکتا ہے۔ صوفی تبسم کا یہ اعزاز کیا کم ہے کہ فیض احمد فیض ان کے شاگرد رہے اور ہمیشہ اپنا کلام ان کو دکھاتے رہے۔ حال ہی میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے صوفی تبسم کی یاد میں ایک بہت بڑی تقریب کے لئے ہدایات جاری کی تھیں لیکن مہمان خصوصی کی عدم دستیابی کے سبب یہ تقریب منعقد نہیں ہو سکی۔ میری ناقص رائے میں سید بابر علی شاہ یا کسی بھی ممتاز علمی شخصیت کو اس تقریب کی صدارت کے لئے مدعو کیا جا سکتا ہے، صوفی تبسم کی فارسی، اردو اور پنجابی شاعری کے حوالے سے ”راوی“ کے اردو اور پنجابی حصے میں مضامین کی اشاعت کی جا سکتی ہے۔ صوفی تبسم گورنمنٹ کالج لاہور کے مثالی اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں اس لحاظ سے بھی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو ان کی تکریم اور شناخت کے لئے اقدامات کرنا چاہئیں۔

مادری زبانوں کا عالمی دن

رواں مہینے میں پنجاب بھر کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں میں بہت سی جگہوں پر مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا جس میں مقررین، اساتذہ،طلبا و طالبات اور شعرائے کرام نے پنجابی زبان بولنے، پڑھنے، لکھنے اور اسے رائج کرنے کے لئے تجاویز پیش کیں اور مادری زبان کی بقا کے لئے اس کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور دیگر اداروں میں مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -