علم را برتن زنی مارے بَود

        علم را برتن زنی مارے بَود
        علم را برتن زنی مارے بَود

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اس کالم کو جو عنوان دیا گیا ہے وہ مولانا روم کے ایک فارسی شعر کا پہلا مصرع ہے۔ پورا شعر اور اس کا اردو ترجمہ ذیل میں درج کررہا ہوں:

علم را برتن زنی مارے بَود

علم را برجاں زنی یارے بَود

(علم کو اگر جسم پر ماریں تو سانپ بن جاتا ہے اور اگر دل پر مار دیں تو دوست بن جاتا ہے)

مثنوی مولانا روم 6جلدوں پر محیط ہے اور اردو ترجمے کے ساتھ یہ 6جلدیں پاکستان کے بڑے بڑے شہروں کے اردو بازاروں میں عام دستیاب ہیں۔ میں نے پہلی بار یہ مثنوی GHQ کی آرمی سنٹرل لائبریری، راولپنڈی میں (1985ء میں) دیکھی تھی لیکن اس میں اردو کی بجائے انگریزی ترجمہ دیا ہوا تھا۔ میں نے اسے جستہ جستہ مقامات پر پڑھا۔ کچھ سمجھ آئی اور کچھ نہ آئی۔ ویسے تو مثنوی کی زبان انتہائی سلیس فارسی ہے لیکن اس کے اندر فلسفہ و حکمت کے جو بے بہا گوہر بیان کئے گئے ہیں ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عصرِ حاضر کی مغربی دنیا کے حکماء و فضلاء نے مثنوی کے مضامین اور مولانا کی زندگی کے حالات پر درجنوں کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے چند میری نظر سے بھی گزری ہیں۔

علامہ اقبال کی بالِ جبرائیل میں منظومات کا جو حصہ شامل ہے اس میں ”پیر و مرید“ کے عنوان سے ایک طویل نظم بھی ہے۔ اقبال کی کثرتِ مطالعہ کا اندازہ کیجئے کہ انہوں نے مثنوی کے چھ دفتروں کا بڑی دِقّتِ نگاہ سے مطالعہ کیا اور پھر یہ نظم لکھی۔ اس میں اقبال اپنے آپ کو مولانا روم کا مرید ظاہر کرتے ہیں اور رومی کو اپنا مرشد تصور کرکے اس سے چند سوال کرتے ہیں۔ سوال تو اردو میں ہیں لیکن ان سوالوں کے جواب مولانا رومی کی مثنوی سے فارسی میں دیئے گئے ہیں۔ویسے ”اقبال اور مولانا روم“ ایک الگ موضوع ہے اور اس پر اردو زبان میں کئی تصانیف مل جاتی ہیں۔ اقبال اپنی ان منظومات میں رومی کو اپنا استاد اور مرشد تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا ایک مشہور شعر ہے:

پیرِ رومی خاک را اکسیر کرد

از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد

لیکن آج رومی کے جس شعر کی تفسیر اور تشریح مطلوب ہے وہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا بالِ جبرائیل کی نظم ”پیر و مرید“ ہے۔ اس نظم میں اقبال نے 24سوال ایک مرید بن کر اپنے مرشد سے پوچھے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا سوال یہ ہے:

چشمِ بینا سے ہے جاری جوئے خوں 

علمِ حاضر سے ہے دیں زار و زبوں 

اردو میں پوچھے گئے اس سوال کا جواب مثنوی کی زبان میں جو دیا گیا ہے وہ وہی ہے جو سطورِ بالا میں درج کر چکا ہوں۔ یعنی علم کو اگر تن پر مارو گے تو یہ سانپ بن کر ڈسے گا اور اگر دل پر مارو گے تو آپ کا یاروغم خوار بن جائے گا۔ قارئین کا مجھے علم نہیں لیکن میری الجھن یہ تھی کہ علم کو تن پر مارنے کا مطلب کیا ہے اور یہ سانپ بن کر انسانی جسم کو کس طرح ڈس لیتا ہے۔یہ الجھن اس وقت دور ہوئی جب میں نے مثنوی کا انگریزی ترجمہ (اور تشریح) دیکھا۔ اب کتاب کے مصنف کا نام ذہن سے نکل گیا ہے۔ اس کا استدلال یہ تھا کہ:

