سپریم کورٹ اور انصاف کے تقاضے

 سپریم کورٹ اور انصاف کے تقاضے
 سپریم کورٹ اور انصاف کے تقاضے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان میں اِس وقت پورا معاشرہ سیاسی طور پر تقسیم ہو چکا ہے۔اِس کے اثرات دوررس ہیں خاندانوں میں تلخی ہے ذاتی تعلقات میں کھچاؤ ہے یہ بڑی افسوسناک صورتحال ہے لیکن اس سے زیادہ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ یہ تقسیم اہم اداروں تک پہنچ گئی ہے۔ مثلاً سپریم کورٹ اور فوج اگر یہ ادارے مضبوط اور متحد ہیں تو سیاست کے بگاڑ پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت ملک میں سیاسی بحران کے اثرات صرف سیاسی پارٹیوں یا عام آدمی تک محدود نہیں بلکہ یہ ادارے بھی اس کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ صورتحال ملک کی سلامتی کے لئے بہت خطرناک ہے۔


سپریم کورٹ سے چھوٹا بڑا ہرشخص، پارٹی یا ادارہ انصاف کی توقع رکھتا ہے کیونکہ انصاف کے حصول کے لئے یہ آخری درواز ہے لیکن بدقسمتی سے کچھ عرصے سے یہ ادارہ اندرونی اختلافات کا شکار نظر آتا ہے لیکن اب صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ یہ اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور صرف ذاتیات کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ مسائل انصاف کی فراہمی کے عمل میں رکاوٹ بنتے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں چیف جسٹس جناب عمر عطاء بندیال نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد نئے اتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں پیدا ہونے والے بحران پر سوموٹو ایکشن لے لیا اور سماعت کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کا حکم دیا۔بظاہر تو چیف جسٹس صاحب کا یہ ایکشن نیک نیتی پر مبنی تھا اور شاید صورتحال کے پیش نظر ضروری تھا لیکن اس نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ بُری طرح تقسیم ہو گئی۔ ایک طرف پی ڈی ایم کا مطالبہ تھا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی صاحب چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ مبینہ بات چیت کی ویڈیو کے بعد کیس کی سماعت کرنے والے بنچ میں نہ بیٹھیں اور یہ کہ یہ کیس کورٹ کے فل بنچ کو سننا چاہئے۔اس بنچ میں دو سینئر ججوں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کو شامل نہیں کیا گیا جس پرکئی قانونی اور سیاسی حلقوں نے اعتراض اُٹھایا تھا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے آپ کو اِس بینچ سے الگ کر لیا پھر جسٹس عمر آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے سوموٹو کی ضرورت پر سوال اُٹھا دیا۔ باقی پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی اور یکم مارچ کو فیصلہ سنا دیا۔ پانچ رکنی بنچ میں بھی تقسیم رہی تین ججوں نے اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ سنایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات 90 دن کے اندر کرائے جائیں۔


اب آگے کیا ہو گا یہ تو وقت بتائے گا لیکن یہ صورتحال بہت افسوسناک ہے اور اس نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ میرے خیال میں اعلیٰ ترین عدالت کے تقدس کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے لیکن اس کے لئے اب شاید کچھ اصلاحات کی ضرورت واضح ہو گئی ہے۔ ایک تو سوموٹو نوٹس کی ضرورت اور اختیار کے بارے میں شاید کچھ ابہام پایا جاتا ہے۔ اِس بات کی وضاحت ہو جانی چاہئے کہ سوموٹو لینا کن حالات میں ضرورت بن جاتا ہے اور کس کو اِس کا اختیار ہے کیا یہ صرف چیف جسٹس سپریم کورٹ کا اختیار ہے ۔ کیا چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کا کوئی سینئر جج بھی یہ اختیار استعمال کر سکتا ہے اور کیا اِس کے لئے چیف جسٹس سینئر ججوں کے ساتھ صلاح مشورے کا پابند ہے یا اُسے کلی اختیار ہے۔


یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے ججوں کی سلیکشن اور اُن کے خلاف کارروائی کا مروجہ طریق کار درست ہے یا اس میں بھی کسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ موجودہ قواعد کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صوبائی ہائی کورٹس میں کچھ نام منتخب کرتے ہیں لیکن فائنل فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کرتی ہے حال ہی میں چیف جسٹس نے جن ججوں کو سپریم کورٹ کے لئے منتخب کیا اُن پر بھی کافی اختلافات سامنے آئے۔ گویا سلیکشن کے طریق کار پر اختلافات پائے جاتے ہیں لہٰذا اعلیٰ ترین عدالت کے لئے موزوں ججوں کے انتخاب کے قواعد پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی حالیہ ویڈیو ریکارڈنگ کے بعد ہائی کورٹ کے لئے سلیکشن کا طریق کار بھی غور طلب ہے۔ اِس انتخاب میں حکومت وقت کا اپرہینڈ ہوتا ہے لہٰذا جج صاحبان کے سیاست دانوں کے ممنونِ احسان ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور یوں یہ بات انصاف کے تقاضوں پر اثرانداز ہوتی ہے لہٰذا ہائی کورٹ کے لئے ججوں کی سلیکشن کے طریق کار میں کچھ ترمیم کرنا ضروری نظر آتا ہے۔
موجودہ حالات میں تقریباً تمام ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ سیاسی مقدمات سے نبردآزما ہیں یوں عام مقدمات کی سماعت متاثر ہوتی ہے جبکہ ان عدالتوں میں لاکھوں کی تعداد میں مقدمات کے انبار موجود ہیں دہائیوں تک جن کی سماعت نہیں ہو پاتی۔ اس صورتحال میں آئینی عدالت کے قیام کی ضرورت نمایاں ہو گئی ہے تاکہ باقی عدالتیں روٹین کا کام کر سکیں۔


موجودہ بحث مباحثے میں اعلیٰ عدالتوں کی ورکنگ میں شفافیت کا سوال بھی بجا طور پر اُٹھا ہے۔ سپریم کورٹ میں سینکڑوں مقدمات Pending ہیں سوال یہ ہے کہ سماعت کے لئے کیا طریق کار ہے۔ اِس  کا عام آدمی کو علم نہیں۔ ایک زمانے تک تو کہا جاتا تھا کہ لوگ رجسٹرار آفس میں رشوت دے کر اپنا کیس لگوا لیتے تھے اب ایسا نہیں ہوتا لیکن سفارش کا عنصر تو اب بھی موجود ہے۔ مجھے خود اپنے کیس کے بارے میں کچھ ناخوشگوار تجربات ہوئے ہیں۔ پھر کیس کس بنچ میں لگنا ہے اس بارے میں بھی شفافیت نہیں یہ سوالات عدالت کے سینئر ججوں نے اُٹھائے ہیں۔ اعلیٰ ترین عدالت میں اس قسم کی صورتحال ناقابل قبول ہے لہٰذا کیس فکسنگ کے معاملے میں مکمل شفافیت بہت ضروری ہے اور سائلین کو یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ عدالت کی ویب سائٹ پر اِسے چیک کر سکیں۔
 سپریم کورٹ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے لہٰذا اِسے  حتیٰ الامکان شکوک و شبہات سے بالاتر ہونا چاہئے یہ ملک کی سلامتی اور سا  لمیت کے لئے ضروری ہے لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرے جو عدالتی نظام کا تفصیلی جائزہ لے اور ضروری اصلاحات تجویز کرے۔

مزید :

رائے -کالم -