”تجربے “ کا تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں

”تجربے “ کا تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں
”تجربے “ کا تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں

  

عظیم روسی ادیب دوستو وسکی کے ناول .... The Possessed .... کا کردار نیکولائی ایک کپتان سے کہتا ہے....”مَیں دیکھتا ہوں کہ بیتے ہوئے ان چار سال میں تم ذرا بھر نہیں بدلے ، کیپٹن....حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا دوسر ا نصف حصہ انہی عادات کے مطابق گزرتا ہے، جو اُس نے پہلے نصف میں سیکھی ہوتی ہیں“....زیادہ تر انتخابی جوش و خروش احمقانہ حد تک بے سروپا ہوتا ہے، لیکن موجودہ انتخابی موسم تو ایسی خزاں کی مانند ہے، جہاں کسی پرندے کی چہکار سنائی نہ دیتی ہو۔ سیاسی رہنما وہیں ہیں، جہاں تھے۔ اگر نواز شریف کی باتیں سنیں ،تو وہ دعویٰ کریں گے کہ اب وہ جہاندیدہ اور ذی فہم سیاست دان بن چکے ہیں، جبکہ اُن کے مقابلے میں عمران خان نو آموز اورناپختہ ہیں۔ وہ عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے حاضرین پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک پختہ کار (اشارہ اپنی طرف ) اور دانا قیادت کا انتخاب کریں اور عطائی کھلاڑیوں سے بچیں، تاہم ایسا کہتے ہوئے نواز شریف پاکستان کی تاریخ سے صرف ِ نظر کررہے ہوتے ہیں۔

اگر پاکستان کے سیاسی خدوخال کا معروضی انداز میں جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی تجربے کا فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔ اس وقت اگر دیکھا جائے تو جنرل (ر) پرویز مشرف کو ساڑھے آٹھ سال حکومت کا تجربہ ہے، اگر تجربہ اتنا ہی ناگزیر ہے، تو پھر کیوں نہ اُن کو واپس لے آیا جائے۔ اس وقت پاکستان مسائل کے جن گردابوں میں پھنسا ہوا ہے، کیا اُن کی ذمہ داری تجربہ کار لوگوں پر عائد ہوتی ہے یا ناتجربہ کاروں پر ؟ نواز شریف دو بار وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے ہیں، اگر اُن کو تیسری مدت کے لئے بھی چن لیا جاتا ہے، تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟اُن سے تبدیلی کی توقع کرنا ایسا ہی ہے، جیسے سرحد پار سے ڈاکٹر من موہن سنگھ کو انقلابی قرار دینا۔ اس لقب پر تو خود ڈاکٹر صاحب کھل کھلا کر ہنس پڑیںگے۔ دوسری طرف عمران خان کا دامن بھی مکمل طور پر صاف نہیں ہے۔ کیا انہوںنے پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی مہم نہیں چلائی تھی؟یہ بطور ایک سیاست دان اُن کے لئے کوئی اچھی یاد نہیںہوگی، لیکن کیا وہ اس پر معذرت خواہ نہیں رہے ہیں؟ پاکستانی سیاست میں کتنے لوگ اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے قوم سے معذرت طلب کرتے ہیں؟بہرحال انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت کرتے ہوئے خود کو ایک ناپسندیدہ شخص بنا لیا تھا۔

30 اکتوبر کو لاہور کے جلسے کے دوران ، جب ایک طرح سے تحریک ِ انصاف نشاة ثانیہ سے گزری....وہ سٹیج پرعوام کے سامنے جائے نماز پر بیٹھ گئے تاکہ اپنے کردار کی سچائی کا یقین دلا سکیں۔ اگر ہم ایسے نمائشی کاموںسے بچ سکیں تو بہتر ہوگا۔ خوش قسمتی سے انہوں نے مزید کسی جلسے میں اس ”کارکردگی “ کا مظاہر ہ نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اُن میں سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ آصف علی زرداری بھی مالیاتی امور میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ اس میدان میں ان کی مسابقت تقریباً ناممکن ہے.... غیر ملکی سودوں میں کمیشن، کِک بیکس اور بدعنوانی کی دیگر روایتی و غیر روایتی قسموںمیں ید ِ طولیٰ رکھتے ہوئے ملکی دولت سمیٹ کر (جیسا کہ ان پر الزامات رہے ہیں) سوئس بنکوں میں رکھنے میں نواب شاہ کے اس نواب کا کوئی حریف نہیںہے، چنانچہ اگر نواز شریف تجربے کی بات کرتے ہیں، تو پھر بلاشبہ آصف علی زرداری صاحب کو مزید پانچ سال کے لئے صدر رہنا چاہئے۔

 اس کے علاوہ نواز شریف کا تجربہ کار ہونے کا دعویٰ بھی بے محل ہے، کیونکہ اپنے دور میں جب اُن کو اپریل 1999ء میں فوجی ہائی کمان نے کارگل پر بریفنگ دی تو وہ جنرل مشرف اور اُن کے قریبی جنرلوں کی طرف سے کی گئی مہم جوئی، جس نے قوم کو تقریباً مہیب جنگ کے دھانے پر پہنچا دیا تھا، کے مضمرات بھانپنے میں ناکام رہے۔ انہوںنے زیادہ سے زیادہ یہ کہا کہ پیش کئے گئے سینڈوچ مزیدار تھے اور میٹنگ اختتام پذیر ہوئی۔ اس کے بعد کیا کسی نے پرویز مشرف سے جواب طلبی کی ؟ جنرل جہانگیر کرامت ایک انتہائی تعلیم یافتہ ،باوقار اور پیشہ ور سپاہی تھے اور کسی جمہوری حکومت کو شاید اُن سے زیادہ غیر جانبدار آرمی چیف نہیں ملا ہو گا، لیکن نواز شریف نے، جن کو بھاری بھرکم مینڈیٹ کا زعم تھا، اُن کو بھی چلتا کیا۔ اس کارروائی نے شاید قسمت کو بھی تاﺅ دلا دیا ورنہ جنرل جہانگیر کرامت کے جانشین کارپس کمانڈر منگلا پرویز مشرف نامی ایک جنرل، جن کو علی قلی خان اور ایک سینئر جنرل پر فوقیت دی گئی، کیسے ہو سکتے تھے؟

باقی تاریخ ہے۔ پی ایم ایل (ن) کے چودھری نثار کا بھی اُس واقعے میں بہت بڑا ہاتھ تھا،جو مسٹر بینز کی طرح ایسی چالیں چلنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ لوگ جو ضرورت سے زیادہ چالاک بننے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو ہوشیاری دکھاتے ہوئے یہ علم نہیںہوتا کہ واقعات کیا رخ اختیا ر کریں گے۔ نواز حکومت کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد مسٹر بینز کو اُن کے فیض آباد کے وسیع وعریض گھرپر ہی نظر بند کر دیا گیا۔ یہ نظر بندی یقینا نرم اور آرام دہ ماحول میں تھی، کیونکہ پرویز مشرف نے اُن کو کسی ”خدمت “ کا صلہ دیا تھا۔ ایک بار چکوال سے ہی تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ”ایم این ایس“ کو محمد نواز شریف کے نام کا مخفف نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ”موٹر وے، نیوکلیئر طاقت اور شریف سیاست“ کا مخفف سمجھتے ہیں۔ یہ سن کر نواز شریف کا چہرہ کھل اُٹھا، جب بھی مَیں اس واقعے کو یاد کرتا ہوں، میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ ایسی باتوں کا زیادہ ذکر نہیں کرتا مبادا اسے ”انگور کھٹے ہیں “ کے مترادف سمجھا جائے، لیکن پی ایم ایل (ن) میں خوشامد اورچاپلوسی کرنا ایک فن کی شکل اختیا ر کر چکا ہے۔ اس میں رہنے کے لئے اس صنف میں طبع آزمائی ضروری ہے۔ بہرحال اس جماعت میں مذکورہ جنرل صاحب کی کارکردگی کافی اچھی رہی ۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کو دوبار حکومت سازی کا موقع ملا۔ یہ بات درست ہے کہ اُن کا اقتدار دفاعی اداروں کو نہیں بھاتا تھا ، بلکہ دوسری بار تو اُن کو صدر فاروق لغاری ، جن کو انہوں نے خود چنا تھا، نے چلتا کیا، لیکن وہ بھی خود کو پیش آنے والے مسائل کی بڑی حد تک خود ہی ذمہ دار تھیں۔ شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو صاف ستھری سیدھی راہ نہیںبھاتی ہے۔کچھ لوگ چاہتے ہیںکہ اُن کا ایک پاﺅں اگر سڑک پر ہے تو دوسرا کسی کھائی میں ہونا چاہئے۔ مسٹر آصف علی زرادی کے سامنے کوئی ڈیل آئے اوراس میں اُن کا حصہ نکل رہا ہو تو کیا وہ انکار کریں گے ؟بہرحال نواز شریف صاحب کے لئے بھاری مینڈیٹ ویسی ہی تباہی لایا، جیسی کوئی طالبان بمبار لاسکتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایسے تجربے کو ایک بار پھر اقتدار کے مسند پر لے آئیں؟ بہتر تو یہ ہے کہ تجربے کو فراموش کر کے قدم آگے بڑھایا جائے، جب نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے، تو وہ ہر روز سرکاری ہیلی کاپٹر پر دُور دراز کے دیہاتوں میں مظلومین، اکثر آبروریزی کی شکار خواتین کی داد رسی کے لئے جاتے تھے۔ اس دوران وہ نہایت اداس دکھائی دیتے ہوئے، اُ ن کے سر پر ہاتھ رکھتے اور اُن کو لفافے میں کچھ رقم پیش کی جاتی۔ اِس شام سرکاری ٹیلی ویژن یہ سب کارروائی ہر خبری نشریئے میں پیش کرتا.... (اُس وقت نجی ٹی وی چینل نہیں تھے).... میاں نواز شریف اس تمام کارروائی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو تے رہتے، کیونکہ اُن کو یہی ون مین شو بھاتا تھا۔ سرکاری محکموں کی کارکردگی اُن کی ترجیح نہیں تھی۔ اسی طرح کی حماقت اس ملک پر حکومت کرتی رہی ہے۔ کیا گورنر پنجاب نواب امیرمحمد خان اس طرح کے دکھاوے کو پسند کرتے؟ ہر گز نہیں ، وہ پولیس والوں سے پوچھتے کہ کیا اُن کو خدا کا خوف ہے یا نہیں ، یقینا یہ ہر حکمران کا کام نہیںہے کہ وہ ہر جگہ خود مصروف ہو جائے، جبکہ تمام محکموں کا عمل مفلوج ہو کر رہ جائے۔ جب نواز شریف دوسری مدت کے لئے وزیراعظم بنے تو وہ یا تو صدر لغاری، چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور جنرل جہانگیرکرامت کے ساتھ محاذآرائی میں مصروف رہے یا پھر لاہور اسلام آباد موٹروے کے بنفس ِ نفیس معائنے کے لئے جاتے۔ مذاق کی بات نہیں ، بالکل جس طرح وہ آبرو ریزی کی شکار خواتین کے ساتھ اظہار ِ ہمدردی کے لئے جاتے، اسی طرح وہ موٹر وے کا معائنہ کرتے۔ اس کے علاوہ اُن کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں تھا.... یہاں تک کہ جنرل پرویز مشرف ہاتھ دکھا گئے۔

پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ان باتوں کا احساس نہیںہے اور اگر ہے تو وہ کھلے بندوں اس کا اعتراف کرنے کی جرا¿ت نہیں کرتیں کہ دراصل جنرل پرویز مشرف کا شب خون اُن کے لئے ایک نعمت ثابت ہوا تھا، کیونکہ اس سے پہلے وہ اپنی کارکردگی کی وجہ سے عوامی حمایت سے محروم ہو چکے تھے۔ فوج کی طرف سے تختہ اُلٹے جانے کے حادثے نے ان دونوں کو راتوں رات جمہوریت کا چمپئن بنا دیا۔ 2008ءمیں دونوں جماعتیں ایک بار پھر قومی افق پر نمودار ہو گئیں ۔ اس پر انہیں پرویز مشرف کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ اب موجودہ انتخابات میں نواز شریف سمجھتے ہیںکہ ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں، چونکہ ہمارے ملک میں عجیب و غریب واقعات پیش آتے رہتے ہیں، اِس لئے کون کہہ سکتا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ مَیں کوئی نجومی یا جوتشی نہیں ہوں، لیکن ان انتخابات کا جو بھی نتیجہ آئے ، امیدکرنی چاہئے کہ پرانے تجربات نہیں دہرائے جائیںگے، بلکہ قوم کسی نئی سمت کی طرف دیکھے گی۔

پس ِ تحریر نمبر1: پرویز مشرف کو تاحیات انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرار دیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے جج حضرات نے کہا....” ایسا شخص خود آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63پر کیسے پورا اترسکتا ہے، جس نے آئین کا احترام نہ کیا ہو“۔ کیا کوئی صاحب مہربانی فرما کر آسان اور عام فہم زبان میں اس بات کی وضاحت کردیں گے تاکہ عام لوگ بھی سمجھ جائیں“۔ پس تحریر نمبر2: کیا کوئی جنرل اشفاق پرویز کیانی کو یہ بات سمجھاسکتا ہے کہ وہ جمہوریت پر لیکچرز نہ دیاکریں؟ ٹھیک ہے کہ وہ اپنے خطبات میں اسلام کا ذکر کرتے رہتے ہیں، لیکن اگر جمہوریت کے بارے میں پندو نصائح اُن کے منصب کی طرف سے نہ ہی آئیں تو اچھا ہے۔ اے این پی ، پی پی پی اور ایم کیو ایم ملک کی سیاسی جماعتیں ہیں اور تمام تر دہشت گردی کے باوجود وہ جمہوریت کے راستے پر کاربند ہیں۔ کیا پاکستانی عوام کے جذبے پر کسی کوشک ہے ؟آخر میں، عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو قتل نہیں کیا تھا۔ وہ درست کہتے ہیں، اس کی ذمہ داری پرویز مشرف پر ہے۔

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ر ی پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔

مزید : کالم