دھندلا سیاسی افق

دھندلا سیاسی افق
دھندلا سیاسی افق
کیپشن: nasir ch

  

ماضی میں ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ عجیب و غریب ہڑبونگوں سے بھری پڑی ہے،جس کی وجہ سے ملک کو بار بار سیاسی انارکی سے گزرنا پڑا۔اب تک کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ 1950ءکی دہائی میں ہونے والی سیاسی انارکی کے نتیجے میں 1960ءکی دہائی مارشل لاءمیں گزری۔اسی طرح 1970ءکی دہائی میں ہونے والی سیاسی انارکی کے نتیجہ میں 1980ءکی دہائی بھی مارشل لاءمیں گزری۔بات یہیں پر ختم نہ ہوئی، بلکہ 1990ءکی دہائی میں ہونے والی سیاسی انارکی کے نتیجے میں 2000ءکی دہائی بھی مارشل لاءمیں گزری۔ یہ نہ جانے محض ایک اتفاق ہے یا کوئی سوچا سمجھا منصوبہ کہ پاکستان کی اب تک کی سیاسی تاریخ میں ایک دہائی سیاسی انارکی میں اور ایک دہائی فوجی مارشل لاءمیں گزرتی ہے۔جب بھی ملک میں جمہوری حکومت قائم ہوتی ہے، اس میں سیاسی افق اتنا گدلا ہو جاتا ہے کہ لوگ فوجی حکومت کو نجات دہندہ سمجھنے لگتے ہیں، چنانچہ جب فوج آتی ہے تو مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں اور لوگ ایک سنہرا سپنا دیکھنے لگتے ہیں، لیکن ہربار یہی ہوا کہ پورا عشرہ گزر گیا، لیکن فوجی حکومت سے باندھی گئی کوئی توقع بھی پوری نہیں ہوئی۔پھر ملک میں فوجی حکومت سے نجات کی تراکیب سوچی جاتی ہیں اور جب جمہوریت بحال ہوتی ہے تو خوب نعرے بازی کی جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ پچھلی چھ دہائیوں سے یہ کھیل اسی طرح سے ہو رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ( ن) نے گزشتہ برس گیارہ مئی کو عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے نتیجے میں میاں محمد نوازشریف کو تیسری مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم بننے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور کے بعد 2008ء میں ملک میں ایک بار پھر سے جمہوری دور شروع ہوا تھا، جس میں وفاق میں پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت بنائی تھی۔پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور کے بعد انتخابات اور اس کے نتیجے میں میاں نوازشریف کی حکومت بننے سے یہ امید زندہ رہی کہ ملک میں عوام کے ووٹ سے قائم ہونے والی جمہوری حکومت کا تسلسل برقرار رہے گا۔یہ تسلسل پاکستان کی بقا اور ترقی کے لئے بھی انتہائی ضروری ہے۔اب یہاں ایک بہت اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اب ملک میں جمہوریت کا تسلسل برقرار رہ سکے گا یا چھ دہائیوں سے جاری میراتھن ٹیسٹ کرکٹ ہی کھیلی جاتی رہے گی، جس میں ایک ٹیم بیٹنگ کرتی ہے تو دوسری فیلڈنگ جب بیٹنگ والی ٹیم آﺅٹ ہو جاتی ہے تو فیلڈنگ والی ٹیم کی باری آجاتی ہے اور جب وہ آﺅٹ ہو جاتی ہے تو دوبارہ سے پہلی ٹیم کھیلنے لگتی ہے۔دونوں ٹیموں کی بیٹنگ اور فیلڈنگ اسی طرح باری باری چلتی رہتی ہے۔دیکھا جائے تو دونوں ٹیمیں اب تک تین تین باریاں لے کر آﺅٹ ہو چکی ہیں۔ سیاسی ٹیم 1977,1958اور 1999ءمیں آﺅٹ ہوئی، جبکہ فوجی ٹیم 1988,1971اور 2008ءمیں آﺅٹ ہوئی۔آج کل سیاسی ٹیم کی بیٹنگ کی چوتھی باری چل رہی ہے۔

گیارہ مئی کو گزشتہ عام انتخابات کی سالگرہ کے دن احتجاجی پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں۔جمہوری معاشروں میں احتجاج شہریوں اور سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے،اس لئے احتجاج کا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، لیکن جمہوری معاشروں میں احتجاج کا مقصد احتجاج ریکارڈ کرانا ہوتا ہے، حکومت کو گرانا نہیں۔ پاکستان میں اب تک یہ رواج رہا ہے کہ حکومت کے بنتے ہی اسے گرانے کی کوششیں شروع کردی جاتی ہیں۔1990ءمیں پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومتیں اسی وجہ سے آتی جاتی رہیں، یہاں تک کہ ملک میں مارشل لاءلگا اور دونوں جماعتوں کی قیادت کو جلاوطنی پر مجبور ہونا پڑا۔اسی جلاوطنی کے دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد عہد کیا کہ وہ اب ایک دوسرے کی ٹانگیں نہیں کھینچیں گے، بلکہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط کریں گے،تاکہ ان کی لڑائی سے کوئی تیسری قوت فائدہ اٹھا کر اقتدار پر قبضہ نہ کیا کرے۔اس سیاسی بلوغت کے نتیجہ میں میثاقِ جمہوریت کی دستاویز پر دستخط ہوئے۔اگر دیکھا جائے تو مجموعی طور پر دونوں جماعتوں نے اب تک اس پر عمل کیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور میں بارہا ایسے مواقع آئے کہ حکومت گرانا میاں نوازشریف کے لئے انتہائی آسان تھا، لیکن انہوں نے حکومت گرانے کی بجائے اس کو اپنی مدت پورا کرنے کا موقع فراہم کیا۔اس کے دو فائدے ہوئے.... ایک تو جمہوری تسلسل برقرار رہا اور دوسرا بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر میاںنوازشریف کی حکومت بھی بن گئی اور پیپلزپارٹی کی ناکام حکومت کو شہید ہونے کا کوئی موقع بھی نہ مل سکا۔اب آصف علی زرداری بھی اس نئی روایت پر عمل کرتے ہوئے کسی موقع کی تلاش میں نظر نہیں آتے، بلکہ لگتا ہے کہ وہ بھی حکومت کو پانچ سال کی مدت کی تکمیل کے بعد اگلے الیکشن میں قسمت آزمائی کا انتظار کررہے ہیں۔ان تمام خوش آئند باتوں کے باوجود اس وقت ملک کے سیاسی افق پر ایک گدلا پن نظر آ رہا ہے۔گیارہ مئی کو پاکستان تحریک انصاف، پاکستان عوامی تحریک اور عوامی مسلم لیگ نے احتجاجی مظاہروں کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ابھی یہ سوچنا بہت قبل از وقت ہوگا کہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری اور شیخ رشید احمد کا ایجنڈا صرف مظاہروں کی حد تک احتجاج ریکارڈ کرانے کا ہے یا وہ واقعی حکومت گرانے کے لئے میدان عمل میں نکلیں گے۔

 شیخ رشید احمد اور ڈاکٹر طاہر القادری کا سیاسی قد کاٹھ قومی اسمبلی کی ایک آدھ سیٹ سے زیادہ نہیں ہے اور وہ بھی اکثر کسی غیبی امداد کی محتاج ہوتی ہے۔ البتہ عمران خان کا معاملہ مختلف ہے۔ قومی اسمبلی میں نہ صرف چالیس کے لگ بھگ اراکین موجود ہیں، بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ان کی جماعت کی حکومت بھی قائم ہے۔اگر ایک صوبہ کسی موقع پر وفاق کے خلاف محاذ آرائی شروع کردے تو بہت زیادہ اکثریت ہوتے ہوئے بھی وفاق کے لئے حکومت چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کو کئی ملین لوگوں نے ووٹ دیا تھا،جس میں اکثریت نوجوان نسل کی تھی ۔اس عمر کے لوگ زیادہ جذباتی ہوتے ہیں اور ان میں تحمل و برداشت بھی کم ہوتا ہے۔کسی قسم کی محاذ آرائی کے نتیجے میں ان نوجوانوں کے اشتعال میں آنے سے بھی معاملات بگڑنے کا احتمال ہوتا ہے۔ان وجوہات کی وجہ سے گیارہ مئی کا دن خیریت سے گزر جانا اور کسی قسم کی ایجی ٹیشن کا شروع نہ ہونا ہی حکومت کابنیادی مطمح نظر ہونا چاہیے۔

 اس وقت اگر سیاسی افق پر گدلا پن نظر آ رہا ہے تو اس کی سیاسی وجوہات کے علاوہ سیاست سے جڑی کچھ غیر سیاسی وجوہات بھی ہیں۔حال ہی میں سینئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد ایک بڑے میڈیا گروپ اور ایک مقتدر ادارے کے درمیان تناﺅ کی کیفیت نے افق کو مزید گدلا کر دیا ہے۔اس وقت ملک میں مفروضوں پر مبنی ایک ایسی غیر ضروری بحث نے ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ،جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔جنرل پرویز مشرف پر چلائے جانے والے مقدمے اور ان کے پاکستان سے باہر جانے کے معاملے نے پہلے ہی سول ملٹری تعلقات میں کنفیوژن پیدا کررکھا تھا۔میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری تو ماضی میں ہونے والی سیاسی انارکی کے نتائج بھگتنے کے بعد سبق سیکھ چکے ہیں، لیکن عمران خان ابھی اس کھیل میں نووارد ہیں۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی انارکی سے انہیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے تو ایسی سیاسی ناتجربہ کاری ان کے اپنے لئے اور جمہوریت دونوں کے لئے نقصان دہ ہوگی۔سیاسی افق کے گدلے پن میں اگر کسی کی نجی زندگی کے معاملات بھی شامل ہو جائیں تو صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی چلی جائے گی، اس لئے ان تمام باتوں سے دور رہنا ہی سب کے لئے دانش مندانہ بات ہوگی۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا، اس لئے اس کے کامیاب یا ناکام ہونے کے تجزیئے ابھی قبل از وقت ہیں، لیکن بہت سے معاملات میں میاں نوازشریف کاروبار مملکت احسن طریقہ سے چلا رہے ہیں۔اس وقت ملک کسی سیاسی ایڈوینچر کا متحمل نہیں ہو سکتا، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کواپنے منصوبے یکسوئی سے مکمل کرنے کے لئے ہر جماعت اور ادارے کی طرف سے مکمل تعاون کیا جائے۔اسی طرح عوام کو بھی اپنی توقعات کو حقیقت پسندانہ سطح پر رکھنا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پاکستان کی پچھلے چھ عشروں کی تاریخ کو مکمل طورپر بھول جائیں اور ایک دوسرے کی باریوں کا انتظار نہ کریں۔عمران خان تو خود پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے کپتان رہے ہیں، اس لئے وہ بیٹسمینوں کو ریٹائرڈ ہرٹ کی کوشش کرنے کی بجائے اگلے الیکشن میں کلین بولڈ کرنے کی کوشش کریں ۔ہڑبونگ جتنی جلدی ختم ہو جائے اور سیاسی افق صاف شفاف ہو جائے ، اتنا ہی ملک کے لئے بہتر ہو گا، جس کے لئے ہر ایک کو نیک نیتی سے کوشش کرنا ہوں گی۔

مزید :

کالم -