'' میری عمر میں ابو جی بوڑھے لگتے تھے''
خوش شکل خاتون کے لہجے میں خوشامد نہیں تھی۔ لہجہ تحسین سے بھرپور تھا۔ تعریف سچی تھی۔ ادھیڑ عمر مرد جانتا تھا، خاتو ن خوبصورت ہے تو خوب سیرت بھی ہے۔ اک عرصہ سے دوست تھے۔ خاتون جھوٹ سے پرہیز کرتی تھی۔ مرد اپنا خیال رکھنے کا قائل نہیں تھا۔ ذیابیطس کی بیماری کا خدشہ لاحق ہوا تو صاحب نے احتیاط کی، ورزش کی۔کچھ عرصہ کی محنت رنگ لے آئی۔ وہ بیماری سے بھی محفوظ رہا اور ترو تازہ بھی لگنے لگا۔ عمر سے کئی سال کم لگنے لگا۔خاتون سچے خیر خواہ کی طرح کہہ رہی تھی:-'' آج آپ جوان نہیں نوجوان لگ رہے ہیں، دس پندرہ سال چھوٹے لگ رہے ہیں، اپنا خیال رکھا کریں، ایسے ہی رہا کریں ''۔پھر جو ہوا، خاتون کی توقع کے برعکس تھا۔مرد رونے لگا، زارو قطار رونے لگا۔ خاتون گھبرا گئی۔ کچھ دیر بعد مرد نے آنسو پونچھے، بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگا:-'' عمر انسان کی نہیں، پیسے کی ہوتی ہے، روپے کی ہوتی ہے، دولت کی ہوتی ہے، سہولت کی ہوتی ہے، آسانی کی ہوتی ہے۔اس عمر میں والد صاحب اپنی عمر سے بیس تیس سال بڑے دکھائی دیتے تھے۔ وہ ادھیڑ عمر ہوئے بغیر ہی بوڑھے ہوگئے، بزرگ بن گئے۔ تفکرات ان کے چہرے پر نقش تھے۔ بچوں کو اچھا مستقبل دینے کی خواہش میں انہوں نے محاور تاً نہیں، حقیقتا ً دن رات ایک کر دیا۔ زندگی نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔بندہ مزدور کے اوقات تلخ ہوتے ہیں۔ شاعر نے بجا کہا تھا،قادر و عادل کے بنائے ہوئے جہاں میں عزت سے جینا بہت بڑا ہنر ہے۔درخت کی عمر کاربن کے دائروں سے ناپی جاتی ہے۔ مرد کی شرافت اس کے ماتھے پر محنت کے دائرے بناتی رہتی ہے۔ والد صاحب نے انتھک محنت کی۔ گرمی ہو یا سردی،بارش ہو یا طوفان، دکان سے ایک دن بھی ناغہ نہیں کرتے تھے۔ ہم بہن بھائیوں کی تعلیم کے لیے انہوں نے اپنا آپ قربان کر دیا۔ کئی دفعہ عید کے موقع پر اپنے لیے نئے کپڑے نہیں خریدتے تھے۔ جوتوں کی ایک ہی جوڑی مدتوں استعمال کرتے تھے۔ روکھی سوکھی کھا کر انہوں نے اولاد کو بہترین اداروں میں تعلیم دلوائی۔ ہمارے ہاں بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے۔ میرے چہرے پر جو شادابی، آپ کو نظر آرہی ہے، درحقیقت میرے والد کی محنت کی دین ہے۔'' خاتون نے صدق دل سے صاحب سے اتفاق کیا۔ ان کے والدین کے لیے اچھے کلمات کہے، دعائے مغفرت کی، اپنے والدین کی قربانیوں کے بارے میں بتایا۔وہ جب بھی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتا، خالق کائنات کا شکر ادا کرتا اور اپنے والدین کا بھی۔ والد صاحب کو چند خانگی اختلافات کے باعث آبائی جائیداد میں حصہ نہ ملا۔ انہوں نے تمام عمر سگے سوتیلے بہن بھائیوں سے بہترین سلوک کیا۔ کسی سے کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا۔ خاموشی سے اپنے مقصد حیات کے حصول کے لیے ڈٹے رہے۔ مقصد حیات بچوں کو اعلی تعلیم یافتہ بنانا تھا۔ تہجد میں بچوں کے لیے دعا کرنا ان کا پسندیدہ فعل تھا۔ اولاد کی تعلیم مکمل ہوئی تو انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔ وہ اپنی عمر سے برسوں بڑے نظر آتے تھے لیکن کبھی تھکے نہیں، سست نہیں پڑے، ظاہری شباہت سے زیادہ اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کے بارے میں فکر مند رہے۔ خالق کائنات نے محنت کا پھل دیا۔ وہ بچوں کے کامیاب انسان بننے کے بعد بھی کچھ عرصہ زندہ رہے۔ یہ کہانی کسی ایک شخص کی نہیں، کسی ایک مرد کی نہیں، کسی ایک عورت کی نہیں،غور و فکر کریں تو یہ کہانی گھر گھر کی ہے۔ یقین کیجیے، ہمارے والدین نے پیدل چل کر یقینی بنایا ہے، ہمارے پاس دنیا کی بہترین گاڑیاں ہوں۔ انہوں نے گاؤں میں رہ کر اتنی محنت کی ہے،آج بڑے بڑے شہروں میں ہمارے بڑے بڑے گھر ہیں۔ نجانے کیوں جو دین بزرگ والدین کو ''اُف ''تک کہنے سے منع کرتا ہے، اس کے ماننے والے آئے روز والدین کے مقام سے نا آ شنا ہوتے جا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے، ایک ماں کئی بچے پال سکتی ہے، کئی بچے نجانے کیوں مل کر بھی ایک والدہ کا خیال نہیں رکھ سکتے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کسی بھی معاشرے کے انسانی معاشرے ہونے کا سب سے ضروری انڈیکیٹر ہے۔کو رونا کے دنوں میں کئی بچے ہسپتالوں میں والدین کو دیکھنے تک نہیں آئے۔ آج بھی ہر شہر میں اولڈ ایج ہوم میں والدین اپنے بچوں کی راہ تکتے ہیں۔ جدید دور کی بہو اپنی ساس کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں۔ بچوں کو بزرگوں کا مقام بتانے کے بجائے ہم بزرگوں سے یہ توقع کرنے لگے ہیں، وہ بچوں کے لیے اپنے آپ کو تبدیل کریں۔ اگر معاشرے سے بزرگوں کے ادب کی روایت اٹھ گئی تو یقین کیجیے، برکت بھی اٹھ جائے گی۔ برکت اٹھ گئی تو سکون اٹھ جائے گا۔سکون اٹھ گیا تو انسانیت اٹھ جائے گی۔ انسانیت اور حیوانیت میں فرق مٹ گیا تو ہمارے شہر، جنگل سے بدتر ہو جائیں گے۔ اپنے گھروں کو گھر رہنے دیجیے، اپنے شہروں کو شہر رہنے دیجیے،بزرگوں سے پیار کیجیے، بوڑھے والدین کو مت خوار کیجیے۔ دنیا کا ہر مذہب والدین کے احترام کا درس دیتا ہے۔ انسانی تاریخ والدین سے محبت سے عبارت ہے۔ جوگھر بزرگ اپنے بچوں کے لیے بناتے ہیں، اسی گھر میں والدین کا وجود اضافی لگنے لگتا ہے۔بزرگ اضافی نہیں، شافی ہوتے ہیں، ہر بیماری کے لیے کافی ہوتے ہیں، شفا ہوتے ہیں، دعا ہوتے ہیں، چلتی پھرتی برکت ہوتے ہیں۔برکت کے بغیر زندگی فقط شرمندگی ہے۔ شرمندگی سے بچیں، اپنے والدین کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنیں۔پیرنٹنگ کا انتہائی اہم جز اپنی اولاد کو اپنے پیرنٹس کے مقام و مرتبے سے روشناس کروانا ہے۔ صدیوں پرانی روایت قائم رکھیے، مرحوم والدین کا ذکر زندہ رکھیے۔
