رخشِ لبرل

رخشِ لبرل
رخشِ لبرل

  

یقین جانئے لوڈ شیڈنگ دہشت گردی سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ہماری سندھ اور سرحد کی لبرل لیڈرشپ توچھپ کر دہشت گردوں سے بچ سکتی ہے لیکن پنجاب کا عام آدمی چھپ کر بھی لوڈ شیڈنگ سے بچ نہیں سکتا!...گھریلو خواتین کے لئے تو لوڈ شیڈنگ اور بھی بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ان کے پسندیدہ ٹی وی ڈرامے مس ہو رہے ہیں!

اس لئے پاکستان کی لبرل جماعتوں کا یہ گلہ بے جا ہے کہ جلسے جلوس پنجاب میں ہو رہے ہیں، الیکشن پنجاب میں ہورہا ہے، ملک کی اگلی لیڈرشپ پنجاب میں انتخابی مہم چلا رہی ہے کیونکہ پنجاب میں امن ہے اور باقی ملک میں سوائے دہشت گردی کے کچھ نہیں، انہیں شاید اندازہ ہی نہیں ہے کہ پنجاب میں عام آدمی کو پچھلے پانچ برسوں میں کس اذیت ناک لوڈ شیڈنگ کا سامنا رہا ہے جس کا براہ راست وار آج بھی ان کے روزگارپر ہے!

جھوٹے منہ ہی سہی لیکن ہماری لبرل پارٹیوں کو اس پر احتجاج کرنا چاہئے کہ پنجاب میں بدترین لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ،کیونکہ پنجاب کا مسئلہ بھی اسی طرح سندھ اور خیبر پختونخوا کا مسئلہ ہے جس طرح سے وہ سندھ اور خیبر پختونخوا کے مسئلے کو پنجاب کا مسئلہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں، ہماری لبرل جماعتوں کی لیڈرشپ کچھ روز پنجاب میں گزارے تو اس کو اچھی طرح سمجھ آجائے گی دہشت گردی کے ساتھ تو گزارہ کیا جاسکتا ہے لیکن لوڈ شیڈنگ کے ساتھ نہیںکیونکہ دہشت گردوں کا نشانہ لیڈر شپ ہو سکتی ہے لیکن لوڈ شیڈنگ کا نشانہ عام آدمی ہوتا ہے!

افسوس اس بات کا ہے کہ لبرل جماعتیں دہشت گردی کے خاتمے کی بات تو کرتی ہیں لیکن لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ایسے بھولی ہوئی ہیں گویا کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اگر سندھ میں لوڈ شیڈنگ ہوتی تو وہاں کی لبرل پارٹیاں پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگانے میں دیر نہ کرتیں!

چونکہ ہماری لبرل جماعتیں پنجاب کو باقی ملک سے علیحدہ کرکے باتیں بنا رہی ہیں، وہ اپنے آپ کو پاکستان کے بڑے حصے سے کاٹ کر سوچ رہی ہیں، پنجاب اور اس کی لیڈر شپ پر الزام تراشی کر رہی ہیں، اس کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں، اسی لئے پنجاب پورے پاکستان کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے!

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لبرل جماعتیں باہم متفق ہیں کہ وہ اپنی ناقص کارکردگی کو دہشت گردی کی آڑ میں چھپالیں کیونکہ اگر انہوں نے بھی ملک کے دوسرے حصوں میں کارکردگی کے پل تعمیر کئے ہوتے تو شہباز شریف کی طرح گا گا کر نہ تھکتے !...ہماری لبرل جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں کہ جیسے وہ دیکھ رہی ہیں حالات ویسے ہی ہیں،اے این پی، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ سندھ سرحد اور بلوچستان میں انہیں دیوار کے ساتھ لگادیا گیا ہے ، وہ انتخابی مہم چلانے کے قابل نہیں رہے ہیں لیکن ان سے کوئی پوچھے کہ کیا پنجاب پاکستان سے باہر ہے ؟.... اے این پی نہ سہی لیکن ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی تو پنجاب میں بھرپور انتخابی مہم چلا سکتی ہیں ، سندھ میںمشکل ہے تو یہ دونوں جماعتیں پنجاب میں متحرک کیوں نہیں ہیں،سندھ میں میدان تنگ ہو رہا ہے تو پنجاب میں تو میدان کھلا ہے اور جب لبرل جماعتیں اپنے اوپر حملوں کا راگ الاپتی ہیں تو بلوچستان میں ن لیگ کے صوبائی صدر ثناءاللہ زہری پر ہونے والے حملے کی تذکرہ کیوں نہیں کرتیں ، اس کے بجائے یہ کہتی ہیں کہ ن لیگ طالبان کی ضامن جماعت ہے ، گویا کہ کراچی اور پشاور میں جو ہو رہا ہے وہ ضامنوں کی مرضی سے ہو رہا ہے ، یہ رویہ غلط ہے اور غالباًیہی وہ تعصبات ہیں جن کی طرف آرمی چیف نے اشارہ کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگرا ن کو ضرورت سے زیادہ ہوا دی گئی تو جمہوریت توانا نہ ہو سکے گی!

ادھر اے این پی کی بھی خوب ہے، پٹھانوں کی روایت ہے کہ ڈر کر کبھی گھر میں نہیں چھپتے، بلکہ ہر مصیبت ، ہر آفت کا سامنے سے مقابلہ کرتے ہیں، یہ پٹھانوں کی تاریخ میں غالباً پہلی بار ہورہا ہے کہ ان کی قیادت گھروں میں نظر بند ہے، کراچی میں بھی ایم کیو ایم جس جوابی کارروائی کا مظاہر ہ کر سکتی ہے ، اس کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آرہا ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتخابی مہم ہے یا کچھ اور جسے کراچی اور پشاور میں چلایانہیں جا رہا!

غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ!

رو میں ہے رخشِ لبرل کہاں دیکھئے تھمے!

نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں

مزید : کالم