ڈُوبتا پاکستان

   ڈُوبتا پاکستان
   ڈُوبتا پاکستان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اٹلی کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر میں ڈوبنے والی کشتی میں دیگر پاکستانیوں کے علاوہ پاکستان ویمن ہاکی ٹیم کی کھلاڑی شاہدہ رضا کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے، کئی انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی اس بد قسمت خاتون کا تعلق صوبہ بلوچستان سے تھا۔ جی ہاں، آپ بالکل ٹھیک سمجھے۔ وہی بلوچستان جہاں کے سفاک وڈیرے اپنی رعایا کی بچیوں کو اُن کی ماؤں کے سامنے اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بناتے ہیں، کمزوروں اور بے کسوں کو کئی کئی سال اپنی نجی جیلوں میں قید رکھتے ہیں جبکہ اس ظلم کیخلاف آواز اُٹھانے والوں کے سروں میں گولیاں مار کر ان کے چہروں کو تیزاب سے مسخ کر کے لاشیں کنوؤں میں پھینک دیتے ہیں۔
 پاکستان کے سبز ہلالی ”کوٹ“ پر درجنوں تمغے اور بیجز سجائے، سر پر حجاب اوڑھے اس با وقار اور جواں ہمت خاتون کی تصویر نے گہرا صدمہ دیا، جس نے اپنے تین سالہ معذور بیٹے کے علاج کیلئے ان جان لیوا راستوں سے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیاتھا۔ انٹرنیشنل ہاکی کھلاڑی شاہدہ رضا (چنٹو) پچھلے سال دو اکتوبر کو اپنے سفر پر روانہ ہوئی تھیں۔ وہ اس سے قبل چین، ملائشیا، قطر، عمان اور ایران میں پاکستان کی جانب سے ہاکی اور فٹبال مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کر چکی تھیں، شاہدہ رضا کے چار بھائی اور چار بہنیں ہیں جبکہ والد ایک غریب مزدور ہیں جسے بہتر روزگار یا پھر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔


کشتی ڈوبنے کے واقعے میں اب تک تقریباً12 بچوں سمیت 62 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، اٹلی کے جنوبی ساحل کے قریب واقع قصبے اسولا ڈی کاپو ریزوٹو میں کشتی حادثے کے متاثرین کا ایک عارضی کیمپ لگایا گیا ہے جہاں انتہائی دلخراش مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں، تباہ ہونیوالی کشتی کے مسافروں میں ایک ہی خاندان کے کئی کئی افراد سوار تھے جن میں سے کسی کے ماں باپ نہیں، کسی کے بہن بھائی یا پھر بچے بے رحم سمندری لہروں کی نظر ہو چکے ہیں جبکہ متعدد کمسن بچے ایسے بھی جن کے ماں باپ اور خاندان کے دیگر افراد ہلاک ہو گئے ہیں اورصرف کمسن بچے زندہ بچ گئے ہیں، تاہم اسی طرح ایک 43 سالہ شخص خود زندہ بچ گیا لیکن اس کی بیوی اور 5 سے 13 برس کے تین بچے زندہ نہیں رہے۔حادثے میں بچ جانیوالے افراد نے بتایا ہے تارکین وطن کی کشتی ترکی سے روانہ ہوئی تھی جس میں 200 کے قریب افراد سوار تھے، تاہم کئی دن کی مسافت کے بعد اتوار کے سمندری طوفان کے باعث یہ کشتی اٹلی کے جنوبی علاقے کروٹون میں لنگر انداز ہونے کی کوشش میں سمندری پتھروں سے ٹکرا کر تباہ ہو گئی۔ڈوبنے والوں کی لاشیں کیلابریا کے علاقے میں ساحل سمندر کے کنارے واقع ایک ریزورٹ سے برآمدکی گئیں۔ کوسٹ گار ڈز کا کہنا تھا کہ حادثے میں زندہ بچ جانیوالے افراد خود ہی ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
اٹلی میں کشتی حادثے کے بعد لیبیا میں بھی تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی جس میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اٹلی اور لیبیا میں کشتی ڈوبنے کے علیحدہ علیحدہ واقعات ہوئے ہیں، لیبیا کے شہر بن غازی کے قریب کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا، آخری اطلاعات کے مطابق طرابلس میں پاکستانی سفارتخانہ لاشیں پاکستان منتقل کرنے میں مصروف تھا۔


غیر قانونی تارکین وطن کی کشتیوں کے ان جان لیوا حادثات میں پاکستانیوں کی اموات ہمارے ملک کی بد ترین اقتصادی صورتحال، عوام کی تنگدستی اورمعاشی بد حالی کی عکاس ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا نوجوان اپنی جان پر کھیل کر بھی اس ملک سے بھاگنا چاہتا ہے۔ یہ غیر قانونی تارکین وطن تو نسبتاً کم پڑھے لکھے اور مزدور طبقہ کے ہو سکتے ہیں تاہم اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان سے ڈاکٹرز، انجینئرز، کمپیوٹرایکسپرٹس اور اکاؤٹنٹس کی بڑی تعداد پاکستان سے نکل رہی ہے،اوران پاکستانی نوجوانوں کو ملک کے اندر اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا۔روز افزوں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب کی زندگی اجیرن کر دی ہے،آٹا، چینی، گھی اور دالوں سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں،جبکہ خود ساختہ گراں فروشی کی شکایات بھی عام ہیں جن میں ماہ رمضان کے قریب آتے ہی مزید اضافہ ہو جائیگا، ان حالات میں عام پاکستانیوں کی عبادات، عیدین، تہوار، خوشیاں اور غم شدید متاثر ہوں گے۔ گزشتہ  کئی برسوں میں ملک میں کوئی نئی صنعتیں نہیں لگیں، پیداواری شعبہ بڑھنے کی بجائے سکڑ رہا ہے، روزگار کے نئے مواقع تو کجا، ملیں اور فیکٹریاں بند ہونے سے بر سر روزگار افراد بھی گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔لیکن دوسری جانب مہنگائی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔تازہ ترین خبر کے مطابق حکومت نے ایک مرتبہ پھر آئندہ مالی سال کیلئے بجلی مزید مہنگی کرنے کا اعلان کر دیا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث بجلی صارفین سے اضافی سرچارج کی مد میں ایک روپے 55 پیسے سے لیکر 4 روپے 45 پیسے فی یونٹ تک وصول کیا جائیگا اور مجموعی طور پر 335 ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکلوائے جائینگے۔ اس جان لیوا مہنگائی نے پاکستانیوں کو زندہ درگور کر دیا جس کے نتیجے میں نوجوان کسی بھی قیمت پر اس ملک سے بھاگنا چاہتا ہے۔


جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، بالکل اسی طرح پاکستان کی حکمران اشرافیہ عوام کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے کی بجائے سیاست اور اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف ہے۔لہٰذا اٹلی اور لیبیا میں ڈوبنے والی کشتیوں میں سوارافراد جو پاکستان میں اپنے بزرگوں کیلئے دوائی اور بچوں کیلئے دودھ خریدنے کی استطاعت سے بھی محروم ہو رہے تھے وہ بیچارے کشتی میں ڈوب کر ”مرتے کیا ناں کرتے“؟۔موجودہ صورتحال پر انور مقصود نے چند روز قبل ایک تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی عمر 86 برس ہو گئی ہے اور جانے کا وقت بہت قریب ہے، تاہم جس تیزی کے ساتھ لوگ اس ملک کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں انہیں ڈر ہے کہ ان کے انتقال پر فاتحہ خوانی کیلئے کوئی پڑھا لکھا یا ڈھنگ کا آدمی بھی دستیاب نہیں ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -