افغا ن طلبان کے بلوچستان، خیبر پختونخوا میں 53مقامات پر حملے پسپا، 67خوارجی ہلاک 

افغا ن طلبان کے بلوچستان، خیبر پختونخوا میں 53مقامات پر حملے پسپا، 67خوارجی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) افغان طالبان کے بلوچستان میں 16اور خیبرپختونخوا میں ایک مقام پر زمینی حملے اور37مقامات پر فائرریڈناکام بنا دیئے گئے ہیں۔جوابی کارروائی میں مجموعی طور پر 67طالبان کارندے ہلاک کر دیئے گئے۔وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی طرف سے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے تازہ ترین بیان کے مطابق بلوچستان میں افغان طالبان نے شمالی بلوچستان میں قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن اضلاع میں 16 مقامات پر زمینی حملے کیے جبکہ 25 مقامات پر پاک افواج کے خلاف فائر ریڈ کی کارروائیاں کیں۔ تمام مقامات پر حملوں کو مؤثر طور پر پسپا کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں افغان طالبان کے 27 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے ایف سی بلوچستان نارتھ کے ایک جوان شہید جبکہ پانچ جوان زخمی ہوئے۔وزیر اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایک مقام پر زمینی حملے کی کوشش کی گئی جبکہ 12 مقامات پر فائر ریڈ کیا گیا، جنہیں بغیر کسی جانی نقصان کے ناکام بنا دیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے 40 کارندے ہلاک ہوئے۔ فالو اپ آپریشنز تاحال جاری ہیں۔آپریشن کی تفصیلی اپڈیٹ جلد جاری کی جائے گی۔پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں تاحال جاری ہیں، جن میں افغانستان کے صوبہ ننگرہارمیں دشمن ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے موثر فضائی کارروائی کرتے ہوئے خوگانی بیس کو تباہ کر دیا، جس سے آپریشن کے منشور کے حصول میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غصب للحق کو بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں شروع کیا گیا تھا جس کے تحت پاکستانی افواج نے افغان طالبان کے مختلف ٹھکانوں اور چیک پوسٹس پر منظم فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سیکڑوں طالبان جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے، متعدد چیک پوسٹس تباہ ہوئیں اور پاکستان کی طرف سے اپنے اہداف حاصل کرنے تک کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔یہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب دونوں ممالک کی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور معاملے پر بین الاقوامی برادری نے فریقین سے پرہیز، تحمل اور مذاکرات کی اپیل بھی کی ہے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ پاک فوج کی جانب سے جاری آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں تاحال جاری ہیں، جس میں جلال آباد میں اہم دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی کارروائیوں کے دوران جلال آباد میں طالبان کے ایمونیشن ڈیپو اور ڈرون اسٹوریج کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جس سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ کارروائیاں افغان طالبان کی مسلسل جارحیت اور سرحد پار حملوں کے جواب میں بروقت اور مؤثر اقدام ہیں۔پاک افواج کے اہلکار افغان طالبان رجیم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں اور آپریشن کے ذریعے دشمن کے اہم وسائل اور منصوبہ بندی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آپریشن غضب للحق جاری ہے اور تازہ پیشرفت میں ٹھل سیکٹر حملہ ناکام بنادیا گیا ہے اورپاک فوج نے پکتیکا میں افغان طالبان کی پوسٹ پرقبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرادیا۔ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی موثرکارروائیاں جاری، سیکیورٹی ذرائع2اور 3 مارچ کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے ٹھل سیکٹر میں در اندازی کی کوشش کی، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے حملہ ناکام بناتے ہوئے پکتیکا میں افغان طالبان کی پوسٹ پرقبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرادیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی بھرپور اور موثر جوابی کارروائی سے متعدد خارجی بھی جہنم واصل ہوئے،پاک فوج نے افغان طالبان کی مزید تین پوسٹوں کو بھی تباہ کر دیا۔ سیکیورٹی زرائع کے مطابق بلا اشتعال افغان جارحیت کا پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔

آپریشن غضب للحق

مزید :

صفحہ اول -