وزیرِ اعظم لیاقت علیخاں کی تقریر نے عوام میں اتنی یکجہتی اور لڑنے مرنے کاولولہ پیدا کر دیا کہ بھارت کو پاکستان کی سرحدوں سے افواج کو پیچھے ہٹانا پڑا
مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:325
لیاقت علی خاں کا یہ مْکّہ آنے والی نسلوں کے لیے عزم و ہمت کا نشان بن گیا۔
وزیرِ اعظم لیاقت علیخاں کی اس مؤثر تقریر نے پاکستانی عوام میں اتنی یکجہتی اور لڑنے مرنے کا عزم و ولولہ پیدا کر دیا تھا کہ بھارت کو پاکستان کی سرحدوں سے اپنی افواج کو پیچھے ہٹانا پڑا۔
وزیر اعظم لیاقت علیخاں کی شہادت کی خبر 16 اکتوبر 1951ء کی شام مغرب سے ذرا پہلے میں نے ریڈیو پر ہی سْنی۔ میں افسردہ ہو کر گھر سے باہر آیا۔ ہمارے گھر کے عقب میں ایک لکڑی کے ٹال کے قریب مجھے اپنے چند ہمجولی سکول کے دوست اور ایک بڑے مسلم لیگی کارکن بعمر تقریباً 35 سال ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ میں نے ان کے قریب جا کر انہیں وزیر اعظم پاکستان کو راولپنڈی لیاقت باغ میں منعقدہ جلسہ عام میں گولی مار کر شہید کر دینے کی خبر سنائی تو مسلم لیگی کارکن جن کا میں نام بھی بھول رہا ہوں نے میرے رخسار پر ایک چپت رسید کرتے ہوئے غصے سے کہا کہ کیسی غلط منحوس خبر بتا رہے ہو۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ خبر میں نے ریڈیو پر خود سْنی ہے۔ میں کوئی غلط بیانی نہیں کر رہا ہوں۔
پاکستان کے قیام کے بعد ابتدائی برسوں میں ہی پاکستان قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ اور لیاقت علیخاں جیسے مدبر قائدین سے محروم ہونے کے باعث سیاسی طور پر یتیمی اور دیوالیہ پن کے دور میں داخل ہو گیا۔
گورنر جنرل ملک غلام محمد اور وزیر خزانہ چودھری محمد علی، میجر جنرل سکندر مرزا جو بنیادی طور پر بیورو کریٹ تھے سیاستدانوں کے مقابلے میں طاقتور ہوتے گئے اور انہوں نے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو بھی کیبنٹ میں بطور وزیر دفاع شامل کر لیا۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے 1954ء میں شریف النفس سیاستدان وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے ایک مزید بیوروکریٹ سفارتکار محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم بنا دیا۔ جلد ہی پاکستان قانون ساز اسمبلی جو پاکستان کا پہلا آئین بنا چکی تھی صرف آخری ریڈنگ باقی تھی، کو بھی توڑ دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم کے عہدہ سے فارغ کر کے حسین شہید سہروردی کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ جلد ہی حسین شہید سہروردی کے بعد چودھری محمد علی وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار 1956ء میں پاکستان کا پہلا آئین قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا۔ حسین شہید سہروردی نے جو پرانے سیاستدان اور اعلیٰ پائے کے وکیل /قانون دان بھی تھے، نے بطور لیڈر آف اپوزیشن پہلا آئین تیار کرنے اور پاس کروانے میں تعاون کرتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔ اس طرح پاکستان اپنی آزادی کے نو سال بعد 23 مارچ 1956ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بن گیا جس کے تب گورنر جنرل میجر جنرل سکندر مرزا صدر پاکستان منتخب ہو گئے۔ لیکن وزیر اعظموں کو جلدی تبدیل کرنے کا کھیل نہ رک سکا۔ جلد ہی چودھری محمد علی وزیر اعظم پاکستان کے خلاف قومی اسمبلی نے عدم اعتماد کا ووٹ پاس کر دیا اور آئی آئی چندریگر وزیر اعظم منتخب ہو گئے جو 3 ماہ کے بعد اس عہدہ سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے۔ جس کے بعد قومی اسمبلی نے ملک فیروز خاں نون کو وزیر اعظم پاکستان منتخب کیا۔ ملک فیروز خاں نون قائد اعظم کے آخری درجے کے ساتھیوں میں سے تھے اس کے باوجود ان کے کردار کی بلندی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو انڈسٹری لگانے سے منع کر دیا جب تک کہ وہ وزیر اعظم رہے۔ اْن کا دوسرا کارنامہ گوادر بندرگاہ جو ریاست مسقط و عمان کی ملکیت ہوتی تھی کو خرید کر پاکستان میں شامل کرنا تھا۔جس میں ان کی لائق فائق بیگم وقارالنسا ء نون کا اہم کردار تھا۔ اگر 7 اکتوبر 1958ء کو ایوبی مارشل لاء کا نفاذ نہ ہوتا تو ملک فیروز خاں نون اگلے ماہ نومبر 1958ء میں 1956ء کے آئین کے مطابق پاکستان کے پہلے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر چکے تھے۔ اس دور کی آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر، صوبہ سرحد (موجودہ کے پی خیبر) کے مردِ آہن خان عبدالقیوم خان انتخابات کی تیاریوں میں دیگر پارٹیوں ریپبلکن پارٹی، عوامی لیگ، عوامی نیشنلسٹ پارٹی وغیرہ وغیرہ کی نسبت زیادہ سرگرم عمل تھے اور انتخابی جلسوں اور جلوسوں سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کی عوامی پذیرائی اور مقبولیت کا اندازہ ان کے گجرات تا گوجرانوالہ 35 میل لمبے جلوس سے بھی لگایا جاتا تھا اور عام خیال یہ تھا کہ 1958ء کے الیکشن کے بعد پاکستان مسلم لیگ خان عبدالقیوم خاں کی قیادت میں حکومت بنائے گی۔ اسی کے باعث صدر مملکت میجر جنرل سکندر مرزا اور وزیر دفاع جنرل ایوب خاں کی باہمی سازباز سے 7 اکتوبر 1958ء کو مجوزہ انتخابات سے عین پہلے ملک کے دونوں حصوں، مشرقی و مغربی پاکستان میں مارشل لاء کا نفاذ کر دیا گیا۔ مشرقی و مغربی پاکستان کے سیاستدانوں کی کاوش سے متفقہ طور پر بنائے گئے 1956ء کے پہلے آئین کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور تمام سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ اس طرح 1956ء کے آئین کے تحت جس جمہوریت اور جمہوری عمل کا آغاز ہوا تھا اس کی بساط لپیٹ دی گئی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
