*ایسا نہ ہو کہیں گل و بلبل میں جنگ ہو*

  *ایسا نہ ہو کہیں گل و بلبل میں جنگ ہو*
  *ایسا نہ ہو کہیں گل و بلبل میں جنگ ہو*

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ اس وقت غیر معمولی سیاسی اور اسٹرٹیجک تغیرات سے گزر رہے ہیں۔ طاقت کے توازن، علاقائی اتحادوں اور پراکسی جنگوں کے تاثر نے فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں بعض  حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان کو دباؤ میں لانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ادھر بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ بھی واضح حقیقت ہے اور یہ پیش رفت خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کی سوچ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ افغانستان کی صورتحال بھی اسی تناظر میں زیرِ بحث آتی ہے۔دوسری طرف تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے مسلسل سکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ سرحد پار پناہ گاہوں اور دراندازی کے الزامات نے اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔یہ شواہد بھی موجود ہیں کہ افغان طالبان نے باضابطہ طور پر اسرائیل یا بھارت کے ساتھ پاکستان مخالف عسکری اتحاد قائم کر رکھا ہے۔

افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کا  تشفی جواب آپریشن غضب للحق کی صورت دیا گیا ہے، جس کا مطلب حق یا سچائی کے لیے غصہ یا ردعمل ہے اور یہ محض جذباتی غصہ نہیں بلکہ حق کے دفاع کی خاطر کیا جانے والا ردعمل ہے۔جس میں  پاک فوج نے افغانستان میں قائم فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حالات میں اندرونی انتشار کو رد کرنا حد درجہ ضروری ہے۔خصوصاً بیان بازی اور عملی حکمتِ عملی کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ غیر مصدقہ دعوے اکثر معلوماتی جنگ کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ ایسے بیانیے عموماً غیر یقینی کو بڑھاتے اور عوامی سطح پر اضطراب پیدا کرتے ہیں۔ پاکستانی افواج کی حکمت عملی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں، سفارتی روابط اور مؤثر دفاعی حکمت عملی پر مبنی رہی ہے۔پاکستان تاریخی طور پر ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات دفاعی اور معاشی اعتبار سے اہم رہے ہیں۔ اس توازن کو برقرار رکھنا ہی خارجہ پالیسی کی بڑی آزمائش ہے۔ان تمام خدشات کے باوجود حالیہ پیش رفت نے ایک اہم پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ملک کے طور پر پاکستان کا دفاعی ڈھانچہ کھلی جارحیت کے امکانات کو محدود کرتا ہے جبکہ داخلی استحکام اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو دباؤ میں لانا آسان نہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیا گیا انٹرویو اس امر کا واضح پیغام تھا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، اس کی حکمتِ عملی اور اس کا عزم کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس مؤقف نے نہ صرف داخلی سطح پر اعتماد کو تقویت دی بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ تاثر مضبوط کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار مگر مضبوط ریاست ہے جسے کمزور سمجھنا سنگین غلطی ہوگی۔قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ شعور، ذمہ داری اور اجتماعی کردار سے مضبوط بنتی ہیں۔ آزادی جیسی عظیم نعمت  کی قدر تب اور بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سرحدوں پر کھڑے جوان کس طرح سخت موسمی اور خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان جیسے حساس جغرافیائی محل وقوع رکھنے والے ملک میں دفاع اور داخلی سلامتی کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے۔اس تناظر میں پاکستانی افواج کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید دور کی جنگ صرف میدان تک محدود نہیں رہی۔ سائبر حملے، اطلاعاتی یلغار اور میڈیا وار بشمول پروپیگنڈہ آج کے دور کے جدید محاذ ہیں۔ پاکستانی فوج اس محاز پر بھی برسرپیکار ہے۔جب بھی میڈیا فارمز یا سرکاری چینلز کو ہیک کرنے کی کوششیں ہوئیں تو متعلقہ اداروں نے کم وقت اور جدید تکنیک کے ذریعہ ایسی صورتحال پر باوقار انداز میں قابو پایا۔ ایسے مواقع پر ریاستی ردِعمل عموماً جذباتی کے بجائے منظم اور پیشہ ورانہ ہوتا ہے۔ تاکہ پیغام واضح رہے کہ دفاعی اور تکنیکی سطح پر ملک کمزور نہیں۔ان حالات میں غیر مصدقہ خبریں انتشار کو ہوا دیتی ہیں۔جو اجتماعی طاقت کو کمزور کرتی ہیں۔ آزادی اظہار یقیناً ایک بنیادی حق ہے۔ مگر اس کے ساتھ سچائی، دیانت اور ذمہ داری  بھی لازم ہے۔ احتجاج اور تنقید جمہوری معاشرے کا حصہ ہیں۔ لیکن توڑ پھوڑ، نفرت انگیزی اور ذاتی انا کی تسکین کے لیے قومی مفاد کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل دفاع نہیں۔جب قوم یکسو ہو۔سیاسی اختلاف کے باوجود قومی سلامتی پر متفق ہو اور داخلی استحکام کو مقدم رکھے تو بیرونی دباؤ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ یہ اعتماد ہی ہے جس کی بنیاد پر شہری سکون کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک منظم دفاعی ڈھانچہ موجود ہے۔قومی وقار کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم جذباتی نعروں کے ساتھ ساتھ عملی ذمہ داری بھی نبھائیں۔ اسی طرح پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حالیہ بیانات میں بھی "اچھا جی " جیسے عامیانہ اور پر تعصب  کونٹنٹ کے باوجود ایک باوقار اور متوازن لہجہ نمایاں رہا ہے۔ ریاستی ترجمانوں نے واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں، مگر ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کی جنگ اپنی سرزمین پر نہیں لڑے گا۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا ملکی سالمیت کے حوالے سے سوال کا جواب بھی اسی اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ کہ ریاست کی وحدت اور سلامتی ہر سیاسی اختلاف سے بالاتر ہے۔ملک کے متعدد دانشور، تجزیہ نگار اور لکھاری بھی یہی مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ پاکستان کے زمینی، سیاسی اور عمرانی حقائق منفرد ہیں۔ یہاں کسی بیرونی ایجنڈے کو مسلط کرنا یا اندرونی انتشار کے ذریعے ریاست کو کمزور کرنا آسان نہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر احتجاج کے نام پر توڑ پھوڑ، ریاستی املاک کو نقصان پہنچانا یا نفرت انگیز بیانیہ اپنانا دراصل انہی قوتوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے جو عدم استحکام چاہتی ہیں۔

جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا

دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو

پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور وقار کسی ایک جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ اثاثہ ہیں۔ جب ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام ایک صفحے پر ہوں تو بیرونی دباؤ اپنی تاثیر کھو دیتا ہے، اور یہی پیغام اس وقت دنیا کو دیا جا رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -