رمضان المبارک، صبر اور خود احتسابی کا مہینہ!
رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں، بلکہ ایک پوری کیفیت ہے جو اپنے آنے سے پہلے ہی فضاؤں میں ایک خاص قسم کی مہک اور دلوں میں ایک انوکھا اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ جیسے ہی شعبان کا آخری عشرہ شروع ہوتا ہے، مسلم معاشرے کے جذبوں کی لو تیز ہونے لگتی ہے اور زندگی کی ترجیحات یکسر بدل جاتی ہیں۔ یہ تیاری صرف باورچی خانے یا گھر کی دیواروں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ روح کی بالیدگی اور نظم و ضبط کی جانب ایک اجتماعی سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
خواتین، جو کسی بھی گھر کے نظام کی اصل روح ہوتی ہیں، شعبان کے آخری ہفتے میں ایک عجیب و غریب متحرک شکل میں نظر آتی ہیں۔ گھر کے کونے کونے کی صفائی، پردوں کی تبدیلی اور سحر و افطار کے لوازمات کی پیشگی تیاری ان کا خاصہ ہے۔ یہ سب اس لیے نہیں ہوتا کہ رمضان محض کھانے پینے کا نام ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری حکمت چھپی ہوتی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ جب رحمتوں کا یہ مہینہ شروع ہو، تو ان کا زیادہ تر وقت چولہے کے سامنے نہیں بلکہ مصلے پر گزرے۔ دالیں، مصالحہ جات اور افطاری کے لیے ضروری اشیاء کا پہلے سے بندوبست دراصل اس وقت کی بچت ہے جو تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی میں صرف ہونا ہوتا ہے۔ یہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ کس طرح دنیاوی ذمہ داریوں اور اخروی انعامات کے درمیان توازن پیدا کرتی ہیں۔
دوسری طرف، مردوں اور بچوں کا جوش و خروش بھی دیدنی ہوتا ہے۔ مساجد جو پہلے بھی آباد ہیں، اب وہاں کی رونقیں دوبالا ہونے لگتی ہیں۔ نمازِ باجماعت کے لیے صفوں میں اضافہ اس بات کی نوید دیتا ہے کہ امت اپنی اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔ وہ بچے جو عام دنوں میں بمشکل فجر میں اٹھتے تھے، اب بڑے شوق سے بڑوں کے ساتھ مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ یہ ہفتہ بھر پہلے کا نظم و ضبط دراصل اس بڑی روحانی مشق کی ریہرسل ہوتی ہے جو پورے تیس دن جاری رہنی ہے۔ بازاروں میں بھی ایک عجیب گہما گہمی نظر آتی ہے، جہاں ٹوپیوں، جائے نمازوں اور تسبیح کی دکانوں پر رش بڑھ جاتا ہے۔
پھر وہ مبارک شام آتی ہے جب آسمان کی وسعتوں میں باریک سی سنہری لکیر نمودار ہوتی ہے۔ چاند نظر آتے ہی پورے ماحول میں ایک نورانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب زندگی کی رفتار میں ایک ٹھہراؤ آ جاتا ہے مگر روح کی پرواز تیز ہو جاتی ہے۔ مبارکبادیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے، فون کی گھنٹیاں بج اٹھتی ہیں اور ہر چہرے پر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ مساجد سے تراویح کے لیے گونجنے والی صدا یہ پیغام دیتی ہے کہ اب قیام اور صیام کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ گھروں میں تلاوتِ قرآنِ پاک کی گونج فضاؤں کو معطر کر دیتی ہے۔ ٹی وی اور ریڈیو پر نعتِ رسولِ مقبولؐ اور صوفیانہ کلام کی صداؤں سے ایسا سماں بندھتا ہے کہ مادی دنیا کی تلخیاں پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں۔
رمضان المبارک کا سب سے خوبصورت پہلو سماجی ہم آہنگی ہے۔ کاروباری افراد، سرکاری ملازمین اور محنت کش، سبھی اپنی زندگی کی ڈور کو فجر، افطار اور تراویح کے گرد بننے لگتے ہیں۔ مسجدیں وہ مرکز بن جاتی ہیں جہاں مہینوں بعد محلے داروں سے ملاقات ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو ایک ہی گلی میں رہتے ہوئے بھی وقت کی قلت کے باعث ایک دوسرے سے کٹ چکے تھے، اب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ افطار سے قبل دسترخوانوں پر پڑوسیوں کے گھروں سے آنے والے پکوان صرف کھانے کا تبادلہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ محبتوں کی وہ تقسیم ہے جو صرف اسی مہینے کا خاصہ ہے۔
سحر کے وقت کا وہ سناٹا جس میں دور سے آتی ہوئی سحر خواں کی آواز یا مساجد کے اعلان، ایک عجیب سا سحر پیدا کرتے ہیں۔ ٹھنڈے پانی کے گھونٹ اور کھجور سے روزہ کھولنے کا وہ منظر صبر اور شکر کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ مہینہ سکھاتا ہے کہ انسان اپنی ضروریات پر کیسے قابو پا سکتا ہے اور دوسروں کی بھوک کا احساس کیسے کیا جاتا ہے۔
جیسے جیسے دن گزرتے ہیں، بازاروں کی رونق راتوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ تراویح کے بعد چہل پہل، سحری کے لیے ہوٹلوں پر رش اور پھر فجر کے بعد ایک پرسکون نیند……یہ ایک ایسا چکر ہے جس کا ہر مسلمان کو سال بھر انتظار رہتا ہے، یہ مہینہ دراصل خود احتسابی کا مہینہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم صرف گوشت پوست کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک روح کے امین ہیں جس کی غذا ذکرِ الٰہی اور انسانیت کی خدمت ہے۔ جب ہم صفائی ستھرائی، عبادات اور میل جول کی ان تیاریوں سے گزرتے ہیں، تو دراصل ہم اپنے اندر کے انسان کو نئے سرے سے دریافت کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بہاؤ، یہ نورانیت اور یہ بھائی چارہ ہی رمضان کا اصل حاصل ہے جو عید کے چاند تک ہمیں ایک بہتر انسان بنا چکا ہوتا ہے۔
