بھارتی جیل میں فوجی کے تشدد کا نشانہ بننے والے ثناءاللہ دم توڑ گئے: میڈیا ، خبر درست نہیں :بھارت ، حالت نازک ہے :ڈاکٹر

بھارتی جیل میں فوجی کے تشدد کا نشانہ بننے والے ثناءاللہ دم توڑ گئے: میڈیا ، ...
بھارتی جیل میں فوجی کے تشدد کا نشانہ بننے والے ثناءاللہ دم توڑ گئے: میڈیا ، خبر درست نہیں :بھارت ، حالت نازک ہے :ڈاکٹر

  

چنڈی گڑھ ( مانیٹرنگ ڈیسک+ایجنسیاں ) مقبوضہ کشمیر کی کوٹ بھلوال جیل میں سابق بھارتی فوجی کے تشدد سے زخمی ہونے والے پاکستانی قیدی ثنااللہ اب اس دنیا میں نہیں رہے تاہم بھارتی حکومت نے ابھی اس کا اقائدہ اعلان نہیں کیا بلکہ اس کی موت کا اعلان کرنے کیلئے مناسب وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔ ثناءنیوز کے مطابق ثنا ءاللہ دم توڑ چکے ہیں جبکہ بھارتی حکام نے سرکاری طور پر یہی کہا ہے کہ اس کی ھلت انتہائی نازک ہے ۔اور وزارتِ خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ موت کی خبروں میں کوئی سداقت نہیں ہے ۔ڈاکتروں کا کہنا ہے کہ وینٹی لیٹر ایک لمھے کیلئے بھی نہیں ہٹایا جاسکتا کیونکہ ثنا ءاللہ موت وزندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں جبکہ ان پر تشدد کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے بھی کئے گئے۔ گزشتہ جمعے کی صبح کوٹ بھلوال جیل میں قید پاکستانی قیدی ثنا اللہ پر دوسرے قیدیوں نے حملہ کردیا اور ان کے سر پر کلہاڑیوں کے وار کیے تھے ۔ ثنا اللہ کو پہلے مقامی ہسپتال پھر چندی گڑھ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے میں ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے ثنا اللہ کو علاج کے لیے پاکستان بھیجنے کی درخواست کی جو بھارتی حکومت نے روایتی دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رد کردی۔ رات گئے پاکستانی سفارت خانے کا عملہ زخمی ثنا اللہ کو دیکھنے کے لیے ہسپتال پہنچا جہاں ہائی کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ ثنا اللہ کی طبیعت تاحال تشویشناک ہے اور وہ کومہ میں ہیں، ان کے دماغ کا کچھ حصہ باہر نکل آیا ہے اور سر پر کئی جگہ فریکچر بھی ہوا ہے۔دوسری جانب بھارت میں پاکستانی قیدی پر حملے کے خلاف پاکستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور بھارتی پرچم نذر آتش کیا گیا۔ ثنا اللہ کے آبائی علاقے سیالکوٹ میں بھی بھارت کے خلاف ریلی نکالی گئی، اہل خانہ اور دیگر مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی۔واضح رہے کہ ثنا اللہ 16 سال قبل مویشی چراتے ہوئے غلطی سے سرحد پار کرگئے تھے جہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا، اسی غم میں 10 برس قبل ان کی بیوی بھی اس جہاں فانی سے کوچ کرگئی تھیں، ان کے بیٹوں کے مطابق جیل میں انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا جس کا ذکر وہ اپنے خطوط میں کرتے رہتے تھے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں