غالب امکان یہی ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن ۔۔۔سلیم صافی نے پریشان کن دعویٰ کردیا 

غالب امکان یہی ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن ۔۔۔سلیم صافی نے ...
غالب امکان یہی ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن ۔۔۔سلیم صافی نے پریشان کن دعویٰ کردیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیئرصحافی اورتجزیہ کارسلیم صافی نےکہاہےکہ وزیراعظم عمران خان جس رستے سےاقتدار میں آئے تھے اور جو بیساکھیاں اور سہارے اُن کی حکومت کا وسیلہ بنے تھے ،اگر وہ سہارے اور وسیلے برقرار رہے تو پھر اُنہیں اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے ،غالب امکان یہی ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن آج اُن کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ وہ اب اپنا اعتماد کھو چکے ہیں،کل کے رزلٹ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوام اور ورکرز تو کیا اُن کے اپنے پارلیمنٹیرین کا بھی اعتماد نہیں ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ہمیں دونوں سگنلز مل رہے ہیں ،الیکشن کمیشن کا متحرک ہونا اور اپنا فرض نبھانا ،پھر ڈسکہ کا انتخاب اور پھر اس پر الیکشن کمیشن کا سٹینڈ  اور سینیٹ انتخابات  کا رزلٹ، اس طرح کی چیزیں تو ہمیں بتا رہی ہیں کہ "تبدیلی" آ گئی ہے اور وہ قوتیں جس طرح کہہ رہی ہیں تو اُسی طرح وہ نیوٹرل ہو چکی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں دوسری سائڈ کے بھی اشارے مل رہے ہیں ، آنے والا وقت بتائے گا کہ حقیقت میں  کیا ہے ؟۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم قوم سے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے ،یہ الیکشن کمیشن اگر پارٹی فنڈنگ کیس کا میرٹ اور وقت پر فیصلہ کر چکا ہوتا تو کیا پاکستان میں آج یہ نظام ہوتا ؟کیا آج عمران خان وہاں پر موجود ہوتے ؟پچھلے الیکشن میں جو بے شرمی دکھائی اُس وقت کے الیکشن کمیشن نے،جس طریقے سے آر ٹی ایس سسٹم فیل کیا گیا ،جس طریقے سے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کران کی عدم موجودگی میں گنتی ہوئی ،جس طریقے سے حکومتی ایم این ایز اور سینیٹرز کو رعایتیں ملتی رہیں ،اس کے بعد تو اس الیکشن کمیشن کے جو اصل کردار تھے سیکرٹری الیکشن کمیشن  اُن کو تو اِنہوں نے تمغوں سے نوازا اور پھر اس کے بعد انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کی کوشش کی ،جب یہ نہیں ہو سکا تو اُنہیں وزارت سے بھی زیادہ اہم منصب دیا گیا ۔

سلیم صافی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو پہلے سے ایسے تھے ،اب خان صاحب  کو بھی مہربانی کرنی چاہئے  کہ وہ ریاست مدینہ اور اصولوں کی سیاست کا رولا ڈالنا چھوڑ دیں ،جس طرح پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو نہیں جچتی یہ چیزیں ،یہ پاور پالیٹکس ہے جو ان تین چار بڑی جماعتوں کے درمیان ہو رہی ہے ،الیکشن میں پیسوں کا استعمال بالکل  بند ہونا چاہئے،خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی نے فرحت اللہ بابر کو ٹکٹ دیا  ،مسلم لیگ ن نے دو تین پیسے والوں کو ٹکٹ دیئےجبکہ اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو اُن کے ساتھ سالوں سے وابستہ ہیں ،ایم کیو ایم اوراختر مینگل نے بالکل میرٹ پر ٹکٹ دیئے،تحریک انصاف کے علاوہ کسی اور پارٹی امیدواروں  کی ٹکٹ پر اعتراض ہوئے ؟نہیں ،سب سے زیادہ پیسے والوں کو ٹکٹ تو عمران خان نے دیئے ہیں ۔

مزید :

قومی -