گرمی، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی: پٹرولیم کے نرخوں میں کمی غیر موثر!

گرمی، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی: پٹرولیم کے نرخوں میں کمی غیر موثر!
گرمی، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی: پٹرولیم کے نرخوں میں کمی غیر موثر!
کیپشن: ch khadim hussain

  

گرمی بڑھ رہی ہے۔اس کے ساتھ ہی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اب تو جس جگہ دوچارحضرات جمع ہوں بات موسم کی شدت سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتی ہے۔گزشتہ صبح بھی محفل یاراں میں یہی بات زیر بحث تھی کہ گرمی ایک دم آ گئی ہے، ہم نے توجہ حاصل کی اور یاد دلایا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، کئی سال سے موسموں میں تغیر ہے اور پاکستان میں درمیانی موسم ختم ہوتا جا رہا ہے، گرمی چل رہی ہوتی ہے کہ ایک دم سے درجہ حرارت گر جاتا ہے، اسی طرح سردی بھی یکایک موسم بہار اور پھر گرمی میں تبدیل ہوتی اور پارہ اوپر جانا شروع کر دیتا ہے۔اس مرتبہ تو پھر بھی قدرت بڑی حد تک مہربان رہی اور اپریل کے آخری ہفتے تک موسم بہتر رہا، اگرچہ مارچ اور اپریل میں ہونے والی بارشوں نے گندم کی فصل کو بھی نقصان پہنچایا، گزشتہ دنوں لاہور سے سیالکوٹ تک سفر کا اتفاق ہوا تو یہ دیکھ کر بہت ہی خوشی اور اطمینان ہوا کہ اس مرتبہ فصل بمپر ہے، حد نگاہ تک گندم کے پودے لہلہا رہے تھے، کسی کسی جگہ فصل کٹ بھی رہی تھی جب بارش کے اثرات کا جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ کہیں کہیں پودے جھکے اور بعض کھیتوں میں نچلی سطح پر پانی ہے جبکہ فصل پک کر تیار ہے۔زمیندار پانی خشک ہونے کے منتظر ہیں، بہرحال یہ بات تسلی بخش تھی کہ بارشوں سے ہونے والا نقصان بہت کم ہے۔

بات موسم سے شروع ہوئی تھی تو حضرات یہ اچانک نہیں۔گرین ہاﺅس والے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ لوگوں کو خبردار ہونا چاہیے اور حکومتوں کو مناسب اقدامات کرنا ہوں گے کہ اوزان کی سطح کا سوراخ مزید نہ بڑھے جو اسی طرح ممکن ہے کہ گیسوں میں کمی کی جائے جو صنعتوں سے خارج ہوتی ہیں،عالمی موسمیات والوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ سے گلیشیر پگھلنے کی رفتار بڑھ جائے گی۔سطح سمندر بلند ہوگی، طوفان آئیں گے، کئی جزیرے واپس سمندر کی تہہ میں چلے جائیں گے تو کئی پہاڑ سمندر سے برآمد بھی ہوں گے یوں تغیر و تبدل جاری رہے گا کہ زمانے میں ثبات ہی تغیر کو ہے پاکستان کے بارے میں تو واضح کیا گیا ہے کہ یہاں موسم گرما (گرمی) کی مدت میں اضافہ ہوگا اور گرمی آٹھ ماہ تک پہنچ جائے گی، اس لئے یہاں کے رہنے والوں کو اسی حساب سے خود اور فصلوں کو موسم کی مناسبت سے سنبھالنا ہوگا۔

گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے جس کے بعد بارش بھی ہو سکتی ہے اور اگر برسات تیز ہوئی تو گلیشیئر کے پگھلنے اور برساتی پانی سے سیلاب کے امکانات رد نہیں کئے جا سکتے، لہٰذا اندازہ لگایا گیا کہ توقع سے زیادہ اور تیز بارشیں بھی ہو سکتی ہیں اس لئے متعلقہ محکموں کو خبردار رہنا ہوگا۔ گرمی بڑھے تو اس سے متعلقہ مسائل بھی بڑھتے ہیں اب یہی دیکھ لیں کہ لوڈشیڈنگ نے بُرا حال کر رکھا ہے۔ہر ایک گھنٹے کے لئے آمد کے ساتھ ہی واپسی بھی شروع ہو جاتی ہے،حتیٰ کہ لوڈشیڈنگ ایک گھنٹے سے زیادہ بھی ہوتی ہے، مصطفےٰ ٹاﺅن وحدت روڈ فیڈر انڈسٹریل II میں تعجب والی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے،یہاں ایک ایک گھنٹے کے حساب سے تو معاملہ چلتا ہی ہے، تاہم اکثر اوقات ایک ہی محلے کے آدھے گھروں میں بجلی موجود اور آدھے میں غائب ہوتی ہے۔ دوسرے معنوں میں ایک فیز چل رہا ہے تو دوسرا فیز بند، محلہ داروں نے خیال کیا کہ یہ خرابی ٹرانسفارمر کی ہوگی شکائت کی گئی عملے نے ٹرانسفارمر کو درست قرار دے دیا، لیکن معاملہ جوں کا توں ہے۔اندازہ یہ ہوا کہ ایک فیز پر زیادہ وقت کے لئے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور پھر خود بخود بحال ہو جاتی ہے، لوگ سراپا احتجاج ہیں، لیکن سننے والا کون ہے۔

لوڈشیڈنگ نے گرمی کے احساس کو بہت زیادہ کر دیا ہے اور لوگ باتیں بنا رہے ہیں، ایسے میں ان حضرات کا ہدف محترم وزیر خزانہ اور وزیر مملکت عابد شیر علی ہوتے ہیں جو بجلی مہنگی کرنے اور چوری روکنے پر لگے ہوئے ہیں، چوری تو رہی اپنی جگہ اب نادہندگی کی بات ہو رہی ہے تو نادہندہ تمام تر سرکاری ادارے نکلتے ہیں۔ پارلیمنٹ جیسا معزز اور مقتدر ادارہ بھی بجلی کٹوا لیتا ہے۔گزشتہ دنوں ان اقدامات نے بہت پبلسٹی لی اور اخبارات نے ایڈیٹوریل تک بھی لکھے لیکن پھر اللہ کا کرنا ہوا کہ سب کی بجلی بتدریج بحال ہو گئی اور واجبات کچھ اِدھر کچھ اُدھر ہو گئے۔وصولی بہت کم ہوئی۔

لوڈشیڈنگ نے تو بُرا حال کیا ہے، لیکن یہاں ہونے نہ ہونے والا بھی مسئلہ ہے اب استعمال بڑھ گیا، پنکھے چلنے لگے، جس کسی میں ہمت اور استطاعت ہے وہ ایئر کنڈیشنر بھی چلا رہا ہے ان سب کو پتہ تو آنے والے بلوں کے وقت چلے گا۔جب مجموعی طور پر 14روپے فی یونٹ سے 18روپے فی یونٹ تک ادائیگی کرنا پڑی، اس مرتبہ بل ہزاروں میں آئیں گے۔موسم گرما کے ساتھ ہی بیماریاں پھیلانے والے حضرات بھی میدان میں آ جاتے ہیں، اپنے منافع میں اضافے کے لئے یہ لوگ مضر صحت شربت، اور جوس بیچنا شروع کردیتے ہیں۔بچوں کے لئے برف کے گولے گلے خراب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، یوں کئی موسمی بیماریاں بھی آ جاتی ہیں، ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔مارکیٹ میں دودھ وافر ہے لیکن قابل اعتبار نہیں۔

قارئین! یہ بھی موسم ہی کا کرشمہ ہے کہ بات کہاں سے شروع کی اور کہاں چلی گئی۔اب آخری عرض یہ کہ حکومت نے پٹرولیم کے نرخوں میں کمی کی کہ ڈالر بھی سستا ہوا جبکہ عالمی بازار میں تیل بھی، لیکن دوسری تیسری مرتبہ بھی کمی کنجوسی سے کی گئی۔پٹرول صرف 34پیسے فی لیٹر کم ہوا، بہرحال ڈیزل تقریباً چار روپے لیٹر سستا ہوا ہے لیکن نہ تو ڈالروں کی قیمت اور نہ ہی پٹرولیم کے نرخوں میں کمی کے ثمرات عوام تک آئے نہ تو کرائے کم ہوئے اور نہ ہی اشیاءخوردنی اور ضرورت کے نرخ گھٹے ہیں، لوگ اب تو بلبلا بھی رہے ہیں، لوڈشیڈنگ کے ساتھ مہنگائی کے خلاف بھی احتجاج ہو رہا ہے شنوائی نہیں، بس اللہ ہی سے دعا کی جا سکتی ہے کہ اللہ خود اس قوم کو ہدایت دیں۔

مزید :

کالم -