”علم و ہنر کے دو روپ ہیں۔ ایک روپ یہ ہے کہ اگر اس کو انسان اپنے محدود اور تنگ پہلو سے دیکھتا ہے تو یہ سخت نقصان دہ ہے اور اگر اسی علم کو انسانی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرتا ہے تو اس کے بے شمار فائدے ہیں“۔

اس نکتے کو اس مغربی مفسر نے مزید واضح کرتے ہوئے علم و ہنر کی اس شاخ کا ذکر کیا تھا جو جوہری  سائنس اور ٹیکنالوجی کہلاتی ہے۔پڑھے لکھے انسان کو جب یہ معلوم ہوا کہ ایٹم(ذرہ) کی حقیقت کیا ہے تو وہ سخت حیران ہوا۔ اس کا استدلال تھا کہ ہماری ساری کائنات جس مادے (Matter) سے بنی ہے وہ ذرات کا مجموعہ ہے۔ پتھر یا مٹی کے کسی ٹکڑے کو دیکھ لیں۔ وہ ذرات ہی کا مجموعہ ہے۔ ان ذرات کو انسان جوڑتا بھی ہے اور پھر توڑتا بھی ہے۔ اگر انسان اس ’جوڑ توڑ‘ کی حد تک محدود رہے تو یہ اس کی انسانی حد ہے لیکن جب وہ اس حد سے آگے بڑھے گا تو گویا قدرت (Nature) سے ٹکرائے گا۔ اور یہ نیچر، خدا کا دوسرا نام بھی ہے یعنی یوں سمجھ لیں کہ انسان، نیچر کے سامنے بے بس ہے۔زلزلے، ایوالانچ، سیلاب اور دوسری آفاتِ ارض و سماوی انسان کے بس میں کہاں ہیں؟

مثنوی کے اس شارح نے آگے چل کر لکھا کہ انسان نے جب یہ جاننے کی کوشش کی کہ پتھر یا کوئی اور مادی جسم (Body) ذرات کا مجموعہ ہے تو اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ اس ذرے کی خفیف ترین صورت کیا ہے۔ ہم جو ذرات ہوا میں اڑتے دیکھتے ہیں وہ بھی ذرے کی ایک خفیف سی شکل ہیں۔ لیکن جب اس ذرے کو مزید توڑا جاتا ہے اور خفیف ترین حصے کو مزید خفیف کرنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے تو ایک وقت/ مرحلہ وہ آتا ہے جب یہ ذرہ مزید چھوٹا، کم یا خفیف ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔

لیکن حضرت انسان پھر بھی باز نہ آیا اور اس نے اپنی ”مشینوں“ کے ذریعے جب ایٹم کو مزید توڑنے کی کوشش کی تو ایک دھماکا ہوا اور ساری مشین چشم زدن میں بھک سے اڑ گئی۔ اس پر کام کرنے والے انسان بھی ہلاک ہو گئے اور سارا ماحول ایک سنسان تباہی کا منظر پیش کرنے لگا۔

اگر انسان اس تباہ کاری کو دیکھ کر یہاں ہی رک جاتا تو یہ ایک اچھی بات تھی لیکن اس نے ذرے کے اس پھٹاؤ(Fission) کا راز معلوم کرنے کی ضد کی جس کے نتیجے میں ”ایٹم بم“ تخلیق ہوا۔

مثنوی کا یہ مغربی مفسر لکھتا ہے کہ:”رومی نے جس علم کو تن پر مارنے کی بات کہی ہے وہ یہی ہے کہ علم کی ایک اپنی ”حد“ ہے۔ اس علم کو اگر ”ہنر“ میں ڈھالا جائے تو اس کا نام ”ٹیکنالوجی“ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایک حد تک انسان کے دل کی یار ہے اور مار (سانپ) بن کر نہیں ڈستی جبکہ بم اگر مزید توڑا جاتا ہے تو یہ ہائیڈروجن (تھرمونیوکلر) بم بن جاتا ہے جو ایٹم بم سے ہزار گنا مزید مہلک اور تباہ کن ہوتا ہے۔

