ایران میں ایسی حکومت چاہتے ہیں جو ملک کو آگے لے کرجائے: صدر ٹرمپ 

    ایران میں ایسی حکومت چاہتے ہیں جو ملک کو آگے لے کرجائے: صدر ٹرمپ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                            واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا ہے ایران کے خلاف حملوں کی تیسری لہر آنیوالی ہے،بہت لوگ استثنیٰ کیلئے درخواست کر رہے ہیں ر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  ایران میں سب کچھ ختم کر دیا گیا،ایرانی بحریہ اور اس کے مانیٹرنگ اور ریڈار سسٹم کو ختم کر دیا،ایران میں بہت اچھا کام کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ ہم نے ایران کے ساتھ مذاکرات کئے،ایران اْن ممالک پر حملہ کر رہا ہے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں،ایران کے سپریم لیڈر سمیت 49رہنماؤں کو نشانہ بنایا،ایران میں بہت سے لوگ استثنیٰ کے لیے درخواست کر رہے ہیں،ایران کے پاس اب ہوائی دفاع اور نگرانی کی سہولیات نہیں،ایران خلیجی ممالک میں صرف شہری مقامات پر حملہ کر رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ ایران کے خلاف حملوں کی تیسری لہر آنیوالی ہے،ایران میں استثنیٰ کا مطالبہ کرنے والے کسی وقت بھی ہتھیار ڈال دیں گے،آج ایران میں  مزید رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا،ایران کو بڑے نقصان کیلئے تیار رہنا چاہیے،دیکھیں گے ایران میں کیا ہوتا ہے لیکن پہلے فوجی کارروائی ختم کرنی ہوگی،ان کا کہناتھا کہ اسپین کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات ختم کررہے ہیں، میں سپین کے ساتھ جلد تمام کاروباری سرگرمیاں بند کررہا ہوں ، میں برطانیہ سے بھی خوش نہیں ہوں، تیل کی قیمتیں کچھ وقت کے لیے بڑھیں گی، پھر گر جائیں گی، ڈیموکریٹس لوزر ہیں،  ہمارے پاس گولہ بارود اور ہتھیاروں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے، ٹیرف نے ہمیں امیر ملک بنایا۔ امریکی صدر کا کہناتھا کہ ایران نے سعودی عرب،قطر،یواے ای،کویت،عمان سب کو نشانہ بنایا،امید ہے ایران تنازعے کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتیں گریں گی،آپریشن مڈنائٹ ہیمر نہ کرتے تو ایران جوہری طاقت حاصل کرلیتا ایران میں روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی حکومت کے قیام کے بارے میں پہلی بار صدر ٹرمپ نے بھی کھل کر گفتگو کی۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے بدترین صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ موجودہ قیادت کے بعد بھی ایسا شخص اقتدار میں آ جائے جو پہلے والوں سے بھی زیادہ سخت گیر ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ کارروائیوں کے بعد ایران میں کوئی ایسا رہنما آ گیا جو سابق قیادت جیسا ہی ہو تو یہ بدترین نتیجہ ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران میں ایسی قیادت سامنے آئے جو ملک کو عوام کے مفاد میں آگے لے جائے اور جہاں آزادی اظہار رائے ہو، آمریت و جبر نہ ہو۔امریکی صدر نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ تاحال بمباری کا سلسلہ جاری ہے اس دوران سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہ نکلیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں عوام کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور یہ وقت احتیاط کا ہے۔جب صدر ٹرمپ سے ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان معلوم ہوتے ہیں۔تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں قومی قیادت کے لیے ایران میں مقیم کوئی شخصیت ہی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -