پنجاب بھر کے ٹیچنگ ہسپتال اربوں روپے کے مقروض ، لیکن پرسنل لیجر اکاؤنٹس میں کتنے سو ارب پڑے ہیں ؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں

پنجاب بھر کے ٹیچنگ ہسپتال اربوں روپے کے مقروض ، لیکن پرسنل لیجر اکاؤنٹس میں ...
 پنجاب بھر کے ٹیچنگ ہسپتال اربوں روپے کے مقروض ، لیکن پرسنل لیجر اکاؤنٹس میں کتنے سو ارب پڑے ہیں ؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ( جاوید اقبال سے )صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے ٹیچنگ ہسپتال اربوں روپے کے مقروض ہیں مگر انہی ہسپتالوں کے خزانوں کے  پرسنل لیجر اکاؤنٹس( پی ایل اے )میں تقریباً 80 ارب روپے سے 1 کھرب روپے کے درمیان فنڈز پڑے ہیں  جن پر ٹیچنگ ہسپتالوں کے پرنسپل اور وائس چانسلرز سانپ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں جن میں سے بعض بینکوں میں رکھ کر ان پیسوں سے ماہانہ بنیادوں پرکروڑوں روپے  انٹرسٹ تو لے رہے ہیں مگر جن طلباء و طالبات اور مریضوں کی فیسوں سے یہ فنڈز جمع ہیں ان پر کچھ خرچ نہیں کیا جا رہا ۔

روزنامہ "پاکستان " کے مطابق ایک حساس ادارے نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز  کو ایک رپورٹ ارسال کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبہ بھر کے خود مختار ٹیچنگ ہسپتالوں میں پی ایل اے یعنی personal ledger account موجود ہیں یہ اکاؤنٹ ہر ٹیچنگ ہسپتال میں موجود ہیں جس میں ہر ہسپتال کے اس اکاؤنٹ میں اربوں روپے موجود ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور کے تمام خود مختار ٹیچنگ ہسپتالوں  میڈیکل یونیورسٹیز میڈیکل کالجز سمیت ملتان راولپنڈی فیصل اباد گوجرانوالہ سیالکوٹ بہاولپور سرگودھا سمیت جہاں جہاں خود مختار ٹیچنگ ہسپتال موجود ہیں ان ہسپتالوں کے پی ایل اے اکاؤنٹس میں تقریباً1 کھرب روپے کے فنڈز موجود ہیں یہ فنڈز میڈیکل کالجز میڈیکل یونیورسٹیز اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی فیسوں کا پیسہ ہے اور ہسپتالوں میں جو مریضوں سے فیس وصول کی جاتی ہے وہ اس فنڈز میں پڑی ہے جسے سالہاسال سے ہسپتالوں نے اپنے مریضوں پر خرچ نہیں کیا ۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض ہسپتال اور میڈیکل یونیورسٹیز میڈیکل کالجز میں فنڈز کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے مختلف بینکوں میں رکھ کر اس پر ماہانہ بنیادوں پر سود لیا جا رہا ہے  مگر ڈاکٹروں اور مریضوں کے اس پیسے کو نہ تو ہسپتالوں پر خرچ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی مریضوں کی فلاح و بہبود پر۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر ہسپتال کروڑوں کا نا دہندہ ہے کمپنیاں پیسے نہ دینے کی وجہ سے ادویات سرجیکل سمیت دیگر ساز و سامان کی سپلائی ہسپتالوں کو بند کر چکی ہیں جس سے مریضوں اور انتظامیہ کو بحرانوں کا سامنا ہے ۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض ہسپتال آکسیجن فراہم کرنے والی کمپنیوں کے بھی نہ دہندہ ہیں اور وہ  کمپنیاں  بھی ہسپتالوں کو مریض کی سانسیں جاری رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی آکسیجن دینے کے لیے تیار نہیں بعض ہسپتال اس قدر مالی بحران کا شکار ہیں کہ آئے روز واپڈا ان کی بجلی کاٹ دیتا ہے ۔مگر ٹیچنگ ہسپتالوں کے پرنسپلز میڈیکل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز اپنے ہی ہسپتالوں میں موجود پی ایل اے  اکاؤنٹس میں پڑے  اربوں روپے اپنے ہی ہسپتالوں پر خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ہر ٹیچنگ ہسپتال کا پرنسپل یا وی سی ان فنڈز کو ہسپتال پر خرچ کرے تو ہسپتالوں کے ذمے جو قرضے ہیں وہ اتر سکتے ہیں اور ہسپتال مالی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں  ۔رپورٹ سیکرٹری صحت اور وزیر پنجاب مریم نواز  کو  بھجوا دی گئی ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ یہ فنڈز جس جس ہسپتال میں جتنا جتنا موجود ہیں ان کو خرچ کرنے کی اجازت دی جائے تو ہسپتالوں کے مسائل بڑی حد تک حل ہو سکتے ہیں مریضوں کو ادویات ملنا شروع ہو سکتی ہیں اور ہسپتالوں کے ذمے واجب الادا قرضے اتر سکتے ہیں۔

 اس حوالے سے سیکرٹری صحت علی جان خان کا مؤقف معلوم کرنے کے لیے بار بار رابطہ کیا گیا مگر وہ ملتان اور بہاولپور کے دورے پر ہونے کی وجہ سے میسر نہ سکے اس حوالے سے ان کا نقطہ نظر جلد شائع کیا جائے گا۔