گورے ہر صورت باہر نکلتے ہیں، ہفتہ میں جو کمایا ویک اینڈ پہ کھایا پیا اُڑایا پھر خالی ہاتھ واپسی، سگریٹ حُقّہ پینے کی تو کجا، آنکھ جھپکنے کی بھی فرصت نہیں 

 گورے ہر صورت باہر نکلتے ہیں، ہفتہ میں جو کمایا ویک اینڈ پہ کھایا پیا اُڑایا ...
 گورے ہر صورت باہر نکلتے ہیں، ہفتہ میں جو کمایا ویک اینڈ پہ کھایا پیا اُڑایا پھر خالی ہاتھ واپسی، سگریٹ حُقّہ پینے کی تو کجا، آنکھ جھپکنے کی بھی فرصت نہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:64
ایک گیم کے اختتام پر پھر دوبارہ اِسی طرح آغاز کر کے6 بچّے دوبارہ دس دس دفعہ بال نیچے لڑھکاتے اور وہاں جا کر وہ جتنی بوتلوں کو Dismantle کرتا ہے اُسی حساب سے نمبر مل جاتے ہیں اور گیم ختم ہونے پر رزلٹ مِل جاتا ہے کہ کون اوّل کون دوئم۔
اِس دوران گانوں کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔ ہال میں روشنی مدّھم رکھّی جاتی ہے۔ بڑی سکرینز پر اشتہاروں کی بھر مار جاری و ساری رہتی ہے۔ بال چونکہ کافی وزنی ہے۔ لہٰذا چھوٹے بچّوں کے لیے بال ایک سٹینڈ پر رکھ دیا جاتا ہے۔ جہاں سے وہ اُس کو نیچے کی طرف لڑھکا دیتے ہیں۔
لوگوں کے بیٹھنے کے لیے سٹنگ ارینج منٹ کافی ہے۔ ہال کے دائیں طرف اخیر میں ایک بڑی کینٹین ہے۔ جہاں کھانے پینے کی اشیاء میّسر ہیں اور وہاں بھی سٹنگ ارینج منٹ خُوب ہے۔ لوگ وہاں بیٹھے انجوائے کررہے ہیں۔ 
یہاں ہر رنگ و نسل کے لوگ اپنے بچّوں کو لے کر آتے ہیں۔ سکولوں میں چھٹیوں کی وجہ سے کافی رش دیکھنے میں آیا۔ یاد رہے ڈھلان پر جو بال گرایا جاتا ہے تو وہ ایک آٹو میٹک سسٹم کے ذریعے خود بخود چڑھائی چڑھ کر وہاں بنے بالز کے سٹینڈ پر آجاتا ہے اور خود بال وہاں سے لانا نہیں پڑتا۔ 
اب جناب یہاں سے جب کہانی اختتام پذیر ہوئی تو بائیں طرف لگے بیسیوں گیمز کے سٹینڈ کی طرف بچّے بھاگ کھڑے ہوئے۔ وہاں بھی ڈالروں کے چکّر، کہیں 1ڈالر ڈال کر کھیلو تو کہیں 2 ڈالر یا زیادہ جتنا گڑ ڈالو گے اُتنا میٹھا ہوگا۔ لو یہ دیکھو An Hockey Arena بالکل پنگ پانگ کی طرح کی گیم، لکھا ہے۔
One Normal Play $ 2.00
Double Deal $ 4.00
آخر تھک تھکا کر جو شوز لیے تھے وہ واپس کیے اور ہال سے باہر آئے تو پتہ چلا بارش ہو رہی ہے۔ فوراً گاڑیوں میں بیٹھے اور ہم نے تو راستے میں ایک گھر سے آن لائن خریدی 10 ڈالر میں 5 کتابیں لیں اِن میں ایک کتاب "I am Malala" کی ہے۔ اب شام ہونے کو تھی لہٰذا ڈنر کی سُوجھی تو سیدھے Stanhop Village پہنچے اور وہاں Middle Eastern Grilled Chicken کے سامنے بیٹھ گئے۔ گرلڈ چکن، روٹی اور ساتھ اَچار اور چٹنی، سافٹ ڈرنک کا آرڈر دیا اور ساتھ نزدیک ہی واقع ریسٹورنٹ سے برگر بھی لائے گئے۔ اس ریسٹورنٹ پر آسٹریلیا میں حلال برگر دستیاب ہوتے ہیں۔ تو اِس طرح ڈنر بڑی دلجمعی کے ساتھ کیا اورسافٹ ڈرنک سے لطف اند وز ہوئے اور پھر گھر کو روانگی ڈال دی۔ راستے میں سپر مارکیٹ سے الائچی لی گئی کہ کئی دن سے ناپید تھی۔ گھر یہی کوئی 7 بجے پہنچے۔ 
A Long Weekend
3 اکتوبر 2015ء اِس ویک اینڈ کے ساتھ پیر کی بھی قومی چھٹّی ہوگئی اور گھڑیاں بھی ایک گھنٹہ آگے کر دی گئیں۔ ویسے تو عام ویک اینڈ پہ بھی گورے تو ہر صورت باہر نکلتے ہیں۔ موٹر سائیکل گینگ کی صورت میں یا گاڑی کے پیچھے کشتی کھینچتے ہوئے یا پھر ایک Carvan کے ساتھ ہفتہ میں جو کچھ کمایا، ویک اینڈ پہ کھایا پیا اُڑایا اور پھر خالی ہاتھ واپسی اور ویک اینڈ پر پھر کام میں جُت گئے۔ سگریٹ حُقّہ پینے کی تو کجا، آنکھ جھپکنے کی بھی یہاں فُرصت نہ مِلے۔
ہم ایشین بیچارے آکر دیکھتے رہے کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ خواہ مخواہ خون پسینہ کی کمائی کو دو تین دن میں اُڑا کر پھر خالی ہاتھ کنگلے ہو بیٹھتے ہیں۔ لیکن کیا کریں بعض سیانوں کی باتیں لوہے پر لکیر ہوتی ہیں کہ ”خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔“ بس ہم ایشین بھی رنگ پکڑ گئے اور ویک اینڈ آتے ہی طبیعت مچلنے لگتی ہے کہ ہم کیا کسی سے کم ہیں؟ تو دیکھ لیجئے اگر ہم نے کوئی کوتاہی کی ہو؟  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -