پولیس ناکے:ایک پولیس افسرکا بصیرت افروز خط!

پولیس ناکے:ایک پولیس افسرکا بصیرت افروز خط!
پولیس ناکے:ایک پولیس افسرکا بصیرت افروز خط!

  

توجہ تو اس خط نے مبذول کرالی تھی، جو لاہور پولیس کے اعلیٰ افسر نے دوسرے پولیس افسروں کو لکھا، لیکن درمیان میں بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ آ گیا کہ اس کی موت کا اعلان ہوگیا تھا،طبی نقطہ ءنظر سے تو ڈاکٹروں نے تین روز قبل ہی یہ بتا دیا تھا کہ مذکورہ مجرم زندگی کے آخری لمحات پر ہے۔پاک بھارت تعلقات کو سمجھنے اور جاننے کی سعی کرتے رہنے کی وجہ سے اس روز کالم کا رخ بھی تبدیل ہوگیا،لیکن ایسا نہیں کہ اس خط کو بھول گئے یہ تو چشم کشا اور بہت بڑی حقیقت کا غماز ہے اور حقیقی مسئلے کی طرف توجہ دلاتا ہے،جس کی وجہ سے جرائم میں کمی نہیں ہوتی، کیونکہ جرم کرنے والے تو پکڑے نہیں جاتے، البتہ شریف شہری ڈاکوﺅں کے خوف کے ہوتے ہوئے ان پولیس ملازمین کے ہاتھوں ضرور لٹتے رہتے ہیں جو ناکوں پر ڈیوٹی دیتے اور ان کے فرائض میں جرائم کی روک تھام اور جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع ہے۔ خط میں بتایا گیا کہ جرائم کی روک تھام کے لئے جن ایجنسیوں سے تعاون لیا جارہا ہے، وہ عوام کے لئے مسائل کا باعث بنتے جارہے ہیں۔ خط میں ناکوں اور گشت کے لئے متعین کئے جانے والے مجاہد فورس، ایلیٹ فورس اور ریزرو پولیس کے جوان جرائم روکنے کی بجائے عام شہریوں کو پریشان کررہے ہیں اور مسائل کا ذریعہ بن گئے ہیں، ان کی مناسب روک تھام ضروری ہے۔

یہ ایسا چشم کشا خط ہے جو حقائق پر مبنی اور ایک اچھے افسر کی بہترین نگاہ کا شاہکار ہے۔معلوم نہیں ہمارے کرائمز رپورٹر حضرات نے اس کا فالواپ کیوں نہیں کیا۔یہ خط جن شعبوں کے سربراہوں کو بھیجا گیا انہوں نے اس کے جواب میں کیا تدابیر اختیار کیں یا کون سے اقدامات ہوئے جن سے وہ خدشات دور ہوں جو خط کی تحریر کا باعث ہیں، اصولی طور پر آزاد صحافت کے اس دور میں اس پر کام کی ضرورت تھی۔

جہاں تک اس خط میں خدشات کا ذکر ہے تو یہ خیالی نہیں حقیقی ہیں،عام لوگ جانتے ہیں کہ ناکوں پر کھڑے جوان اپنے فرائض کس طرح انجام دیتے ہیں۔ہم نے خود مشاہدہ کیا کہ جب بھی ناکے لگے، سب سے زیادہ موٹرسائیکل سواروں کی شامت آئی۔یہ موٹرسائیکل والے پہلے تو ٹریفک وارڈنز کو بھگتتے ہیں جو لائسنس نہ ہونے ،ہیلمٹ نہ پہننے اور موبائل سننے کے علاوہ یک طرفہ ٹریفک یا سگنل کی خلاف ورزی پر چالان کرتے ہیں۔اس کے بعد ان کی شامت ناکے والوں کے ہاتھوں آ جاتی ہے، ہر ناکے والا موٹرسائیکل والوں خصوصاً طالب علم یا محنت کش نظر آنے والوں کو خاص طور پر روک لیتا، ان کی تلاشی کے بعد ان سے کاغذات طلب کرتا ہے اور پھر کسی کمی کی بناءپر موٹرسائیکل بندکرنے کی دھمکی دے کر رشوت وصول کرلیتا ہے۔کئی بار جب ہم اپنے صاحبزادے کے ساتھ موٹرسائیکل پر ہوتے ہیں تو ہم خود بھی ان مسائل کو بھگت چکے ہوئے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک ناکے پر تسلی کراکے آگے چلے آﺅ تو اگلے ناکے پر پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں ہمارے ایک دوست نے زیادہ دلچسپ واقعہ سنایا، وہ خود موٹرسائیکل چلاتے ہیں، ایک ناکے پر ان کو روک کر جامہ تلاشی کے بعد کاغذات کی باری آ گئی، وہ شرارت پر اتر آئے اور بتایا کہ کاغذات گھر پر ہیں۔موٹرسائیکل میں نہیں رکھے کہ خدانخواستہ چوری ہو تو کاغذات بھی ساتھ ہی چلے جاتے ہیں اب یہاں تکرار شروع ہوگئی ۔کہا گیا موٹرسائیکل بند ہو گی جواب ملا جی کرلیجئے اور مجھے رسید دے دیں،تاکہ عدالت سے رجوع کیا جا سکے۔الٹا کہا گیا تھانے جانا پڑے گا،مودبانہ گزارش کی گئی حاضر ہیں، لے چلیں، چنانچہ ایک کانسٹیبل صاحب موٹرسائیکل کے پیچھے بیٹھ گئے اور کہا چلو،وہ صاحب اس علاقے کے تھانے کی طرف روانہ ہوئے تو تھوڑی دور جانے کے بعد ہی کانسٹیبل صاحب نے موٹرسائیکل روکنے کو کہا وہ رک گئے تو کانسٹیبل نے کہا”بھئی! تم سمجھتے کیوں نہیں ہو! تمہارے پاس کچھ ہے بھی کہ نہیں ،جواب ملا جیب خالی ہے۔محترم کانسٹیبل نے واپس لاکر اپنے اے ایس آئی کو صورت حال سے آگاہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر جان چھڑالی۔یار جانے دو اس منحوس کو کہاں سے آ گیا ہے۔ہمارے اس دوست کا کہنا ہے کہ اس عرصہ میں کم از کم چھ موٹرسائیکلیں اور تقریباً دس نوجوان لڑکے وہاں روک لئے گئے ہوئے تھے اور وہ منتیں کررہے تھے۔اے ایس آئی نے کانسٹیبل کو ہدایت کی کہ وہ ان (لڑکوں) سے نمٹے اور خود آگے موڑ پر پولیس وین کے قریب چلا گیا۔کانسٹیبل نے حسب توفیق ان لڑکوں کے پاس جتنے جتنے پیسے تھے لئے اور ان کو جانے دیا۔

یہ تو ایک واقعہ ہے، ایسا ہر ناکے پر ہوتا ہے۔ یہ حضرات کسی کار والے کو نہیں روکتے البتہ یہ ضرور کرتے ہیں کہ چالیس پچاس گاڑیاں گزریں تو کسی ایک پرانی گاڑی کو روک کر اس کی تلاشی سے فرض پورا کرلیتے ہیں، حالانکہ ان کی نگاہ تیز ہونا چاہیے اور مشکوک افراد کو روک کر ان کے کوائف کی تصدیق کرنا چاہیے، یہ حضرات تلاشی لے سکتے ہیں کہ کسی کے پاس ناجائز اسلحہ نہ ہو، یہ مذکورہ شخص سے اس کا اتہ پتہ پوچھ کر تسلی کرسکتے ہیں ان کو ٹریفک والوں کی طرح کاغذات مانگنے اور پڑتال کے نام پر رشوت لینے کا تو کوئی حق نہیں ہے۔

ٹاکوں پر ڈیوٹی دینے والے یہ حضرات چوکس بھی نظر نہیں آتے۔ڈھیلے ڈھالے انداز میں کھڑے ہوتے ہیں، بندوق بردار ایک طرف ہوتا ہے۔عموماً ایسے ناکے چوراہوں کے موڑوں پر لگائے جاتے ہیں، اس سے ٹریفک کی روانی میں بھی فرق پڑتا ہے،جبکہ عموماً ایسے موڑوں کے اردگرد کوئی نہ کوئی پھل فروش ضرور ہوتا ہے،جس روز ناکہ ہو اس روز اس بے چارے کا منافع ان کے پیٹ کی آگ بجھا دیتا ہے۔

یہ عمومی حالات ہیں اور پھر ان ناکوں کی کارکردگی رپورٹ بھی صفرہی کے برابر ہے کہ کبھی بھی کوئی جرائم کرنے والا نہیں پکڑا گیا۔اگر کبھی کوئی ایسی خبر شائع ہو بھی تو اس پر جھوٹ کا گمان ہوتا ہے، اس لئے یہ خط بہت بڑی حقیقت اور ایک صاحب بصیرت کا خط ہے۔متعلقہ شعبوں کے سربراہوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اس کا سدباب ہونا چاہیے کہ پولیس سے جرائم پیشہ خوفزدہ اور عام شہری تحفظ محسوس کریں۔صحافی دوستوں سے گزارش ہے کہ اس کا فالواپ تو کریں!  ٭

مزید : کالم