امیر جماعت اسلامی کی خدمت میں چند گزارشات

امیر جماعت اسلامی کی خدمت میں چند گزارشات
امیر جماعت اسلامی کی خدمت میں چند گزارشات
کیپشن: khalid hamayu

  

جماعت اسلامی پاکستان کے نئے امیر جناب سراج الحق کے حلف اٹھانے سے پہلے ہم نے ان کی توجہ ایک فراموش شدہ کام کی طرف دلائی تھی۔ انہیں یاد دلایا تھا کہ اوائل میں مولانا مودودی ؒ کے سامنے صرف علمی انقلاب برپا کرنے کا منصوبہ تھا، لیکن برصغیر کے تیزی کے ساتھ بدلتے حالات نے انہیں جماعت بنانے پر مجبور کر دیا۔ جماعت بھی ایسی کہ جس کی ایک خاص ذہنی سمت ہو اور جس کے کارکنان تربیت کے ایک خاص سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔ممکن ہے ہمارا کالم امیر جماعت کی نظر سے نہ گزرا ہو، یا ہو سکتا ہے شعبہ نشرو اشاعت نے تراشہ ان کے سامنے رکھنا ضروری نہ سمجھا ہو، یہ بھی ممکن ہے جناب سراج الحق نے وہ تحریر ملاحظہ فرمائی ہو، لیکن قابل اعتنا نہ سمجھی ہو۔ کیونکہ اس وقت پرنٹ میڈیا ان کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت دے رہا تھا۔ اداریوں، مضامین اور کالموں کا ایک سیلاب تھا کہ امڈا چلا آ رہا تھا۔

مولانا مودودی ؒ کی وہ تحریریں جو تشکیل جماعت کا باعث بنیں ان میں اسلام کی نئی تعبیر وتشریح تھی، اس کے بنیادی اعتقادات پر استدلال کی ایک نئی عمارت کھڑی کی گئی تھی، اقامت دین کے فریضے کی اہمیت اتنی خوبصورتی کے ساتھ واضح کی کہ پڑھنے والوں کے دِلوں اور دماغوں کے اندر زبردست ہلچل مچ گئی۔ انہیں احساس ہوا کہ مسلمانوں کے کرنے کا تو یہ کام ہے جسے وہ صدیوں سے فراموش کئے بیٹھے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مولانا نے قومیت کے فلسفے پر بھی بصیرت افروز روشنی ڈالی، خاص طور سے مغربی تہذیب کی یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی۔ اس کے عناصر ترکیبی کو طشت ازبام کیا اور اس کے مقابلے میں اسلامی تہذیب کے اصول و مبادی کو ایسے نکھار کر پیش کیا کہ نوجوان نسلوں کے ذہنوں سے مرعوبیت کے اندھیرے چھٹنے شروع ہو گئے۔

تقسیم تک جماعت نے اپنے مشن کو دعوت و تبلیغ، تعمیر کردار اور تنظیم سازی تک محدود رکھا، لیکن آزادی کے بعد جب ایک نئے معاشرے کی تعمیر کا مرحلہ درپیش ہوا تو مولانا مودودی ؒ نے جماعت اسلامی کے پروگرام کے چوتھے نکتے (انقلاب قیادت) پر بھی توجہ دینا شروع کی۔ اس نکتے کا صاف مطلب میدان سیاست میں قدم رکھنا تھا۔1951ءمیں پنجاب اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو جماعت نے ان میں حصہ لیا اور ایک امیدوار کو کامیاب کرانے میں کامیاب ہو گئی۔ مولانا کے کچھ ساتھیوں نے نکتہ اعتراض اٹھایا کہ ابھی چوتھے نکتے پر عمل کا وقت نہیں آیا۔ مولانا اپنی رائے پر مصر رہے تو وہ لوگ جماعت سے الگ ہو گئے۔ جماعت اسلامی نے اسلامی دستور کی تشکیل کروانے کے لئے ملک گیر مہم چلائی، نتیجہ کے طور پر پہلے قرارداد مقاصد پاس ہو گئی۔ پھر1956ءمیںدستور بھی نافذ ہو گیا۔ فروری59ءمیں ملکی انتخابات ہونے قرار پائے، لیکن اس سے پہلے ہی جنرل محمد ایوب خان نے سول حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاءنافذ کر دیا۔ اس مارشل لاءنے اچھے بھلے دستور کا تیا پانچہ کر دیا۔

اپنے وقت کی دیگر دینی اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی نے جمہوری اور اسلامی اقدار کے غلبہ کے لئے جدوجہد جاری رکھی، لیکن جمہوری عمل کو بار بار نقصان پہنچتا رہا۔ مولانا مودودی ؒ خود کہا کرتے تھے کہ کسان کو اچھی فصل حاصل کرنے کے لئے پہلے موسم اور زمین کو دیکھنا ہوتا ہے، پھر زمین کو ہموار کرنا ہوتا ہے تاکہ بیج ڈالے تو ضائع نہ جائے، بلکہ بارآور ہو، لیکن خود مولانا بھول گئے کہ انہوں نے جس معاشرے کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی کے لئے جدوجہد شروع کی، اس معاشرے کو سمجھنے کی کوشش نہ فرمائی۔ ان کا یہ نقطہ ¿ نظر درست تھا کہ یہ بہرحال مسلم معاشرہ تھا اور عوام کی حد تک اسلام سے محبت بھی پائی جاتی تھی، لیکن سوال تو یہ تھا کہ وہ دیکھتے کہ طاقت کے سرچشمے کون سے ہیں۔ مثلاً دستور اگر بار بار توڑا جاتا ہے تو توڑنے والوں کے کیا مفادات ہوتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بار بار انتخابات ہونے سے قوم جمہوریت کی پٹڑی پر رواں دواں ہو جائے گی اور مسائل سلجھتے جائیں گے، تو پھر آخر توڑنے والوں کو کیا جلدی ہوتی ہے؟ کیا یہ فیصلہ ان کا اپنا ہوتا ہے، کیا ان کے سامنے صرف اپنے طبقے کی مراعات ہوتی ہیں یا وہ ملک و قوم کو واقعی مسائل کے گرداب سے نکالنا چاہتے ہیں یا وہ کسی خارجی طاقت سے ساز باز کے بعد جمہوری عمل کو تہس نہس کرتے ہیں۔

اسی طرح غلامی کے دور کا ایک فرسودہ ادارہ جاگیرداروں اور وڈیروں کا تھا۔ اس طبقے کی ماہیت اور اس کے مفادات کا ادراک بھی ضروری تھا۔ آزادی کے بعد محنت کش طبقے کا حجم بڑھتا چلا گیا۔ سرمایہ دار طبقہ ان کے مسائل پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے پر تیار نہ ہوا تو انہیں روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دلکش معلوم ہوا اور وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔ اگر جماعت اسلامی معاشی معاملات کو درخوراعتنا سمجھتی اور مجبوروں اور مقہوروں کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملاتی تو سوشلزم کا نعرہ کبھی نہ گونجتا۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، کہنا یہ مقصود ہے کہ جماعت معاشرتی اور ریاستی قوتوں کا بالکل ادراک نہیں رکھتی، اس لئے کبھی جمہوری حکومتوں کے خلاف دھرنے دیتی ہے، کبھی انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہے اور کبھی غیر جمہوری اقتدار سے ہاتھ ملا لیتی ہے۔

مولانا مودودیؒ خود جماعت کے بانی تھے، پالیسی ساز بھی تھے اور راستے کے پیچ و خم کا قدرے بہتر ادراک رکھتے تھے، لیکن ان کے بعد جتنے بھی قائدین آئے ان کی سوچ قطعاً سائنسی انداز کی نہ تھی، انہیں ریاستی نظام میں کارفرما طاقتوں کا بالکل ادراک حاصل نہ تھا، چنانچہ انہیں مقتدر قوتیں بڑی آسانی سے شیشے میں اتار لیتی رہیں۔ نئے منتخب امیر جماعت کو چاہئے کہ وہ رکنیت کے نصاب میںتبدیلی لائیں اور تربیت گاہوں کے موضوعات کو معاشرتی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں۔ ادارہ معارف اسلامی کو سائنسی انداز کی تحقیق کا راستہ دکھائیں تاکہ اجتماعی فیصلے بہتر انداز کے ساتھ ہو سکیں۔ ورنہ بے خبری اور لا علمی کا سفر کسی بڑے حادثے پر منتج ہو سکتا ہے!

مزید :

کالم -