اگر 6 اگست 1945ء میں ہیروشیما پر پھینکے گئے پہلے ایٹم بم نے یک لخت ایک لاکھ جیتے جاگتے انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا تویکم نومبر 1952ء کو بحرالکاہل کے ایک جزیرے ”مارشل آئی لینڈ“ میں مائیک (Mike) نامی ہائیڈروجن بم کا جو تجربہ کیا گیا تھا وہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹم بموں سے کم از کم ایک ہزار گنا زیادہ تباہ کن تھا۔

…… مولانا روم نے علم کو ”تن پر مارنے“ کا جو ذکر کیا تھا،وہ انسان کی اسی کج ادائی اور بلنڈر کا نام تھا۔ ایسا علم اگر ’تن‘ پر مارا جائے تو سانپ بن جاتا ہے اور اگر ’من‘ پر مارا جائے تو دوست بن جاتا ہے…… ہم جانتے ہیں کہ آج انسان نے سرطان اور دوسری ہزاروں قسم کی بیماریوں کا علاج بھی ایٹم سے کیا ہے۔ یعنی وہی ایٹم جو جسم کے لئے سانپ ہے وہی جسم اور دل کے لئے علاجِ مرگ بھی ہے۔

مولانا روم نے جب یہ شعر کہا تھا تو اس وقت ایٹم (یا جوہر) کی تباہ کاری یا وفاداری کا دور دور تک کوئی نشان نہ تھا۔ لیکن علامہ اقبال کے آتے آتے اس شعر کا مفہوم زیادہ واضح اور صریح ہو کر سامنے آ گیا۔ ان کا یہ شعر اس کا ثبوت ہے:

حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو

لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں 

بارود کی ایجاد کا سہرا چینیوں کے سرباندھا جاتا ہے۔ یہ ’تانگ خاندان‘ کے زمانے میں 9ویں صدی میں دریافت ہوالیکن اس کو صرف ”آتش بازی“ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جو میلوں ٹھیلوں، شادی بیاہ یا خوشی کی تقریبات میں انار، پھلجھڑی یا پٹاخوں کی صورت میں استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن یہی بارود 11ویں یا 12ویں صدی میں جب یورپ میں وارد ہوا تو اسے خوشی کے مواقع پر نہیں، جنگ کے مواقع کے لئے استعمال کیاگیا۔ مغرب ہی نے توپ، ٹینک، ہوائی جہاز، بحری جہاز، آبدوز، میزائل اور ڈرون وغیرہ اسی بارود کے گرداگرد استوار کئے…… مولانا روم 1207ء میں پیدا ہوئے اور 60سال کی عمر پا کر 1273ء  میں فوت ہو گئے۔ وہ بلخ (افغانستان) میں پیدا ہوئے اور قونیہ (ترکی) میں مدفون ہیں۔ 1273ء یعنی مولانا کی رحلت تک ترکی (یورپ) میں توپخانہ اور اس کی تباہ کاریاں عام ہو چکی تھیں۔

کچھ عجب نہیں کہ مولانا نے ”علم را برتن زنی مارے بَود“ کا آئیڈیا  اُسی بارودی دور کے اثرات سے اخذ کیا ہو۔ لیکن اِس علم کو ”دل پر مارنے“ کا جو مفہوم ہم آج کل ”جوہر کے مثبت اثرات“ کے سلسلے میں جانتے ہیں وہ مولانا کی وفات تک سامنے نہیں آیا تھا۔ لہٰذا ”علم را بر دل زنی یارے بَود“ کا مفہوم وہی ہے جو 13ویں اور 14ویں صدی کے مشرقی اطبا کے ہاں بالعموم پایا جاتا تھا۔یہ حکیم اور طبیب حضرات اپنے علم کو انسانی جسم ہی پر نہیں دل پر بھی مارتے تھے۔ امراضِ قلب اور ان کا علاج اس زمانے ہی سے ”چل“ کر ہم تک پہنچا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -