امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں درست پیشگوئیاں کرنے والے پروفیسر ژینگ نے  ایران ، امریکہ اور اسرائیل جنگ کا نتیجہ بھی بتا دیا 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں درست پیشگوئیاں کرنے والے پروفیسر ژینگ نے ...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں درست پیشگوئیاں کرنے والے پروفیسر ژینگ نے  ایران ، امریکہ اور اسرائیل جنگ کا نتیجہ بھی بتا دیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پروفیسر ژینگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے  میں 2024 میں تین پیشگوئیاں کی تھیں  کہ ٹرمپ الیکشن جیتیں گے، ایران پر حملہ کریں گے لیکن وہ یہ جنگ ہار جائیں گے تاہم ان کی دو پیشنگوئیاں تو درست ثابت ہوئیں لیکن تیسری کا ابھی نتیجہ نہیں نکلا ہے جس پر انہوں نے غیرملکی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے تجزیے کے مطابق اس جنگ میں ایران کو امریکہ پر کئی برتریاں حاصل ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس وقت یہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور تھکا دینے والی جنگ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی اس تصادم کی تیاری پچھلے 20 سال سے کر رہے ہیں، ان کے مذہبی نظریے میں یہ جنگ بڑے شیطان کے خلاف جنگ ہے، گزشتہ سال جون میں 12 دن کی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور امریکہ کی حملہ آور صلاحیتوں کا جائزہ لیااور انہیں اس نئے حملے کی مکمل تیاری کے لیے آٹھ مہینے مل گئے، انہوں نے امریکی ذہنیت کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے، اور اب ان کے پاس امریکہ کو کمزور کرنے اور بالآخر امریکی سلطنت کو ختم کرنے کی حکمت عملی موجود ہے۔

ایران اس وقت پوری عالمی معیشت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، وہ خلیجی ممالک (GCC) کو نشانہ بنا رہے ہیں، وہ امریکی فوجی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر رہے ہیں، انہوں نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہےاور مستقبل میں وہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں کیونکہ ان ممالک کے پاس تازہ پانی کے قدرتی وسائل نہیں ہیں، دراصل خلیجی ممالک کے 60 فیصد پانی انہی پلانٹس سے آتا ہے، اگر 50 ہزار ڈالر کا ایک ڈرون ریاض میں کسی ڈیسالینیشن پلانٹ کو تباہ کر دےتو ایک کروڑ آبادی والا شہرصرف دو ہفتوں میں پانی سے محروم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہےاور خلیجی ممالک اپنی 90 فیصد خوراک اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں، لوگ عالمی معیشت پر اثرات کی بات کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں ایران اس وقت سعودی عرب، یو اے ای، بحرین اور قطر کے وجود کو خطرے میں ڈال رہا ہےاور اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ یہی خلیجی ریاستیں امریکی معیشت کا بنیادی ستون ہیں، یہ ممالک تیل ڈالر کماتے ہیں، اور پھر وہی پیسے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ کو واپس دیتے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ اس وقت امریکی معیشت بڑی حد تک AI ڈیٹا سینٹرز کی سرمایہ کاری پر کھڑی ہےاور اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہےاگر یہ ممالک تیل بیچنے یا AI میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل نہ رہےتو امریکہ کا AI ببل پھٹ جائے گااور اس کے ساتھ پوری امریکی معیشت بھی متاثر ہوگی، یعنی اس وقت امریکہ ایک انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ایمزون ڈیٹا سینٹر پر حملے کے بعد اب بڑی ٹیک کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری پر دوبارہ سوچ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور مسئلہ ہتھیاروں اور میزائلوں کی کمی کا ہے، امریکہ ایران کے خلاف مشن کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے پہلے کہ اس کے میزائل ختم ہو جائیں، مثال کے طور پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکنے کے لیے 11 انٹرسیپٹر میزائل داغے گئےاور سب ناکام ہو گئےزیادہ تر میزائل امریکہ کے تھے، ایک ایرانی میزائل تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا ہےجبکہ انٹرسیپٹر میزائل کروڑوں ڈالر کے ہوتے ہیں۔

پروفیسر ژینگ کا کہناتھا کہ امریکی فوج اکیسویں صدی کی جنگ کے لیے تیار نہیں ہے، امریکی فوجی صنعتی نظام دوسری جنگ عظیم کے بعد بنا تھا، اس کا مقصد سرد جنگ لڑنا تھا، اس وقت مقابلہ زیادہ تر طاقت دکھانے کا تھاجیسے خلا میں جانا یا چاند پر پہنچنا، اسی لیے امریکی فوجی حکمت عملی، انتہائی مہنگی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس جنگ میں، مہنگے میزائل سستے ڈرونز کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ طویل مدت میں ممکن نہیں، اس کے نتیجے میں، امریکی طاقت اور برتری کا تصور ٹوٹ رہا ہےجو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد قائم تھا، یہ صرف عالمی معیشت کی تبدیلی نہیں بلکہ پٹرول ڈالر نظام کے خاتمے کا اشارہ بھی ہےاور دنیا ایک کثیر قطبی نظام (Multipolar World) کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ یاد رکھیں کہ اگر جی سی سی ممالک ، سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور ایران اس نظام سے نکل جاتے ہیں تو پیٹرو ڈالر بھی ان کے ساتھ ختم ہو جائے گا، اس لیے امریکہ کو ان ممالک کا تحفظ کرنا پڑے گا، اور یہ ممالک مطالبہ کریں گے کہ یا تو امریکہ ایران کو جنگ بندی کے لیے بڑی رقم دے کر راضی کرے  جسے تقریباً 520 ارب ڈالر کا معاوضہ کہا جا رہا ہے یا پھر زمینی فوج بھیج کر ایران کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔مجھے معلوم ہے کہ ایران کے خلاف زمینی فوج بھیجنے کے حق میں امریکی عوام میں کوئی خاص سیاسی حمایت نہیں ہے، لیکن یاد رکھیں کہ ابتدا میں ایران پر حملوں کے خلاف بھی 78 فیصد امریکی عوام مخالف تھے۔