تحریک انصاف کی’’چومکھی لڑائی‘‘ کی پالیسی میں "تبدیلی "۔۔۔ توپوں کا رخ کس طرف کر لیا ، کن شخصیات کو ہدف بنا لیا ؟

تحریک انصاف کی’’چومکھی لڑائی‘‘ کی پالیسی میں "تبدیلی "۔۔۔ توپوں کا رخ کس ...
تحریک انصاف کی’’چومکھی لڑائی‘‘ کی پالیسی میں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ )  سینئر صحافی افضل بٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے8 فروری کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی عبوری قیادت نے جماعت اور جیلوں میں بند لیڈر شپ کو درپیش چیلنجز سے نپٹنے کیلئے ’’چومکھی لڑائی‘‘ کی پالیسی ترک کر دی ہے ، اسی حکمت عملی کے تحت اب پی ٹی آئی “ سولو فلائٹ “ ختم کرتے ہوئے مائنس نواز ، زرداری “ سیاسی مفاہمت “ کی جانب گامزن ہے۔

 "جنگ " نےذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تحریک انصاف کی جانب سے جمعیت علما ءاسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل سمیت دیگر سیاسی رابطے بھی نئی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ علاوہ ازیں 8فروری کے انتخابات کے بعد الیکشن میں دھاندلی اور مبینہ طور پر انتخابی نتائج کی تبدیلی کے الزامات میں بھی پی ٹی آئی کی قیادت نے ٹی وی چینلز پر تبصروں ، پریس کانفرنسوں اور تقریروں میں اپنی توپوں کا رخ ریٹرننگ آفیسر اور چیف الیکشن کمشنر تک محدود رکھا اور اشارے کنائے میں بھی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید سے گریز کرتے رہے۔

 دریں اثناء نومنتخب اراکین قومی اسمبلی کے حلف ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے انتخاب ، وزارت عظمیٰ کے الیکشن اور نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف کے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی نے شدید احتجاج و نعرے بازی کی مگر ایوان کے اندر بھی تحریک انصاف نے تنقید اور نعرے بازی میں اپنے آپکو صرف اور صرف  نواز شریف، شہباز شریف ، آصف علی زرداری اور چیف الیکشن کمشنر پر الزامات تک محدود رکھا اور “ چومکھی لڑائی “ سے گریز کی پالیسی واضح طور پر دکھائی دیتی رہی۔