ذوالفقار چودھری کا قتل، متحدہ کے دفتر پر حملہ، حالات پھر خراب!

ذوالفقار چودھری کا قتل، متحدہ کے دفتر پر حملہ، حالات پھر خراب!
ذوالفقار چودھری کا قتل، متحدہ کے دفتر پر حملہ، حالات پھر خراب!

  

سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کے مقدمہ قتل کی پیروی کرنے والے پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار چودھری کو دن دہاڑے قتل کردیا گیا، دہشت گردوں نے صبح عدالت کی طرف جاتے ہوئے ان کی کار پر بے تحاشہ فائرنگ کی جس سے وہ جاں بحق اور ان کا سیکورٹی گارڈ زخمی ہو گئے۔ مقتول کی کار بے قابو ہو کر ایک دوسری کار سے ٹکرائی تو کار سوار خاتون جاں بحق ہو گئی، اس بہیمانہ قتل کی وجہ سے مقدمہ کی کارروائی ملتوی ہوئی اور وکلاءنے احتجاجاً ہڑتال کردی۔ بتایا گیا ہے کہ ذوالفقار چودھری کو پہلے سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں جو ملزم زیر حراست ہیں ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ تحریک طالبان کے آلہ کار یارکن ہیں۔ اور ان میں منصوبہ بندی اور عملی کھیل میں بھی شامل لوگ موجود ہیں، یوں براہ راست ذوالفقار چودھری کے قتل کا تانا بانا بھی اسی مقدمہ اور مبینہ قاتلوں سے ملتا ہے۔ اب تو مزید بے چیدگی پیدا ہو گئی کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو باقاعدہ اس مقدمہ میں شامل کرکے ان سے تفتیش بھی کی گئی ہے اور ان کے خلاف چالان بھی پیش ہونے والا تھا۔

ایک طرف یہ حالات ہیں تو دوسری طرف ملک میں عام انتخابات ہوئے جا رہے ہیں۔ ان کو رکوانے کے لئے بم دھماکے اور فائرنگ کی جا رہی ہے۔ ذوالفقار چودھری کے قتل کے ساتھ ہی کراچی میں ایم کیو ایم کے انتخابی دفتر کے باہر ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ کیا گیا جبکہ تحریک طالبان کے ترجمان نے پھر دہرایا ہے کہ ان کی طرف سے تین نامزد جماعتوں پر حملے جاری رہیں گے۔ گزشتہ دو تین روز میں یہ توقع کی جانے لگی تھی کہ اب یہ سلسلہ موقوف ہو گا اور یہ تینو ں جماعتیں بھی انتخابی جلسے کر سکیں گی۔ایم کیو ایم نے تو دو جلسے کر بھی لئے تھے۔ لیکن یہ سلسلہ رکا نہیں اب ایک اہم ترین قتل ہو گیا ہے۔ موجودہ حالات میں انگلیاں بھی اٹھیں گی۔ پھر تین متاثرہ جماعتوں نے جو موقف اختیار کیا اس کے جواب میں انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کی طرف سے مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان وارداتوں کی کھل کر مذمت کی جاتی اور سب سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے ان کو روکنے کے لئے آواز بلند کرتیں لیکن یہاں تو یہ کہا گیا کہ پیپلزپارٹی تو کہیں نظر ہی نہیں آتی ماضی میں دہشت گردی کے حوالے سے پارلیمینٹ کے ایوانوں میں بحث ہوتی رہی تو کل جماعتی کانفرنس بھی ہوئیں لیکن آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتخابی کشمکش کی وجہ سے رویئے بدل گئے ہیں میاں محمد نواز شریف پیپلزپارٹی اور دوسری دونوں جماعتوں کو مورد الزام ٹھہراتے اور کہتے ہیں سابقہ مخلوط حکومت نے دہشت گردی ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ یہ رویہ ہے تو پھر یکطرفہ انتخابی مہم کا الزام بھی درست ٹھہرے گا۔

تازہ ترین وارداتوں سے حکومتی اور انتخابی حفاظتی انتظامات کا پول بھی کھل جاتا ہے۔ سارے رویئے اور سارے انتظامات سامنے ہیں۔ تحریک طالبان والے جو چاہتے کرتے ہیں ان کا ہاتھ ہی نہیں روکا جا سکا ایسے میں یقیناً انتخابات کے بعد انتخابی نتائج پر ضرور سوال اٹھیں گے۔

مزید : تجزیہ