رانا نذر الرحمن: ایک عہد ساز شخصیت!

رانا نذر الرحمن: ایک عہد ساز شخصیت!
رانا نذر الرحمن: ایک عہد ساز شخصیت!

  

رانا نذر الرحمن ایک شخص نہیں، شخصیت کا نام ہے۔ ایک عہد ساز شخصیت ، ایک زندہ حقیقت۔ ایک ”لِونگ لیجنڈ“ Living legend۔

وہ انجمن شہریانِ لاہور کے صدر ہیں۔ انہیں اس انجمن کا سب سے پہلا سیکرٹری جنرل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انجمن شہریانِ لاہور کیا ہے؟.... یہ ایک انجمن ہے مگر وہ اداکارہ انجمن یا وہ انجمن نہیں جس کے بارے میں حضرتِ نُوح ناروی کو کہنا پڑا تھا:

وہ کہتے ہیں آو¿ مری انجمن میں مگر مَیں نہیں اب وہاں جانے والا

کہ اکثر بُلایا، بُلا کر بٹھایا، بٹھا کر اُٹھایا، اُٹھا کر نکالا

یہ انجمن 1967ءمیں رجسٹر ہوئی اگرچہ رانا صاحب رفاہی کام اس سے پہلے بھی کر رہے تھے۔ انجمن شہریان لاہور کے اہم اغراض و مقاصد چار نکات پر مشتمل ہیں:

٭....اہلِ لاہور کے شہری مسائل کوآئینی طریقے سے حل کرنے کی جدوجہد۔

٭.... شہرِ لاہور میں ایک ایسے اجتماعی ضمیر کی تشکیل جو، ہر بُرائی پر کھٹک محسوس کرے اور ظُلم کے خلاف مظلوم کی حمایت کرے۔

٭.... لاہور کے شہریوں میں حساسِ ذمہ داری پیدا کرنا۔

٭....لاہور کے شہریوں میں قومی اور بین الاقوامی مسائل کا شعور پیدا کرنا۔

رانا نذر الرحمن کی لگ بھگ نصف صدی لاہور کے شہریوں کے لئے انہی مقاصد کے حصول کی جدوجہد میں گزری ہے اور باقی بھی گزر رہی ہے۔ وہ مفکرِ پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے شیدائی ہیں۔ بقولِ خود انہوں نے سید نذیر نیازی مرحوم سے اقبال سبقاً سبقاً پڑھا۔ نذیر نیازی پنجاب یونیورسٹی میں ان کے اُستاد بھی رہے۔ رانا صاحب ایم اے اسلامیات کے اُس پہلے گروپ میں شامل تھے، جس کے سربراہ علامہ علاو¿ الدین صدیقی تھے، جو بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس کرم الٰہی چوہان، جسٹس غضنفر گوندل اور جسٹس قربان صادق لاءکی کلاسز میں ان کے کلاس فیلو تھے۔ سیاستدانوں میں ملک محمد قاسم، ایس ایم ظفر، ملک اللہ یار، مہر خداداد لک اور بہرہ ور سعید اخوند زادہ کے علاوہ گوجرانوالہ کے مشہور ادیب، شاعر، ماہر تعلیم سابق پرنسپل پروفیسر اسرار احمد سہاوری مرحوم بھی رانا صاحب کے کلاس فیلو رہے۔ زمانہءطالب علمی میں وہ اسلامی جمعیت طلباءلاہور کے ناظم بھی رہے۔

کاروباری عملی زندگی کے آغاز میں مشہور زمانہ پاک ٹی ہاو¿س کے سامنے دینا ناتھ مینشن میں ”دی برادرز“ کے نام سے سائنٹیفکس انسٹرومنٹ کی بہت بڑی دکان تھی۔ We Brothers عموماً مرجع ِ خلائق بنی رہتی۔ ”پاک ٹی ہاو¿س“ میں جب شعراءو ادباءکا ہجوم بڑھ جاتا اور جگہ کی تنگی ہو جاتی تو اکثر شعراءو ادباءکی نشست ”دی برادرز“ میں جمتی۔ اُس زمانے میں لپٹن کی عمدہ چائے کی پیالی دو آنے میں مل جاتی تھی، مگر ”دی برادرز“ کا ایک ہفتے کا چائے بل اکثر اوقات 900 روپے تک جا پہنچتا تھا جو تینوں پارٹنر سید شبیر احمد، عزیز الرحمن خان اور رانا نذر الرحمن ادا کرتے تھے۔

رانا نذیر الرحمن لاءگریجوایٹ ہیں مگر وکالت کبھی نہیں کی، تاہم اُن کی تعلیم، اُن کی علمی استعداد اور ذکاوت و فطانت و ذہانت اُن ذاتی مقدمہ بازیوں میں زندگی بھر کام آئی۔ وہ اپنی مدلل گفتگو سے مخاطبین کو لاجواب کرنے کا ہُنر جانتے ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں۔ مستند تاریخی حوالوں سے مزین اُن کی ہر بات بھرپور توجہ کھینچے بنا نہیں رہتی۔ قانونی موشگافیوں میں وہ سینئر قانون دانوں کے بھی کان کترتے ہیں۔ ایسی متعدد تحریری مثالیں اُن کی سرگزشت ”صبح کرنا، شام کا“ میں دیکھی، پڑھی جا سکتی ہیں۔

رانا نذر الرحمن ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو اپنا رہبر و مُرشد گردانتے ہیں۔ اُنہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جب لاہور میں 1953ءکی تحریکِ ختم نبوت کے نتیجے میں جنرل محمد اعظم خان کے سخت قسم کے مارشل لاءکے تحت مولانا مودودی کو ملٹری کورٹ سے پھانسی کی سزا سنائی گئی تو اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کئے جانے کی پہلی پہلی اطلاع مولانا کو رانا صاحب ہی نے پہنچائی تھی....

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے نیاز مندی کے ساتھ ساتھ رانا صاحب کی خاصی بے تکلفی بھی رہی اور مولانا بھی دلچسپ انداز میں اکثر اُنہیں ہدف بنا لیا کرتے تھے۔ ایسا ہی ایک شگفتہ واقعہ مَیں نے اپنی مرتب کردہ کتاب ”لطائف الادب“ میں محفوظ کر رکھا ہے کہ ایک بار مولانا مودودی ایئر پورٹ جا رہے تھے۔ رانا اللہ داد گاڑی چلا رہے تھے اور رانا نذر الرحمن ساتھ بیٹھے تھے کہ انجمن شہریان لاہور کا ذکر چھڑ گیا۔ مولانا مودودی نے پوچھا: کون لوگ اسے چلا رہے ہیں؟

رانا نذر الرحمن نے بتایا کہ ”مَیں سیکرٹری جنرل ہوں اور رانا داد اللہ صدر ہیں“.... یہ سُن کر مولانا کے چہرے پر ایک خاص مسکراہٹ نمودار ہوئی جو کوئی پُر لطف جُملہ کہنے سے پہلے آیا کرتی تھی۔ مولانا نے کہا:

”خدا لاہور کے شہریوں پر رحم کرے جو دو رانوں کے بیچ ہیں“....!

رانا نذر الرحمن جمعیت و جماعت سے نظامِ اسلام پارٹی اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سے ہوتے ہوئے آج کل عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اپنی جولان گاہ بنائے ہوئے ہیں.... وہ ایک زندہ دل، جواں عزم، ہمہ دم، رواں دواں87 سالہ مستعد اور چاق و چوبند بزرگ ہیں۔ آواز میں خاص طَنطَنہ ہے۔ قائداعظمؒ کی طرح کمر سیدھی، کڑی کمان ہے۔ زبان ان کے دل کی ترجمان ہے۔ حق گُو، راست باز، آئینِ پاکستان کی مشہورِ زمانہ شق62، 63 پر کماحقہ پورا اُترنے والے دیانتدار ولولہ انگیز سیاستدان ہیں۔

رانا نذر الرحمن کھلانے پلانے کے معاملے میں خاصے کشادہ دست واقع ہوئے ہیں۔ اُن کا دستر خوان وسیع ہے۔ نوکروں، چاکروں کو بھی اپنے جیسا ہی انسان سمجھتے ہیں جو خود کھاتے ، وہی انہیں کھلاتے ہیں۔ اکثر بڑے لوگوں کے گھرانوں کی طرح نوکروں کے لئے الگ سے ہنڈیا نہیں پکتی....!

رانا صاحب کتابیں خرید کے پڑھنے اور اُنہیں سنبھال کے رکھنے کا بھی ذوق و شوق رکھتے ہیں۔ اچھی موسیقی سُننے کے ساتھ ساتھ مشاعروں اور شعر و شاعری کو بھی پسند کرنے والے صاحب ذوق بزرگ ہیں۔ فلمیں بھی دیکھتے رہے ہیں۔ اچھی فلموں کا تذکرہ پورے سیاق و سباق کے ساتھ کرتے ہیں۔ اُنہیں اُردو، فارسی، پنجابی کے سینکڑوں اشعار یاد ہیں۔ گفتگو میں انگریزی کا استعمال بھی بخوبی کرتے ہیں۔ اشعار کو یاد رکھنے اور موقع محل کے مطابق برتنے کے گُر سے بھی واقف ہیں، مگر اگر کوئی ان اشعار کو وزن، اوزان کی ترازو پر تولنا، پرکھنا چاہے تو یہ کارِ عبث ہی ہوگا۔ وقت کے زیاں کے بجائے رانا صاحب کی خوبیءگفتار سے حَظ اٹھانا چاہئے اوربس!

رانا صاحب نظم و نثر میں اپنے سامع کو پوری طرح جکڑ کے رکھتے ہیں ان کے سامنے کسی کو دَم مارنے کا موقع کم ہی ملتا ہے کیونکہ وہ یہ موقع فراہم کرنے کے عموماً روا دار نہیں ہوتے....!

رانا نذر الرحمن کی زندگی طالب علمی کے دور سے ہی ہنگامہ خیزیوں سے عبارت ہے۔ لاءکالج ہاسٹل میں جب تیرہ چودہ لڑکے کہیں سے ایک لڑکی کو لے آئے اور شب بھر باری باری تختہءمشق ہَوس بناتے رہے تو صُبح دَم لڑکی کی حالت غیر ہو جانے پر رانا نذر الرحمن ہی مدد کو آئے اور پرنسپل کے نہ چاہنے کے باوجود ان تمام لڑکوں کو ہاسٹل سے نکلوا کر چھوڑا۔ اس مقصد کے لئے اپنے ایک ہیوی ویٹ پٹھان دوست کی عملی مدد اس طرح حاصل کی کہ وہ ایک ایک لڑکے کا سامان اُٹھا اُٹھا کر کمروں سے باہر پھینکتا رہا اور لڑکوں کو اُس سے ٹکر لینے کی جرا¿ت نہ ہو سکی۔ طالب علمی کے دور کے اس کامیاب معرکے کے بعد عملی زندگی میں انجمن شہریانِ لاہور کے سرگرم سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے ایک وقوعے سے نبرد آزما ہونے کا معاملہ دو لڑکیوں کا مشہور زمانہ اغواءکیس تھا۔ سمن آباد سے مبینہ طور پر دو لڑکیاں اغواءہوئیں اور کُھرا گورنر کھر تک پہنچا۔ اس معاملے کو رانا صاحب نے اس انداز سے اُٹھایا کہ اُس وقت کے مردِ آہن گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر کے چھکّے چھڑا دئیے۔ لڑکیوں کی بازیابی کے بعد گورنر کھر نے اپنی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کا سرغنہ نمبر ایک رانا نذر الرحمن کو قرار دیا مگر اس کریڈٹ کے باوجود رانا صاحب کا کہنا اب یہ ہے کہ ”کھر بے قصور تھا، اناڑی پن میں مارا گیا“....!

کچھ فتنے اُٹھے حُسن سے کچھ حُسنِ نظر سے

لڑکیاں خود ہی اغواءکنندگان کی معاون و مددگار تھیں“۔ ایسے موقع پر ہر عہد پر غالب، مرزا اسد اللہ خاں غالب یاد آتے ہیں:

ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

لڑکیوں کے اغواءاور بازیابی کی حکایتِ لذیذ اور بے شمار دیگر چشم کُشا تاریخی حقائق رانا صاحب کی سرگزشتِ دل پذیر ”صبح کرنا، شام کا“ میں پڑھئے اور کالم کے آخر میں رانا نذر الرحمن صاحب کا بے حد پسندیدہ شعر سُنیے اور سر دُھنیے:

نشانی اپنے گھر کی کیا بتاو¿ں؟

چلے آو¿ جہاں تک روشنی ہے!

مزید : کالم