بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رہنماؤں پر برس پڑے 

بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رہنماؤں پر ...
بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رہنماؤں پر برس پڑے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے دوران اپوزیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ کو قومی اسمبلی کی تمام مخصوص نشستیں مل بھی جائیں ، آپ وزیراعظم کی کرسی پیپلز پارٹی کے ووٹس کے بغیر نہیں سنبھال سکتے ، آپ کوعوام نے ووٹ دیئے ہیں تو اس لیے نہیں دیئے کہ آپ یہاں آ کر گالی دیں، آپ کو اس لیے ووٹ اس لیے نہیں ملے آپ یہاں آکر شور شرابہ کریں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کرتاہے تو اسے سزا دلوائیں ،ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر چھاپہ مار کر سیکرٹ دستاویز واپس لیئے گئے ۔ گرفتاری کے بعد مبینہ سائفر غیر ملکی اخبار میں چھپا، خفیہ دستاویز غیر ملکی جریدے میں چھپنا قومی سلامتی پر سمجھوتہ ہے ، ، میں وزیر خارجہ رہا ہوں ، مھے پتا ہے کہ سائفر کیا ہوتاہے ، عمران خان نے ٹی وی پر آکر کہار کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیاہے، سائفر کی کاپی دشمن کو مل جائے تو وہ ہمارا کوڈ ٹریک کر سکتے ہیں، عمران خان یہ سب جانتے تھے ، اگر دشمن کو سائفر مل جائے تو وہ اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے ، جان بوجھ کر کسی نے سائفر کاپی کو غیر ملکی جریدے میں چھاپا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال  کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کہہ رہے ہیں کہ ان کی تقریر سرکاری ٹی وی پر نہیں دکھائی گئی ، یہ روایت عمران خان نے ڈالی تھی، ہمیں یہ برقرار نہیں رکھنی چاہیے ، اس ملک کی عوام آپ کی طرف دیکھ رہی ہے ،اس بحران میں آپ سب کو وہ کردار ادا کرنا  پڑے گا کہ ہم پاکستان کو بچائیں ، پاکستان کی جمہوریت اور معیشت کو بچائیں، اگر ہمارے ساتھی کل احتجاج نہیں کر رہے ہوتے تو وہ وزیراعظم کی تقریر سنتے جس میں کچھ ایسے پوائنٹس ہیں جو میں نے بھی جوائنٹ اجلاس میں اٹھائے اور وزیراعظم نے بھی اپنی تقریر میں اٹھائیں ہیں، اگر ہم ان پر عمل درآمد کرتے ہیں تو جو بحران پیدا ہواہے اس کو ختم کرنا شروع کر سکتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ شہبازشریف نے  کہا کہ قومی مفاہمت کے چارٹر پر کام کریں، پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی یہ تجویز دی ، ہم اس کی حمایت کرتے ہیں اور ہمارے اپوزیشن کے دوستوں سے بھی اپیل کرتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہوں، اگر ہم ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں ہم سب کھیل کے قوانین، کوڈ آف کنڈکٹ پر اتفاق کرتے ہیں ،جب کرکٹ بھی کھیلتے ہیں تو کرکٹ کے قوانین ہوتے ہیں، اس کے مطابق کھیلتے ہیں، جیت ہار اللہ کے ہاتھ میں ہے ، رولز کے مطابق کھیلتے ہیں تو جیتتے ہیں اور ہارنے والا اپنی ہار قبول کرتا ہے ، ایک یہ چیز ہم آپس میں طے کر لیں تو پاکستان کے 90 فیصد مسائل حل کر سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ چارٹر آف اکنامی پر بات کی گئی، یہ بھی بہت ضروری ہے ، اس ایوان میں کسی ایک جماعت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے ، پاکستان کی عوام نے ایسا فیصلہ سنایاہے جہاں آپ کو مجبور ا مل بیٹھ کر فیصلے کرنا پڑیں گے، آپ کو قومی اسمبلی کی تمام مخصوص نشستیں مل بھی جائیں ، آپ وزیراعظم کی کرسی پیپلز پارٹی کے ووٹس کے بغیر نہیں سنبھال سکتے ، پاکستان کے عوام یہ پیغام بھیج رہے ہیں کہ وہ ہماری لڑائیوں سے تھک گئے ہیں، اگر وہ چاہتے تو وہ کسی ایک جماعت کو اکثریت دلوا سکتے ہیں، چلیں اب اکثریت نہیں دی ، اگر دیتے تو حکومت ان کی ہوتی ، عوام نے ان کو اکثریت نہیں دی،، اس لیے میں سمجھتاہوں کہ قومی مفاہت کا چارٹر یا اکنامی کا چارٹر ہو ہمیں آپس میں بات کرنی چاہیے ، اگر آپ واقعی الیکشن جیت چکے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے عوام مہنگائی ،بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے تنگ آ چکے ہیں، آپ کوووٹ دیئے ہیں تو اس لیے نہیں دیئے کہ آپ یہاں آ کر گالی دیں، آپ کو اس لیے ووٹ اس لیے نہیں ملے آپ یہاں آکر شور شرابہ کریں ، پاکستان کی عوام نے آپ کو ، مجھے اور ن لیگ کوووٹ دیا تو اس لیے دیا کہ ہم ملک کو معاشی بحران سے بچائیں ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -