قومی ہیلتھ کمیٹی کی زائد فیس وصول کرنیوالے میڈیکل کالجز کیخلاف کارروائی کی سفارش
اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ نیشنل ہیلتھ کمیٹی نے مقررہ حد سے زائد فیس وصول کرنے والے میڈیکل کالجز کے خلاف کاروائی کی سفارش کر دی۔ منگل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چیرمین سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کمیٹی نے پرائیویٹ ممبر بل "دی الیکٹرانک نیکوٹین ڈلیوری سسٹمز (ریگولیشن) بل، 2025" پر تفصیلی غور کیا۔ اراکین نے بل کے مقصد اور کوششوں کی تعریف کی لیکن وزارت صحت نے اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات سے آگاہ کرتے ہوئے ویپس کے استعمال پر مکمل پابندی کی تجویز پیش کی۔ وزارت کا موقف تھا کہ یہ آلات منشیات کی نشہ آوری میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں اور بل میں ٹیکسیشن کے پہلوؤں کو مناسب طریقے سے ایڈریس نہیں کیا گیا۔طویل مشاورت کے بعد کمیٹی نے وزارت کی تجاویز کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور ہدایت کی کہ ترامیم شامل کرنے کے بعد اگلے اجلاس میں جامع بریفنگ پیش کی جائے۔کمیٹی نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں مرکزی داخلہ پالیسی کا جائزہ لیا۔ اراکین نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمشن ٹیسٹ (ایم ڈی گیٹ) کو 50 فیصد وزن دینے کو غیر متناسب قرار دیا اور موجودہ داخلہ سکیم کا مکمل جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے مطالبہ کیا کہ ایم ڈی کیٹ کی ساخت اور جواز کا جائزہ لیا جائے اور اسے بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق بنایا جائے۔چیئرمین نے داخلہ فیس کی مقررہ حد سے زیادہ وصولی کے شکایات پر تشویش کا اظہار کیا اور پی ایم ڈی سی کو خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے ملک میں میڈیکل سیٹوں کی تعداد بڑھانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔ چیئرمین نے ایم ڈی کیٹ کا وزن 33 فیصد، انٹرویو کو 10 فیصد اور میٹرک/ایف ایس سی کو 57 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی اور پی ایم ڈی سی سے اس پر شواہد پر مبنی تفصیلی بریفنگ اگلے اجلاس میں طلب کی۔کمیٹی نے بیرون ملک سے کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی لائسنسنگ پر بحث کی اور پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی کہ جو ڈاکٹر نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (این آر ای) کامیابی سے پاس کر چکے ہیں، انہیں مقررہ تقاضوں کے مطابق میڈیکل لائسنس جاری کیے جائیں۔۔۔
قومی ہیلتھ کمیٹی
