”ظاہر پرستی“

”ظاہر پرستی“

جیریمی بینتھم ایک ایسے فلاسفر ہیں، جن کے نظریات نے جدید فلاحی ریاست کے خدوخال کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اُن کے بقول انسانی زندگی کی راہ کو متعین کرنے میں دُکھ اور سُکھ دو عوامل ہیں۔ کسی بھی چیز کے اچھے یا بُرے ہونے کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سکھ اور راحت پہنچا سکتی ہے یا نہیں؟.... گویا ادارے ہوں، رسم و رواج ہوں یا قاعدے قانون، اُن کی افادیت کو پرکھنا ایک عام آدمی کے لئے بینتھم کے فلسفے کی روشنی میں بہت آسان ہو گیا۔ جمہوریت ایک نظام ہے، جس میں اکثریت اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتی ہے تاکہ وہ ایسے قوانین اور نظم وضع کریں، جس میں سب کی بہتری، خوشی اور خوشحالی ممکن ہو سکے اور سب کے دُکھ درد کم ہو سکیں۔ دورِ حاضر کے بہت سے معاشروں نے جمہوریت کا تجربہ کیا ہے اور یہ دریافت کیا ہے کہ یہ نظام اکثریت کے لئے فلاح اور سُکھ کا باعث بنا ہے۔گویا جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جس کی روح اکثریت، یعنی عوام کی بہتری ہے، لیکن اگر جمہوریت کا نظام بھی موجود ہو، مگر عوامی بہتری اور خوشحالی عنقا ہو تو، ایسی جمہوریت کھوکھلی اور حقیقی روح سے عاری ہوتی ہے اور محض ظاہر پرستی کے زمرہ میں آتی ہے۔

یہی بات انوکھے دیس میں پائی جانے والی ظاہر پرستی پر بھی صادق آتی ہے۔ واضح رہے کہ انوکھا دیس ایک تخیلاتی دیس ہے اور کسی بھی خطے سے مماثلت محض اتفاقی ہو گی۔ انوکھے دیس میں ادارے ہوں یا معاملات، ان میں دکھاوے اور ظاہری پہلوﺅں کو اولیت دی جاتی ہے اور چیزوں کے اصل فلسفے اور جوہر کو بھلا دیا جاتا ہے کہ رسم اذان تو رہ جاتی ہے، لیکن روحِ بلالی نہیں ہوتی.... مثلاً روزے ہی کو لیجئے۔مقصد تو تزکیہ تفس تھا۔ خود بھوک پیاس کے کرب سے گزریں تاکہ دوسروں کی محرومیوں کا احساس ہو اور اپنا پیٹ کاٹ کر دوسروں کے کام آنے کا جذبہ بیدار ہو، مگر ہوا کیا؟ لوگ سحری اور افطاری کے لوازمات میں اُلجھ کر رہ گئے....غالب نے کہا تھا:

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے

رُکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

روزے کے دوران دن بھر کی بھوک اور پیاس نے شام کو سموسوں، پکو ڑوں، فروٹ چاٹ، دہی بھلوں، دودھ، سوڈے، جلیبیوں اور پھر کھانے پر حملہ آور ہونے کا جذبہ اور حوصلہ عطا کر دیا۔ کسی کو روزے کی اصل غرض و غایت سے کوئی غرض نہ رہی۔ اِسی طرح انوکھے دیس میں کبھی کبھار پائی جانے والی جمہوریت میں بھی ظاہر پرستی کا پورا اہتمام رکھا گیا ہے، لنکن نے جمہوریت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وہ طرز حکومت ہے، جس میں لوگوں کی حکومت، لوگوں کے لئے اور لوگوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ انوکھے دیس میں بھی اس کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے، مگر شاید لوگوں سے مراد کچھ خاص لوگ ہوتے ہیں۔ عوام نہیں۔ پوری دُنیا میں چونکہ جمہوریت کا چلن تھا، لہٰذا انوکھے دیس میں بھی اس کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جو بھی لوازم اس کے لئے درکار تھے، بہم پہنچائے گئے۔ خرچ کروڑوں کا ہوا یا اربوں کا، ذرا پرواہ نہ کی گئی۔ دیکھا گیا کہ جمہوریت کے لئے پارلیمنٹ ہاﺅس اور اسمبلیاں بہت ضروری ہیں، تو دوسرے ملکوں کی ایسی عمارتوں سے مہنگی اور عظیم الشان تعمیرات کی گئیں تاکہ جمہوریت سے ہمارے وابستگی شک و شبہ سے بالا تر رہے۔ الیکشن چونکہ جمہوریت کے لئے ضروری ہوتے ہیں، اس لئے خرچ کی پرواہ کئے بغیر ان کا انعقاد بھی گاہے بگاہے ہوتا رہا، کیونکہ یہ واحد ذریعہ ہیں، جس سے قوم اپنے نمائندوں کو چنتی ہے۔ لوگوں نے بھی کسی مشکل، کسی تکلیف کی پرواہ نہ کی۔ انہیں ٹرالیوں پر سوار ہونا پڑا یا گدھا گاڑیوں پر، چار پائیوں پر لیٹ کر آئے یا کندھوں پر چڑھ کر، بیلٹ پیپر کی سمجھ آئی یا نہ آئی، انہوں نے اپنے نمائندوں کو چُنا۔ کیوں؟ کیونکہ یہ جمہوریت کے لئے ضروری ہوتے ہیں اور پھر ان نمائندوں کے تحفظ، عیش و عشرت اور حرص کی تسکین کے لئے وہ اقدامات کئے گئے کہ ایسے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے پانڈا کے تحفظ کے لئے بھی نہ کئے ہوں گے۔ انہیں چھینک بھی آئی، تو اُن کا علاج برطانیہ اور امریکہ کے ہسپتالوں میں ہوا تاکہ دُنیا کو ہمارے جمہوریت پر پختہ ایمان کا بین ثبوت مل جائے، ہر طرح کے مالی مفاد کے مواقع ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیئے گئے تاکہ وہ یکسو ہو کر جمہوریت کے فروغ کے لئے کام کریں۔

انوکھے دیس کے نمائندوں نے خوب جوہر دکھائے۔ اسمبلیوں کے طویل سیشن میں بھی براجمان رہے۔ لاتعداد مجالس ہائے قائمہ اور حزب اختلاف کی نوک جھونک کا بھی بندوبست کیا۔ عوام جلسے اور جلوسوں کا التزام بھی کیا۔ زبانی جمع خرچ کے بھی ڈھیر لگا دیئے، مگر عوام کے ہاتھ کیا آیا۔ وہ جو گیدڑ کے ہاتھ جنگلی جانوروں کے رہنما بندر کی وساطت سے آیا.... کہتے ہیں کہ جنگل کے کمزور جانوروں نے درندوں کے مظالم سے تنگ آ کر ایک یونین بنائی، جس کا لیڈر اپنے شاطر پن سے بندر بن گیا۔ ایک روز ایک گیدڑ اپنے رہنما کے ہاں شکایت گزار ہوا کہ اُس کے بچے کو ایک ظالم شیر لے گیا اور اُس کی رہائی کا چارہ کیا جائے۔ بندر نے یہ سنا سو ایک درخت پر چڑھ گیا۔ وہاں سے اُترا تو دوسرے درخت پر چڑھ گیا، پھر لگاتار درختوں پر اُترتا اور چڑھتا رہا۔ کافی دیر کے بعد گیدڑ نے اُکتا کر کہا کہ سرکار آپ کن چکروں میں ہیں، تو بندر نے جھٹ جواب دیا کہ میر اُترنیاں چڑھنیاں دیکھ۔ تیرے بچے کا اللہ وارث ہے۔ عوام مہنگائی، غربت، مفلوک الحالی، بدعنوانی، رشوت ستانی، علاج معالجہ کی عدم دستیابی، تعلیم سے محرومی کے عفریتوں کے چنگل میں پھنسے رہے اور انوکھے دیس کے نمائندے ان کو اپنی ”آنیاں جانیاں“ دکھاتے رہے۔ اُن کی پیجارو کا دھواں عوام کے منہ پر کالک ملتا رہا اور یہ فلک کو چھوتے رہے۔ اُن کے کلف لگے کپڑوں کی پھبن اور ٹیڑھی گردنوں کی اکڑن عوام کے مقدر کی سختی میں ڈھلتی رہی، مگر یہ بے نیاز رہے۔ خود تو امریکہ اور یورپ میں علاج کرواتے رہے اور عوام اسپرین کی گولی کو بھی ترستے رہے۔

