گوانتا نامو میں بُش اور مُش کے قیدی

گوانتا نامو میں بُش اور مُش کے قیدی
گوانتا نامو میں بُش اور مُش کے قیدی

  

صدر باراک اوباما نے ایک بار پھر کہا ہے کہ گوانتا ناموبے کا جیل خانہ بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے پہلی بار بطور صدارتی امیدوار یہ وعدہ کیا تھا، لیکن کئی دوسرے وعدوں کی طرح انہوں نے یہ وعدہ بھی بھلا دیا۔ صدر اوباما کے نئے وعدے پر اظہار خیال سے پہلے ذرا اس بات کا بیان ہو جائے کہ اس وقت گوانتا ناموبے میں کیا ہو رہا ہے؟ 6 فروری سے وہاں کے قیدیوں نے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ خلیج گوانتا ناموبے کے بدنام زمانہ عقوبت خانے میں کل166 قیدی ہیں، جن میں سے سو بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان میں سے اکیس کی حالت ایسی ہے کہ اُنہیں ناک کے ذریعے نلکی لگا کر زبردستی خوراک دی جا رہی ہے۔ قیدیوں میں سے ایک کی وکیل نتاراجن کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال کے بعد انہیں 13 اپریل سے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے انہیں جس کیمپ میں رکھا گیا، وہاں انہیں گھومنے پھرنے، آپس میں مل بیٹھنے اور فٹ بال وغیرہ کھیلنے کی آزادی تھی۔ ان کی کوٹھڑیوں کے دروازے ہر وقت مقفل نہیں رکھے جاتے تھے، لیکن اب انہیں جس نئے کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے، وہاں اُن کی کوٹھڑیوں کو زیادہ تر مقفل رکھا جا رہا ہے۔ اس طرح اُن کی حالت بدتر سے بدترین ہو گئی ہے۔ قیدی نے اپنی وکیل نتارا سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ نئے کیمپ میں منتقلی کے بعد اب تک اُن کا ذاتی سامان اُنہیں نہیں پہنچایا گیا۔ بعض قیدی اب تک ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش اور صابن تک سے محروم ہیں۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کو اگر امریکہ کی دوسری انتہائی سیکیورٹی کی جیلوں میں منتقل کر دیا جائے تو اس سے امریکی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ امریکہ میں جیلوں کی سیکیورٹی کی شدت کے حوالے سے درجہ بندی ہوتی ہے۔ خطرناک مجرموں کو انتہائی سیکیورٹی یا Maximum Security میں رکھا جاتا ہے۔ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ گوانتا ناموبے کے قیدیوں کے لئے Super Maximum Security کا انتظام کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایسی جیلوں میں کئی دہشت گرد قید بھگت رہے ہیں۔ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ گوانتا ناموبے کی وجہ سے دہشت گردی کے لئے ریکروٹمنٹ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں۔ یاد رہے کہ اکثر امریکی جیلیں مختلف کمپنیاں ٹھیکوں پر چلاتی ہیں۔ گوانتا ناموبے کی جیل خستہ حال ہو رہی ہے اور ٹھیکیدار کمپنی ساﺅتھ کام اس کی تعمیر و مرمت کے لئے دو سو ملین ڈالر کا مطالبہ کر رہی ہے۔

”نیویارک ٹائمز“ کے چالی سیوج نے صدر کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو فروغ تو زیادہ تر ڈرون حملوں سے مل رہا ہے، تاہم بعض مسلمان مذہبی رہنما اس سلسلے میں گوانتا ناموبے کے عقوبت خانے کو بھی جواز قرار دیتے ہیں۔ پبلک براڈ کاسٹنگ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چالی سیوج نے کہا کہ اصل مسئلہ Low level کے قیدیوں کا ہے۔ High level والے تو جیسے خالد شیخ محمد وغیرہ ہیں، کبھی رہا نہیں ہوں گے، لیکن کم درجے کے خطرناک لوگوں کو رہا ہو جانا چاہئے۔ نیشنل سیکیورٹی ایجنسیاں متفقہ طور پر 86 قیدیوں کو تین سال پہلے کلیئر کر چکی ہیں، لیکن اب تک ان کی رہائی عمل میں نہیں آئی۔ 2009ءمیں صدر اوباما نے گوانتا ناموبے کے قیدیوں کو ان کے متعلقہ ملکوں میں یا امریکی جیلوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن کانگریس نے اس ارادے کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد صدر اوباما نے اب تک چپ سادھے رکھی ، تعجب خیز امر یہ ہے کہ یمن کو قیدیوں کی منتقلی پر کانگریس نے نہیں، خود صدر اوباما نے پابندی لگائی۔ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ ان کے متعلق ملکوں میں سیکیورٹی کی صورت حال بہتر نہیں ہے۔

مسٹر چارلی کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال بھی قیدیوں میں اسی مایوسی کی وجہ سے ہے،حالانکہ یہ بات سراسر غلط ہے۔ امریکہ کا ”مین سٹریم میڈیا“ یا تو اس مسئلے پر توجہ ہی نہیں دے رہا یا پھر اس کے اصل اسباب پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔ 6 فروری کو جب ان قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کی تھی، اس وقت یہ خبر آئی تھی اور اب نئے صدارتی وعدے کے تناظر میں ایک بار پھر MS NBC نے کہا ہے کہ ان قیدیوں نے قرآن کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی تھی۔یہ بات بھی سراسر غلط ہے کہ ان قیدیوں کو اس لئے رہا نہیں کیا جاسکتاکہ یہ انتہائی خطرناک ہیں یا ان کی امریکہ کی دوسری جیلوں میں یا اُن کے اپنے ملکوں کو منتقلی سے کوئی مسائل پیدا ہوں گے۔

یہ قیدی بش (جارج ڈبلیو بش) اور مُش (پرویز مشرف) کے قیدی ہیں۔ صدر اوباما کے دور میں گوانتا ناموبے میں ایک بھی قیدی کا اضافہ نہیں ہوا۔ بش کے دور میں قیدیوں کی تعداد آٹھ سو تھی، جو اب166 رہ گئی ہے۔ یہ وہ قیدی ہیں، جن کے خلاف کوئی الزامات نہیں ہیں۔ انہیں پرویز مشرف نے پکڑ پکڑ کر بش کے حوالے کیا تھا اور بش نے ان کے بدلے پرویز مشرف کو ڈالر دئیے تھے۔ ان میں سے بعض ہو سکتا ہے دوسرے جرائم میں ملوث ہوں، لیکن ان میں سے اکثریت کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ سیاح تھے اور کچھ وہ تھے جو مدت سے پاکستان میں مقیم تھے۔ یمن اور نائیجیریا سے بعض لوگ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد منشیات کو ملنے والے فروغ کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان گئے تھے، جنہیں سرحد پر آتے جاتے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔ امریکہ کو اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر انہیں رہا کر دیا گیا تو یہ امریکی حکومت پر مقدمات کریں گے اور بھاری تاوان وصول کریں گے۔ چند ایک رہا ہونے والوں نے ایسے مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔ اگر ان سب کو تاوان ادا کرنا پڑا تو بھاری مالی نقصان کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بہت بدنامی بھی ہوگی۔ اس لئے اب یہ قیدی امریکی سانپ کے مُنہ میں چھچھوندر ہیں، جنہیں نہ اُگلے بنتی ہے ،نہ نگلتے بنتی ہے۔

اس سلسلے میں امریکی فضائیہ کے سابق کرنل مورس ڈیوس کی اپیل اس حقیقت کا انکشاف کرتی ہے.... کرنل مورس نے یہ اپیل بذریعہ ای میل صدر اوباما اور وزیر دفاع چارلس ہیگل سے کی ہے۔ مَیں نے بھی اس پیل پر دستخط کئے ہیں۔ کرنل مورس ڈیوس کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے پچیس سال امریکی فضائیہ میں خدمات انجام دیں اور خلیج کوانتاناموبے میں دو سال تک دہشت گردوں کے خلاف مقدمات میں چیف پراسیکیوٹر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ڈرائیور سلیم حمدان، آسٹریلوی ڈیوڈ ہک اور کینیڈا کے نوجوان عمر قادر کے خلاف مقدمات انہوں نے ہی تیار کئے تھے۔ تینوں پر فرد جرم بھی عائد ہوگئی تھی، لیکن پھر تینوں رہا ہوگئے۔ کرنل مورس نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ اب جو ایک سو ساٹھ سے زیادہ قیدی ہیں، اب تک ان پر جنگی جرائم یا کسی بھی قسم کا الزام نہیں لگایا جا سکا، جس کا مطلب ہے، ہمارے نظام میں کوئی بڑی خرابی ہے کہ جن پر فرد جرم لگ جاتی ہے وہ رہا ہو جاتے ہیں اور جن پر کوئی الزام تک نہیں لگتا، وہ لامحدود مدت کے لئے قید میں سڑتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اور ملک قیدیوں سے ایسا سلوک کرتا تو ہم بجا طور پر اُس پر شدید تنقید کرتے.... (یہ امریکی منافقت کی عمدہ مثال ہے).... ”ہم وہ سب کچھ کر کے کس طرح اخلاقی اور قانونی برتری کا دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اگر کوئی دوسرا ہمارے ساتھ ویسا ہی کرتا تو ہم اُس کی بھرپور مذمت کرتے“۔ کسی کو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ اگر سینیٹر برائے آئینی حقوق اور ایمنسٹی انٹرنیشنل اس امریکی طرز عمل اور سلوک پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور میرے جیسا سابق چیف پراسیکیوٹر دیگر ریٹائرڈ فوجی اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے کئی افسران بھی انسانی اور آئینی حقوق کے ان اداروں کی تائید کر رہے ہیں۔ ریاست ورجینیا کے رہنے والے کرنل مورس ڈیوس نے صدر باراک اوباما اور چارلس ہیگل سے اپیل کی ہے کہ حب وطن، امریکی پن اور انسانیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گوانتا ناموبے کو فوراً بند کیا جائے۔ صدر اوباما وائٹ ہاو¿س میں ایک خصوصی افسر مقرر کریں، جو اس سلسلے میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے کام کرے۔ صدر نے 30 اپریل کو ایک بار پھر گوانتا ناموبے کو بند کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن وہ ایک بار پہلے بھی یہ وعدہ کر کے اُسے بھلا چکے ہیں۔ اب ہم سب کو چاہئے کہ صدر کو مجبور کریں کہ وہ اپنے نئے وعدے پر قائم رہیں“.... آئندہ کالم میں ای میل کے ہتھیار اور ای میل سے اپیلوں پر روشنی ڈالوں گا، انشاءاللہ۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)  ٭

مزید : کالم