جنگ میں حکمت ضروری
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سینئر سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ ایران کے حوالے سے پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے،ایران نے اِس کے ردِعمل کو سراہا جبکہ چین اور روس نے بھی تائید کی۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر بھی اپنے تحفظات واضح کیے،اسلام آباد ایک مستحکم اور پُرامن تہران کا خواہاں ہے۔ سینئر سکیورٹی عہدیدار نے پاکستان اگلا ہدف ہونے کے تاثر کے بارے میں کہا کہ یہ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، پاکستان اور ایران کو عسکری،خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے، متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ ایران کے معاملات کو لے کر پاکستان میں پیش آنے والے واقعات پر تشویش کا اظہار اور اُنہیں افسوسناک قرار دیتے ہوئے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پُراَمن احتجاج ہر شہری کا حق ہے تاہم اِس کی آڑ میں تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں، ملک میں افراتفری پھیلانے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نبٹا جائے گا، چند شرپسند عناصر کو پُراَمن مظاہرین کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سینئر سکیورٹی عہدیدار نے باور کرایا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے جس کا مظاہرہ حالیہ معرکہ حق اور دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں کیا جا چکا ہے،پاکستان کی مسلح افواج اپنی بہادر اور ثابت قدم قوم کی حمایت سے دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی، کسی کو اگر اِس حوالے سے کوئی شبہ ہے تو وہ زمینی حقائق دیکھ سکتا ہے،انتشار پھیلانے والے عناصر کی جانب سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے۔ آپریشن غضب لِلحق سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو اب یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ اپنی سرزمین میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ہیں یا پھر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ افغانستان میں جاری آپریشن اُس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے پاکستان کو قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔ پاکستان کسی جلد بازی میں نہیں ہے اور افغانستان میں جاری آپریشنوں کا دورانیہ مکمل طور پر افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات پر منحصر ہے۔
وزارتِ اطلاعات اور نشریات کی آپریشن غضب لِلحق کی پیشرفت سے متعلق تفصیلات جاری کرنے کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ اِس حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کیے ہوئے ہیں، پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اُن کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ وہ جائز اہداف ہیں جو پاکستانی شہریوں، مساجد اور معصوم بچوں پر مسلط کی گئی دہشت گردی کی جنگ کے تناظر میں حق ِ دفاع کے زمرے میں آتے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ افغان طالبان حکومت اور اُن کے بھارتی سرپرست اپنے سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پراپیگنڈہ اور جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں، تمام دعوؤں کی تصدیق کی جانی چاہئے کیونکہ افغان طالبان کے سرکاری ذرائع بھی قابلِ اعتبار نہیں،پاکستان انتشار پھیلانے والے عناصر کی جانب سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور پراپیگنڈے کی سخت مذمت کرتا ہے،اِس کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں، افغانستان میں کی جا رہی تمام کارروائیاں صرف اُن خوارجی عناصر اور اُن کے حامیوں کے خلاف ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث یا معاون ہیں، افغانستان میں حکومت کی تبدیلی وہاں کے عوام کا داخلی اختیار ہے۔ آپریشن غضب لِلحق کی تفصیلات بتاتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اب تک 180 سے زائد چوکیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول پاکستان حاصل کرچکا ہے اور یہ وہ مقامات ہیں جنہیں دہشت گرد ”لانچنگ پیڈ“ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں اندھا دُھند اہداف کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ صرف اُن مخصوص انفراسٹرکچر اور تنصیبات کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جو دہشت گرد گروہوں کی معاونت میں استعمال ہو رہی ہیں۔اِس وقت مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری ہے اور ساتھ ہی پاکستان بھی افغانستان کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ سینئر سکیورٹی عہدیدار نے میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ آپریشن غضب لِلحق اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہاں موجود دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کر دیا جاتا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، اِس کا ذکر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں بھی موجود ہے، افغان طالبان حکومت پاکستان اور پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے والی قوتوں کے لئے پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے، فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور دیگر گروہوں کے طالبان کے ساتھ قریبی روابط سے یہ بات بالکل صاف ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ قطر نے مذاکرات کی کوشش کی لیکن اُس کا کوئی نتیجہ برآمد ہوا اور نہ ہی استنبول مذاکرات میں کچھ طے ہو سکا۔
سینئر سکیورٹی عہدیدار کی گفتگو سے افغانستان کے علاوہ ایران کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی کے اصولی اور متوازن پہلو نمایاں ہو کر سامنے آئے۔ پاکستان کسی بھی ملک کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کی یکساں طور پر مخالفت کرتا ہے۔اِس نے جس طرح ایران پر ہونے والے حملے کو غلط قرار دیا اُسی طرح عرب ممالک پر حملوں کی بھی مذمت کی۔ ایران سے متعلق پاکستان کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کیا جا رہا ہے، علاقائی ممالک کے ساتھ رابطہ بھی ہے، حالیہ صورتحال خاصی گھمبیر ہے تاہم پاکستان اپنی تمام سفارتی کوششیں بروئے کار لارہا ہے۔اِس میں دو آراء نہیں کہ اپنی جنگ ہر ملک نے خود ہی لڑنا ہوتی ہے، ایران بھی یہ جنگ اپنی حکمت ِ عملی کے تحت لڑ رہا ہے تاہم اُسے اپنے اہداف کا تعین بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔ ایران نے بیک وقت کئی عرب ممالک کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک میں امریکہ کی ایئر بیسز، فوجی اڈے اور دفاعی تنصیبات موجود ہیں مگر اُن سب کو نشانہ بنانا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔یہ بات اہم ہے کہ عرب ممالک نے اپنے ہاں موجود امریکی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ایران کو اسرائیل کے خلاف اپنی طاقت کا استعمال کرنا چاہئے، اسلامی ممالک تو پہلے ہی باہمی اعتماد کے فقدان کا شکار ہیں،ایسے میں وسیع پیمانے پر حملوں سے خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔ آئل ریفائنریوں اور دیگر غیر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہ صرف معاشی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایران کو مزید تنہاء بھی کر سکتا ہے،اِن حملوں سے حاصل ہونے والے فائدے شاید محدود ہوں لیکن نقصانات دیرپا اور گہرے ہو سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
