ط بجلی کے اوسط ٹیرف کو28.99روپے یونٹ تک لانے پر کام شروع کر دیا گیا
لاہور (نیوز رپورٹر) حکومت نے بجلی کے اوسط ٹیرف کو 28.99 روپے فی یونٹ تک لانے کے منصوبے پر باضابطہ طور پرکام شروع کردیا، ذرائع کے مطابق یکم جون 2027 سے ٹیرف ڈیفرنشل سبسڈی مکمل طور پرختم کرنے کی تیاری کر لی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کا ڈیٹا میچنگ عمل مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد 1 جون 2027 سے ٹی ڈی ایس کے خاتمے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔پاورڈویژن ملک بھر کے1کروڑ 65لاکھ بجلی صارفین کے لیے ایک نئی ہدفی سبسڈی اسکیم پر کام کر رہا ہے،جس کا مقصد صرف مستحق صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔جون 2027 تک بجلی سبسڈیز کا مجموعی حجم 1100 ارب روپے سے کم ہو کر 936 ارب روپے رہنے کا امکان نیپرا نے 2026 کے لیے اوسط قومی ٹیرف 31.59 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا ہے پاور ڈویژن کی جانب سے آئی ایم ایف کے وفد کو شعبہ توانائی کی کارکردگی، اصلاحات اور آئندہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔گردشی قرض 2027 تک 2393 ارب روپے سے کم کر کے 1346 ارب روپے تک لانے کا ہدف ہے،حکومت کا ڈسکوز کی ریکوری شرح 90 فیصد سے بڑھا کر 97.34 فیصد کرنے کا منصوبہ ہے،ڈسکوز کے نقصانات 18.3 فیصد سے کم ہو کر 14.7 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔پاور ڈویژن کا 1 کروڑ 65 لاکھ صارفین کیلئے نئی سبسڈی اسکیم پر کام جاریڈسکوز کے نقصانات 18.3 فیصد سے کم ہو کر 14.7 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔درآمدی ایندھن کا حصہ 24.2 فیصد سے کم ہو کر 20.5 فیصد تک لانے کی منصوبہ بندی ہے،بجلی پیداوار کی دستیاب استعداد کا استعمال 52 فیصد سے بڑھا کر 58 فیصد کرنے کا ہدف ہے۔
اوسط ٹیرف
