چولستان جیپ ریلی اور ضلعی انتظامیہ

چولستان جیپ ریلی اور ضلعی انتظامیہ
چولستان جیپ ریلی اور ضلعی انتظامیہ

  

محترم قارئین کرام ،ہر سال فروری کے مہینے میں چولستان جیپ ریلی کا انعقاد کروایا جاتا ہے جسمیں دنیا بھر سے ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں ۔چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ چولستان جیپ ریلی کو منعقد کروانے میں بھرپور جتن کرتی ہے ۔بلاشبہ چولستان جیپ ریلی کا شمار پاکستان کے بڑے ایونٹس میں کیا جاتا ہے ۔اس مرتبہ جو دلچسپ بات دیکھنے کو میسر آئی وہ یہ تھی کہ جیپ ریلی میں صرف گاڑیاں ہی نہیں بلکہ بائیک رائڈرز بھی پاکستان بھر سے ریس میں شامل ہوئے،مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی جیپ ریلی میں بھر پور حصہ لیا ۔

میں اپنے وسیب کی ثقافت اور روایات دیکھنے ہر سال جیپ ریلی میں شرکت کرتا ہوں مجھے آخری رات جانے کا اتفاق ہوا تو رش اس قدر زیادہ تھا کہ ہر بندہ اپنی مستی میں مگن تھا ، دھول بکھیرتی گاڑیاں ، سرائیکی جھومر اور گیت چولستان کی تاریخ اور کلچر بیان کررہے تھے ۔وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ اس بار ضلعی انتظامیہ نے جیپ ریلی کے انتظامات کو اس قدر بہتر انداز میں کیا ہے کہ ہر سو جنگل میں منگل کا سماں ہے ۔اس مرتبہ جس قدر بہتر انتظامات اور چیک اینڈ بیلنس تھا وہ یا تو گذشتہ دو  برس قبل ایم ڈی سی ڈے اے وسیم انور خان کے دور میں نظر آئے یا اس مرتبہ ایم ڈی اور ڈی سی مظفر خان سیال کے دور میں ممکن ہوئے ۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار جیپ ریلی میں شرکت کے لئے وہاں پہنچے اور بہترین انتظامات پر ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا ۔ قلعہ ڈیراور کے مقام پر قائم تاریخی قلعہ کئی سو سال پرانی تہذیب کو روشناس کروارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قلعہ ڈیراور پر جو اینٹیں لگائی گئی وہ ہاتھ کی چین بنا کر سندھ سے یہاں پہنچائی گئی اور قلعے کے اندر ریل کا نظام ، قیدیوں کے لئے جیل ، پھانسی گھاٹ ، اوبزرور پوائنٹ ، مہمانہ خانہ اور  دیگر تاریخی تعمیرات نوابین آف بہاولپور اور چولستان کا تاریخی پس منظر بیان کررہی ہیں ۔ قلعہ ڈیراور کے مقام پر قائم کئی سو سال پرانی جامع مسجد آج بھی اسی طرح قائم و دائم ہے ۔ کچھ ہی فاصلے پر نوابین آف بہاولپور کے مزارات بھی ہیں اور چار  صحابہ کرام کے مزارات بھی قلعہ ڈیروار کے مقام پر واقع ہیں ۔

اس مرتبہ ضلعی انتظامیہ بالخصوص کمشنر کیپٹن ر ظفر اقبال اور ڈی سی مظفر خان سیال کی انتھک کوشش سے ان تمام تاریخی مقامات کو اس قدر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کہ دیکھنے والا مصور کی داد دئیے بغیر رہ نہ سکے ۔ ڈی سی بہاولپور مظفر خان سیال جنہوں نے تمام امور کی نگرانی کی انکا شمار ضلع بہاولپور کے قابل افسران میں ہوتا ہے ۔ مظفر خان سیال جب سے بہاولپور تعینات ہوئے ہیں انہوں نے ضلع بھر کے اندر زبردست اقدامات اٹھائے ہیں ۔ عوام اور تمام مکاتب فکر سے انکا تعلق اس قدر بہتر یے کہ وہ ہر کسی کی بات سننے کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں ۔35 لاکھ آبادی والے ضلعے میں ایک بندہ اتنا ذمے دار ہے کہ وہ عوامی امور کی انجام دہی کے لئے ہروقت کوشاں رہتا ہے ۔

ضلع بہاولپور کے اندر ایسے افسران بھی ہیں جو خشک مزاج اور کام چور ہیں لیکن بیوروکریسی میں مظفر خان سیال جیسے آفیسر کا  دستیاب ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں نے مظفر خان سیال سے کوئی عوامی ایشو ڈسکس کیا ہو اور انہوں نے اس پر فوری عمل درآمد نہ کروایا ہو ۔ ضلع بھر کے اندر مظفر خان سیال کی سربراہی میں حکومتی پالیسی کے مطابق ناجائز قابضین کے خلاف تابڑ توڑ بلا امتیاز کاروائیاں ، مصنوعی مہنگائی کے خلاف عملی اقدامات ، ترقیاتی کاموں میں خصوصی دلچسپی ، درجنوں نئے منصوبہ جات کا افتتاح اور دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی سمیت دیگر اہم اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ایک بہترین انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔

قلعہ ڈیروار کے مقام پر پہنچ کر ہم نے حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا کلام سنا اور روہی کے ٹیلوں پر بیٹھ کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوکر چولستان کوروشنیوں کا شہر آباد ہوتے دیکھا ۔ پوری رات تھکن کے باوجود تمام تاریخی مقامات دیکھے اور چولستانیوں کی روایات قابل دید تھیں ۔اگلی صبح سٹارٹنگ پوائنٹ سے فراٹے بھرتی گاڑیاں آپ کو چند منٹ دیکھائی دیتی ہیں اور اسکے بعد 200 کلو میٹر سے بڑا ٹریک عبور کرنا انکا چینلج ہوتا ہے پھر واپسی پر ہی انکی جھلک دیکھائی دیتی ہے لہذا میں اپنے دوستوں اقبال آکاش ، نذر بھٹی ، عمر جوئیہ ، کاشف خان ،ناظم خان ،رائے اوصاف اور سجاد گل کے ہمراہ واپسی کی جانب لوٹا ۔گھر آکر ٹی وی پر دیکھاتو پتہ چلا اس مرتبہ نادرمگسی کی بجائے صاحبزادہ سلطان فاتح قرار پائے ہیں اور نادر مگسی دوسرے نمبر پر رہے ۔فتح کا ٹائٹل اپنے نام کرنے پر صاحبزادہ سلطان مبارکباد کے مستحق ہیں بلاشبہ چولستان جیپ ریلی کا ایونٹ پاکستان بھر میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔

اہل بہاولپور میزبان ہونے کی حیثیت سے دل کھول کر اور بڑھ چڑھ کر مہمانوں کی خاطر توازا کرتے ہیں اور یوں ہر سال چولستان جیپ ریلی کا ایونٹ چولستان کے باسیوں کے لئے روشنی کی کرن بنتا ہے ۔ چولستانی معاشی حوالے سے بھی اس ایونٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ضلعی انتظامیہ اس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں دن رات محنت کرتی ہے ۔ پوری دنیا سے آئے لوگ چولستان کی ثقافت اور روایات سے روشناس ہونے کے ساتھ ساتھ چولستان جیپ ریلی کے تمام ایونٹس سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -