فضائی حدود مخدوش اور آبنائے ہرمز کی بندش،عالمی معیشت پر برے اثرات،سٹاک مارکیٹیں کریش!
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا، ایرانی خود مختاری کی خلاف ورزی کی اور اس دوران سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے قریبی رفقاء کو نشانہ بنایا گیا، تو یہ صرف ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ پورے عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے مترادف اقدام تھا۔ اس کے ردِعمل میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے کیے، خطہ براہِ راست ایک ہمہ گیر جنگ کی دہلیز پر آ کھڑا ہوا۔ ایسے میں امریکی قونصل خانے کراچی کے باہر عوامی احتجاج،عالمی معیشت کی لرزش، فضائی حدود کی بندش اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں افراتفری ایک فطری تسلسل بن گیا۔
ایران پر حملہ بین الاقوامی قانون کی روح کے منافی تھا۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی بھی خودمختار ریاست پر یکطرفہ فوجی کارروائی عالمی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اگر یہ کارروائی اسرائیل کی سلامتی کے نام پر کی گئی ہو، تب بھی اسے عالمی سطح پر جواز فراہم کرنا آسان نہیں۔ ایران کے طویل عرصے سے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا تسلسل موجود ہے، تاہم براہِ راست قیادت کو نشانہ بنانا خطے میں عدم استحکام کی نئی لہر پیدا کرے گا۔
ایران ماضی میں بھی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا قیادت پر حملے کا سخت جواب دے گا۔اس نے اسرائیلی تنصیبات اور خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تو اس کے فوری اثرات نظر آنا شروع ہو گئے۔ بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک، جہاں امریکی افواج کی موجودگی ہے، براہِ راست خطرے کی زد میں آ چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں خلل عالمی تیل سپلائی کو متاثر کر رہا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
پاکستان سمیت مسلم دنیا کے مختلف ممالک میں امریکی قونصل خانوں اور سفارتخانوں کے باہر احتجاجی مظاہرے شروع ہیں۔ کراچی جیسے شہروں میں، جہاں عوامی جذبات شدت اختیار کرتے ہیں، سکیورٹی ہائی الرٹ ہو۔ ایسے مظاہروں میں جانی نقصان کا خدشہ بھی موجود تھا جو ہوا۔ عوامی ردِعمل اس بات کی علامت ہے کہ یہ معاملہ محض سفارتی یا عسکری نہیں بلکہ جذباتی اور نظریاتی بھی ہے۔
جب کسی ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ ایک خطرناک مثال قائم ہوتی ہے کل کو کوئی بھی طاقت اپنے مخالف ملک کے سربراہ کو نشانہ بنانے کو جائز قرار دے سکتی ہے۔ اس سے عالمی نظام میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے اور چھوٹے ممالک عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ روس اور چین جیسے ممالک اس صورتحال کو امریکی بالادستی کے خلاف بیانیہ مضبوط کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں، جس سے دنیا مزید بلاکس میں تقسیم ہو جائے گی۔روس اور چین نے سپریم لیڈر کی شہادت پر اپنا ردعمل دیا ہے۔امریکہ کو اسے سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے۔
ایران اور خلیجی خطہ عالمی توانائی سپلائی کا مرکز ہیں۔ جنگ میں طوالت کی صورت میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ سٹاک ایکسچینجز میں شدید مندی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایشیائی، یورپی اور امریکی مارکیٹیں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکی ہیں۔ سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہوں جیسے سونا اور ڈالر کی طرف دوڑیں لگا رہے ہیں۔ پاکستان جیسی درآمدی معیشت کے لئے تیل کی بڑھتی قیمتیں زرِمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ موجود ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور روپے کی قدر مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
جنگی صورتحال میں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک اپنی فضائی حدود بند کر چکے ہیں۔ بین الاقوامی پروازوں کے راستے تبدیل ہوں گے تو اس سے سفری اخراجات اور وقت میں اضافہ ہو گا۔ ایئرلائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لئے بھی یورپ اور مشرقِ وسطیٰ جانے والی پروازیں متاثر ہوئیں، جس کا اثر تجارت اور تارکین ِ وطن کی آمدورفت پر پڑے گا۔
پاکستان کے لئے یہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ ایک طرف ایران ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، دوسری طرف امریکہ کے ساتھ پاکستان کے سفارتی اور معاشی تعلقات ہیں۔ اسلام آباد کو غیر جانبدار اور محتاط پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ پاکستان ممکنہ طور پر کشیدگی کم کرنے کے لئے سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں دیکھا گیا۔
امریکہ اور اسرائیل ممکنہ طور پر اس کارروائی کو اپنی قومی سلامتی کے تناظر میں پیش کر رہے ہیں ، مؤقف اپنائیں گے کہ ایران کے ایٹمی یا عسکری پروگرام نے انہیں پیشگی کارروائی پر مجبور کیا۔ اسرائیل پہلے ہی ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتا آیا ہے لیکن عالمی رائے عامہ اس اقدام کو کس زاویے سے دیکھتی ہے، یہی اصل معرکہ ہوگا۔
ترکی، سعودی عرب، قطر اور دیگر مسلم ممالک کھل کر ایران کے ساتھ کھڑے ہوں یا نہ ہوں، لیکن عوامی سطح پر شدید ردِعمل موجود ہے۔ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو مسلم دنیا کے اندر سیاسی صف بندیاں بدل سکتی ہیں۔یہ پورا منظرنامہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں ہوش کے ناخن لیں۔ ایک قیادت کا قتل اور اس کے بعد جوابی حملے پورے خطے کو ایک بڑی آگ میں جھونک سکتے ہیں۔ عالمی معیشت پہلے ہی کمزور ہے؛ نئی جنگ اسے مزید بحران میں دھکیل دے گی۔ پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لئے دانشمندی اسی میں ہے کہ سفارتی راستہ اختیار کیا جائے، کشیدگی کم کی جائے اور بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنایا جائے۔اگر طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی روایت مضبوط ہوئی تو عالمی نظام انارکی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ جذبات سے بالاتر ہو کر عالمی قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، ورنہ اس آگ کی لپیٹ میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔امریکہ اور اسرائیل کے موجودہ اقدام نے اقوام متحدہ کو غیر موثر بنا دیا ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام نظر آ رہا ہے جو کرہ ارض کے لئے خطر ناک ہے۔
٭٭٭٭٭
