افغانستان میں خواتین پر تشدد کا قانون؟

   افغانستان میں خواتین پر تشدد کا قانون؟
   افغانستان میں خواتین پر تشدد کا قانون؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 طالبان افغانستان کی طرف سے بت پرستوں کے اُکسانے اورشہ پر پرستارانِ توحیدکو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنا کر خاک و خون میں لٹانے کا سلسلہ برسوں سے جاری رکھا ہوا تھا کہ اب ان کی خون آشام ذہنیت کا نشانہ افغان بچے، بچیاں اور خواتین بن رہی ہیں،اِس سے زیادہ ان کی ستم گری اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان طالبان کی طرف سے ایک عارضی اقتدار کے نشے میں خواتین اور بچوں پر اپنے گھروں میں ناقابل بیان ظلم و تشدد سے اپنے مظالم کی پیاس بجھانے کے لئے اذیت ناک مظالم ڈھانے کو جائز قرار دے رہا ہے اور کہا گیا ہے کہ گھروں میں بچوں اور خواتین کو مخصوص شرائط کے ساتھ ان پر ظلم ڈھانا جائز ہے اس حوالے سے وضع کردہ قانون میں کہا گیا ہے خواتین اور بچوں پر اتنا تشدد کیا جائے اور خواتین اس بے رحمانہ مار پیٹ کا نشانہ بنائی جائیں کہ ان کی ہڈیاں نہ ٹوٹیں یا ان کے جسموں پر کھلے زخم نہ آئیں، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کے زخم خون نہ نکلے،اندازہ کیجئے افغانستان کی طالبان عارضی حکومت کے کارپرداران کا کہ انہوں نے جس طرح افغانستان کے حال و مستقبل کی معمار سکول و کالجوں کی بچیوں کی آئے دن درگت بنانے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا اسے عصر حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ جو قانون بنایا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یہ طالبان حکومت کا ایک فوجداری ضابطہ ہے جو سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط کے بعد قانونی حیثیت اختیار کر گیا ہے اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شوہر اپنی بیوی اور بچوں کو اس طرح کی جسمانی سزا دے سکتا ہے۔

جس طرح طالبان افغانستان بت پرستوں کی من مرضی کے مطابق پرستانِِ توحید کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں اس کی روشنی میں ان کی یہ فطرت عیاں ہوئی ہے کہ انہیں عورتوں کا معاملہ تو کیا حق و باطل کی تمیز اور پہچان بھی دِل سے ختم ہو چکی ہے۔خواتین کے معاملے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ عورت اور مرد عزت و احترام بلکہ اخلاقی معیار کے لحاظ سے برابر ہیں آخرت میں اپنے اجر کے لحاظ سے برابر ہیں۔عصر حاضر میں کوئی بھی ذی ہوش انسان اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتا کہ یہ بھی خواتین کے کارناموں میں سے ایک درخشاں کارنامہ ہے کہ نرسوں کی حیثیت سے جانفشانی کے ساتھ ادب و احترام کے تمام تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود اسلام کی پہلی جنگ میں خواتین نے مجاہدوں کی مرہم پٹی کی،زخمیوں کو پانی پلایا اور مجاہدین اسلام کے حوصلے بلند کئے، اور اس فرمانِ خدا تعالیٰ سے ہر کوئی واقف ہے کہ بالخصوص تعلیمات اسلام کے شیدائی بخوبی جانتے ہیں کہ عورت کو اپنے بددماغ بے رحم ا ور بے پرواہ شوہر سے رہائی پانے کی بھی اجازت ہے۔

بلاشبہ اسلام اصولاً مخلوط سوسائٹی کا مخالف ہے اور کوئی ایسا نظام جو خاندان کے استحکام کو اہمیت دیتا ہے اس کو پسند نہیں کرتا کہ عورتوں اور مردوں کی مخلوط سوسائٹی ہو، مگر اِس کا حل خود اسلامی زریں اصولوں کی روشنی میں نکالا گیا ہے کہ بچے اور بچیوں کے الگ الگ تعلیمی اداروں کو ایک مستحکم اور مربوط نظام میں ڈھالا جائے تو پاکستان میں طلباء اور طالبات کے الگ الگ اعلیٰ تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیوں تک میں یہ نظام جاری و ساری ہے۔ اہل فکرو دانش اس بات پر متفق ہیں کہ اسلام معاشرہ کی اصلاح و تربیت کا سارا کام محض قانون کے ڈنڈے سے نہیں لیتا، تعلیم، نشرو اشاعت اور رائے عامہ کا دباؤ، ذرائع اصلاح میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ان تمام ذرائع کے بعد اگر کوئی خرابی باقی رہ جاتی ہے تو اسلام قانونی وسائل اور انتظامی تدابیر استعمال کرنے میں بھی تامل نہیں کرتا،بلاشبہ خواتین کی عریانی اور بے حیائی کو کوئی غیرت مند انسان برداشت نہیں کرتا،نہ ہی کوئی حقیقی اسلامی حکومت برداشت کر سکتی ہے اگر ایسی بیماریاں تدابیر سے اصلاح پذیر نہ ہوں یا ان کا وجود باقی رہے تو انہیں روکنے میں قانون کا سہارا لینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -