امیر جماعت اسلامی کا بیان اور قوم کا عزم

امیر جماعت اسلامی کا بیان اور قوم کا عزم

اسلام کے نام پر وطن حاصل کرنے والی پاکستانی قوم اپنے مزاج میں اتحاد عالم اسلامی کی فکر رکھتی ہے۔ ہماری فوج مسلمانوں کی فوج ہے ، جس کو جہاد فی سبیل اللہ اور وطن پر جان نثار کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ ہماری عسکری قیادت نے بہترین صلاحیتوں اور نظم و نسق کا مظاہرہ کرتے ہوئے حرمت وطن اور قومی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لئے کام کیا ہے۔ سیلاب اور زلزلے وغیرہ کی آفات کے وقت ہماری فوج نے قوم کی بے مثل خدمت کی ہے۔ دشمن سے پنجہ آزمائی کے وقت تعداد اور وسائل کی کمی کے باوجود ہماری مسلح افواج نے بہترین کارکردگی دکھائی، بے مثل شجاعت کا ثبوت دیا ہے ۔ سوائے ان غلطیوں کے جب حالات سے مجبور ہو کر یا اقتدار کے لالچ میں کسی نے مارشل لاءلگایااور جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا۔ اِسی پہلو نے سابقہ فوجی قیادت کو قوم میں متنازعہ بنائے رکھا، لیکن جس فوجی قیادت نے گذشتہ پانچ سال کے دوران جمہوریت کی نگہبانی کی ہے، دُنیا کے اس خطے میں عالمی طاقتوں کی یلغار کے دوران بہترین حکمت عملی اختیار کرکے پاکستانی مفادات کے تحفظ کے لئے ممکنہ حد تک بہترین کوششیں کی ہیں ، جو سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ ملک کے اندر دشمن کی شروع کرائی گئی دہشت گردی کے خلاف بھی سربکف ہے، اس قیادت کو قوم عقیدت و احترام کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتی۔ پاکستان کے خلاف وسیع سے وسیع تر ہوتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری بہادرا فواج نے بہت قربانیاںدی ہیں۔ اس جنگ میں ہماری فوج اکیلی نہیں پوری قوم اس کے پیچھے کھڑی ہے۔    

چند روزقبل چیف آف آرمی سٹاف نے اپنی ایک تقریر میں دو ٹوک الفاط میں کہا تھا کہ انتخابات کے انعقاد کے متعلق شکوک و شبہات دُور ہوجانے چاہئیں، لوگوں کو دیانتدار امیدواروں کو منتخب کرناچاہئے ، تاکہ کرپشن ختم ہو۔انہوں نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بھی پوری قوم کی جنگ قرار دیا اور اس طرح پوری قوم کے اِس سلسلے میں یک سو ہونے کی ضرورت واضح کی۔اس کے جواب میں امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے پشاور کے قریب اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ جنرل صاحب امریکی جنگ کو اپنی جنگ قرار نہ دیں۔ پرویزمشرف نے یہ جنگ امریکی حکم پر پاکستان پر مسلط کی تھی، جس نے ہزاروں معصوم جانوں کو نگل لیا اور ملکی معیشت کی کمر توڑ دی۔ آصف علی زرداری اور اس کے حواریوں نے پرویز مشرف کی پالیسیوں کو جاری رکھ کرملک و ملت کو موجودہ بحرانوں سے دوچار کیا۔ حکمران ٹولے کا منشور امریکی غلامی ، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور ڈرون حملے ہیں جو پانچ سال سے قوم بھگت رہی ہے۔

یہ سب کچھ کہتے ہوئے جناب منور حسن نے شاید اس حقیقت سے آنکھیں بند کرلی ہیں کہ ہمارے ملک میں بچے بوڑھے ، خواتین اور پُرامن شہری مسلسل دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں ، دشمن کے سپانسرڈ دہشت گرد ہماری دفاعی تنصیبات اور فوجی قافلوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔پاک فوج نے ان علاقوںکے عوام کی پکار اور حکومتی احکامات پر لبیک کہتے ہوئے کامیاب آپریشنز کئے ، سوات اورشمالی وزیرستان میں امن بحال کیا اس وقت کراچی اور کوئٹہ میں دہشت گردوں ، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرزکی سرگرمیوں کی وجہ سے وہاں کے لوگ فوج تعینات کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ انتخابات سے قبل بھی تمام ملک میں اہم مقامات پر فوج تعینا ت کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ فوج کی طرف سے الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کو ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا گیا ہے،لیکن انتخابات کے دوران ملک میں فوج جس جگہ اور جو کارروائی بھی کرے گی صرف حکومت کے کہنے پر کرے گی۔ سابق فوجی آمر کی کسی غلطی کے لئے ہم فوج یا موجودہ آرمی چیف کو ذمہ دار نہیںٹھہرا سکتے۔ امریکہ اور نیٹو افواج سے عالمی دہشت گردی کے خلاف تعاون کرنے کے سلسلے میںجنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت کے دوران اپنے ناقدین کے سامنے کئی مواقع پر یہ سوال رکھا تھا کہ اگر ان کی جگہ وہ ہوتے تو وہ ایسی انتہائی نازک اور خطرناک صورت حال میںکیافیصلہ کرتے؟ کسی سیاست دان کی طرف سے اس کے کسی متبادل کی نشاندہی نہیںکی گئی ۔

پاکستان کی نہ یہ پالیسی ہے نہ کبھی پاکستان عالمی دہشت گردی کا سرپرست یا حامی بن سکتا ہے۔ ہم امریکہ کی جنگ نہیں اپنے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ، مغربی طاقتیں اور ان کا میڈیا پاکستان کو افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف سرگرم مقامی مسلح گروہوں اور عالمی دہشت گردوں کی درپردہ حمایت کا مسلسل الزام دیتا رہا ہے۔ یہ ہماری حکمت عملی کی کامیابی کی وجہ سے ہے کہ آج افغانستان میں اپنی ناکامیوں کو سمیٹتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادی وہاں سے واپس جانے سے پہلے طالبان اور افغانستان میں سرگرم عمل مختلف گروہوں سے مذاکرات کے لئے پاکستان کے تعاون کے متمنی ہیں۔ پاکستان اتحادی افواج کی واپسی کے بعد اپنے برادر اسلامی ملک افغانستان میں امن اور مستحکم حکومت کی خواہش رکھتا ہے تاکہ وہاں خوشحالی آئے اور پورے خطے میں سکون بحال ہو۔ اس کے لئے پاکستان اپنا کردار بھی ادا کرے گا ۔ مغربی اقوام ہماری اس پوزیشن کے پیش نظر ہمیں اہمیت بھی دے رہی ہیں۔ اتنے عرصہ تک عالمی دہشت گردی کے خلاف مو¿قف رکھنے کے بعدہماری طرف سے اس موقع پر عالمی دہشت گردی کی کسی طرح کی حمایت نہیںکی جاسکتی ایسا کرنا کسی بھی ذی شعور کے فہم سے بالا تر ہو گا، جہاں تک ہمارے ملک میں سرگرم دہشت گردوں کا تعلق ہے، خواہ وہ سول آبادی میں بے گناہ او ر معصوم عوام کے جان و مال کے درپے ہیں یا وہ ہماری بہادر افواج پر حملے کرتے ہیں،ہماری ان سے کھلی جنگ ہے۔ پوری قوم اس جنگ میں اپنے سپہ سالار کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پورے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے جاں فروشوں کے پیچھے کھڑی ہے۔

طالبان اور دوسرے انتہا پسندوں کو ہماری حکومت کی طرف سے ہتھیار پھینک کر آئندہ کے لئے امن کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہا گیا تھا ، ایسا کرنے والوں کے لئے عام معافی کا اعلان بھی ہوا تھا ، یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہتھیار پھینکنے والوں کو پُرامن زندگی بسر کرنے کے لئے ملازمت یا دوسرے وسائل کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ افغانستان سے نیٹو افواج جانے کے بعدمغربی طاقتوں کے تعاون سے جہاں افغانستان میں تعمیر وترقی اور عوام کی خوشحالی کے بہت سے منصوبوں پر عمل ہو گا وہاں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ا س سے بھی پہلے عوام کی تعلیم و ترقی اور خوشحالی کے شاندار منصوبے شروع کرنے کا پروگرام ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے پاکستانی مسلم بھائیوں یا افواج پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے خلاف حکومت پاکستان اور پاک فوج کا ساتھ دیں۔ ہمارے قبائلی عوام بھی پاکستان کا حصہ ہیں ۔ انہوں نے اس دہشت گردی اور افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بہت مصائب برداشت کئے ہیں ، پوری قوم کی یہ خواہش ہے کہ ابتلاءکے دن ختم ہوں ، انہیں امن اور خوشحالی نصیب ہو، لیکن اس کا انحصار ان کے اپنے رویئے پر بھی ہے۔ ان علاقوں میں عمائدین کے جرگہ اور سرداروں کوبہت اہمیت حاصل ہے ۔اگر ہمارے سیاست دان اورمذہبی رہنما قبائلیوں اور پاکستان کے عوام کے ساتھ مخلص ہیں ، توپھر خالصتا قومی اور ملی مقاصد کے پیش نظر انہیں ان عمائدین سے روابط کے ذریعے عسکریت پسندوں تک امن کا پیغام پہنچانا چاہئے ۔

جہاں تک اسلامی فکر رکھنے والے، اسلامی نظام کے متمنی اور نظریہ پاکستان کے حامی افرادکو انتہاپسند یا قدامت پسندی کے الزامات دینے والے لادین عناصرکاتعلق ہے وہ اپنی جگہ مغربیت پسندی کے بخار میں مبتلا ہیں، جس نے انہیں احساس کمتری کا شکار کر رکھا ہے۔ بہت محدود تعداد کے یہ لوگ زیادہ تر این جی اوز کے نام پر عالمی ڈونرز سے مال سمیٹنے والے لوگ ہیں جو اکثر اپنی سرگرمیوں کو لبرل ازم کا نام دینا پسند کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر داڑھی والا شخص طالبان اور ہر شریعت کا پابند مسلمان دقیانوسی اور قدامت پسند ہے۔ وہ دشمن کی سپانسرڈ دہشت گرد تنظیموں کو بھی فرقہ پرست مسلمان تنظیموں کا نام دینا پسند کرتے ہیں ،یہ ماننے کو تیار نہیں کہ بے گناہ مسلمانوں کو بم دھماکوں اور راکٹ حملوں سے شہید کرنے والے اور مسلمانوں کے ملک کو ہر طرح سے کمزور کرنے کے درپے ان لوگوں کا دین سے تو کیا انسانیت سے بھی تعلق نہیں۔ سید منور حسن ایک محب وطن اور پُرجوش قائد ہیں ، ان سے یہی درخواست کی جاسکتی ہے کہ وہ پاکستان کے اندر شروع کی گئی دشمن کی جنگ کے سلسلے میں غلط فہمی پیدا کرنے والے بیانات کے ذریعے مشترکہ دشمن کے خلاف قومی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوششوں سے گریزکریں اور اپنی انتخابی مہم میں کامیابی چاہتے ہیں تو اس کے لئے کوئی مثبت لائن اختیار کریں کہ اِسی میں اُن کا اُن کی جماعت اور قوم کا بھلا ہے۔  ٭

مزید : اداریہ