اپنے چمکتے دمکتے جوتوں کے تلے کتنی ہی خود داریوں کو کچل ڈالا، مگر ان کی جوئے احساس میں کسی تشویش کی لہر نہ اُٹھی اور فٹ بال کے نہ ہونے کی طرح، یہ اِک عذاب ہی تھا کہ جمہوریت کے سبھی لوازم تو تھے، مگر عوام کی فلاح اور بہتری جو کہ جمہوریت کی روح ہوتی ہے وہ انوکھے دیس میں عنقا ہی رہی۔

عوام تو اس جمہوریت کی راہ دیکھ رہے ہیں، جس میں خلیفہ وقت بھی اپنی ساری عظموں اور رفعتوں کے ساتھ اپنی باری پر گھوڑے پر سواری کرتا اور خادم کی باری پر گھوڑے کی لگام پکڑ کر خادم کو سواری کرواتا ہے۔ عوام کو وہ جمہوریت چاہئے ،جس میں کوئی بھی کھلی کچہری میں کھڑا ہو جائے اور حکمران وقت سے اس کے کُرتے کی لمبائی کا جواز طلب کر سکے نہ کہ وہ جمہوریت جس میں عوام حکمرانوں کی حرص و آز کی وسعتوں کو ہی نہ پا سکیں۔ ایسی جمہوریت جس میں خلیفہ، فرا¿ت کے کنارے بھوکا مرنے والے کتے کے لئے اپنی ذمہ داری پر لرزہ براندام ہو نہ کہ وہ جمہوریت جس میں انسان بھوک و افلاس سے تنگ آ کر شاہی دربار میں جل کر مر جائے اور حکمرانوں تک اس کی تپش بھی نہ پہنچے۔ جمہوریت کی وہ جھلک اور رو چاہئے، جس میں سردار اُمت کی طرح رہنماﺅں نے پیٹ پر باقیوں سے زیادہ پتھر باندھے ہوں، نہ کہ وہ بدنام جمہوریت، جس میں انسانوں کو صاف پانی میسر نہ ہو اور حکمران میزوں پر منرل واٹر کی بوتلیں سجائے بیٹھے ہوں۔ قوم کو وہ جمہوریت چاہئے، جس میں صدر، ناقص کیک ملنے پر بھلے ناراض ہو تو کبھی اُس کی پیشانی اس بات پر بھی شکن آلود ہو کہ عوام کی اشیائے خورو نوش ملاوٹ سے پاک اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کیوں نہیں۔

ٹونی بلیئر نے برطانیہ کی وزارت ِ عظمیٰ کے دوران اپنے بچوں کو ٹیوشن شروع کروائی۔ مقصد یہی ہو گا کہ ان کی پڑھائی میں استعداد بڑھ جائے ، مگر پورے برطانیہ میں طوفان کھڑا ہو گیا کہ وزیراعظم نے اپنے ایجوکیشن سسٹم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے، کیونکہ اُس کے بچوں کو ٹیوشن کی ضرورت محسوس ہوئی۔ وزیراعظم کو پوری قوم کا خیال کرتے ہوئے، قومی تعلیمی نظام کو بہتر کرنا چاہئے نہ کہ انفرادی بہتری کے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ وزیراعظم نے قوم سے معذرت کی اور ٹیوشن کا سلسلہ بند کر دیا۔ قیاس غالب ہے کہ اپنے تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے ٹونی بلیئر نے کوششیں کی ہوں گی، مگر انوکھے دیس میں اداروں اور نظام کو بہتر بنانے کی بجائے، سب اپنے اپنے پیٹ کے لئے اپنی اپنی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ جمہوریت کے سارے لوازم ہیں، مگر عوامی بہتری نہیں ہے۔ شاید اِسی کا نام عذاب ہے۔ اللہ انوکھے دیس کو اس عذاب سے بچائے اور جمہوریت اپنی اصل روح اور جوہر کے ساتھ وہاں پھلے پھولے۔

مزید : کالم