2018ء میں جو حکومت بنی وہ" لو میرج" تھی،2024میں" زبردستی کی شادی "ہے ، یہ شادی کامیاب ہوگی یا نہیں ؟ حامد میر بول پڑے

2018ء میں جو حکومت بنی وہ" لو میرج" تھی،2024میں" زبردستی کی شادی "ہے ، یہ شادی ...
2018ء میں جو حکومت بنی وہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ  2018ء اور 2024ء میں جو حکومتیں بنی ہیں ان میں ایک بنیادی فرق ہے ۔2018ء میں جو تھا وہ ایک لو میرج تھی اور بدقسمتی سے کامیاب نہیں ہوئی،2024ء میں جو ہوا ہے تو لگتا ہے کہ یہ زبردستی کی شادی ہے۔اگر پاکستان میں لو میرج کامیاب نہیں ہوئی تو زبردستی کی شادی کا کامیاب ہونا بہت مشکل لگتا ہے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  جب شہباز شریف تقریرکررہے تھے تو مجھے عمران خان کی 2018ء کی تقریر یا دآرہی تھی۔ اس وقت بھی کچھ ایسے ہی مناظر تھے اسوقت کی اپوزیشن بھی دھاندلی کا شور مچا رہی تھی۔2018ء اور 2024ء میں جو حکومتیں بنی ہیں ان میں ایک بنیادی فرق ہے ۔2018ء میں جو تھا وہ ایک لو میرج تھی اور بدقسمتی سے کامیاب نہیں ہوئی۔ دونوں اطراف سے کافی الزامات عائد کئے گئے ۔2024ء میں جو ہوا ہے تو لگتا ہے کہ یہ زبردستی کی شادی ہے۔اگر پاکستان میں لو میرج کامیاب نہیں ہوئی تو زبردستی کی شادی کا کامیاب ہونا بہت مشکل لگتا ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کے  پروگرام ’’نیا پاکستان ‘‘میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