تحریک انصاف کا احتجاجی پروگرام اور انتخابی نظام کی اصلاح

تحریک انصاف کا احتجاجی پروگرام اور انتخابی نظام کی اصلاح

  

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ گزشتہ 11مئی کے عام انتخابات میں تاریخی دھاندلی ہوئی ہے، جس میں ریٹرننگ افسروں نے شرمناک کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار چیف جسٹس نے ریٹرننگ افسروں سے خطاب کیا، جس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 1500ہے، وہاں پر 8000ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔ انہوں نے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ 11مئی کو ہونے والے انتخابات میں کرائی گئی دھاندلی کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات سے ووٹوں کی تصدیق کرائیں۔ ہم نے تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ حاصل کی، اب بھرپور جدوجہد کے ذریعے انتخابات کا شفاف اور موثر نظام حاصل کریں گے۔ انتخابات کے بعد ہم نے سپریم کورٹ سے قومی اسمبلی کے چار حلقوں کے انتخابی نتائج کی انگوٹھوں کے نشانات کے ذریعے جانچ کی استدعا کرتے ہوئے دھاندلی میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن نے لاتعداد درخواستوں کے باوجود دھاندلی میں ملوث ریٹرننگ افسروں کے خلاف کارروائی سے معذوری ظاہر کی ہے۔ ان انتہائی متنازعہ کردار کے حامل عدالتی افسروں کا محاسبہ کیا جائے اور قوم کے مینڈیٹ کی توہین کے مرتکب عناصر کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔

عمران خان نے کہا وہ ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی انتخابی نظام کی اصلاح اور دھاندلی کی تحقیقات کے لئے اس جدوجہد میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹرننگ افسروں کے احتساب کا کوئی نظام موجود ہی نہیں، ریٹرننگ افسروں نے90سے زائد حلقوں میں ووٹر لسٹوں میں بلاجواز ترامیم کیں۔ انتخابات سے 24گھنٹے قبل پولنگ سیکم تبدیل کی، جبکہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد سے گریز کرتے ہوئے بڑی تعداد میں وفاقی حکومت کے ملازمین کے بجائے صوبائی ملازمین کو انتخابات کے انعقاد پر مامور کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی نگران حکومت نے سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو بوجوہ تبدیل کرنے سے گریز کیا اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے ان محکموں سے وابستہ افراد کو استعمال کیا۔ جمہوریت پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے منصفانہ اور شفاف انتخابات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال تک انصاف کے حصول میں ناکامی کے بعد انہوں نے عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتخابی نظام میں موجود نقائص کو دور کئے بغیر وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

 تحریک انصاف کی طرف سے خصوصی طور پر چار حلقوں میں انتخابی دھاندلیوں کے سلسلے میں بہت سے حقائق سامنے لانے کے بعد ان حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق کرا کے انصاف مہیا کرنے اور دھاندلی کرنے والوں کو سزا دینے کامطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ریٹرننگ افسروں کے لئے انتخابی نظام میں کسی طرح کی سزا موجود ہی نہیں۔ اس سلسلے میں ابہام یا قانون کے خاموش ہونے کی بات تو ہو سکتی ہے،لیکن اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران فراڈ کرنے والوں کو سزادینا کوئی مشکل بات نہیں۔ اس کے لئے اگر متعلقہ حکام انصاف کرنے کا تہیہ کریں، تو کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ چار متنازعہ حلقوں کے انتخابی نتائج کی سکروٹنی نہ ہونے دینا اور الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ کی طرف سے اس سلسلے میں ابھی تک انصاف نہ مل سکنا افسوسناک ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے،جس سے تحریک انصاف جیسی جماعت کو آگے بڑھنے اور احتجاج کے بعد تمام انتخابی نتائج کو مسترد کر دینے کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

 عمران خان کی طرف سے انتخابات کے دوران قائم ہونے والی نگران حکومت کے مشکوک کردار پر بھی بہت سے سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ان کی طرف سے انتخابی نتائج میں دھاندلیوں کو اس قدر شدت سے لیا گیا ہے، کہ انہوں نے الیکشن کمیشن، ریٹرننگ افسروں اور خود سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی ذات پر بھی انگلیاں اٹھائی ہیں، جس سے یہی ظاہر کرنا مقصود ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر مداخلت ہوئی۔ انتخابی مہم کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری بھی آئین کی دفعہ 62،63 پر عمل درآمد کرانے کا مطالبہ لے کر آئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ جن لوگوں پر بنکوں یا دوسرے سرکاری محکموں کے نادہندہ ہونے کے الزامات ہیں، جنہوں نے ایف سی آر کے مطالبات کے باوجود اپنی آمدنی اور جائیداد کے گوشوارے جمع نہیں کرائے، جن کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئی ہیں اور جن پر کسی بھی طرح کے جرائم ثابت ہو چکے ہیں، انہیں انتخابات میں امیدوار کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔ اس مطالبے کو ماننے کے باوجود اس کو نہیں مانا گیا، بلکہ ریٹرننگ افسروں کی طرف سے دوسرے حقائق کی تصدیق کے بجائے امیدواروں سے اسلام کے بنیادی ارکان کے متعلق کوئی سوال پوچھ لیا گیا۔ اس طرح کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی میں ایسے بھی ہیں، جو آئین کی ان دو دفعات پر پورا نہیں اترتے۔ انتخابات میں کامیابی کے سلسلے میں آج بھی پاکستانی عوام کے سامنے دھن ، دھونس اور دھاندلی سب سے بڑی حقیقت کے طور پر موجود ہے۔

 اس وقت عوام چہرے نہیں نظام بدلنے کے حق میں ہیں۔ عوام کی ایک بڑی تعداد انتخابی نظام کو صاف ستھرا بنائے بغیر قائم ہونے والی حکومت کو جمہوری ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ عمران خان کے مطالبات کو اہمیت نہ دینے کا مطلب اعتدال پسند طبقات کو بھی انتہاء پسندی کی طرف دھکیلنا ہو گا،لیکن ایک سوال بنیادی اہمیت کا ہے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ملک بھر میں ایک ہی دن ہوئے تھے، اگر قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی تو صوبائی میں بھی ہوئی ہوگی اور یہ کسی ایک صوبے میں نہیں ہوئی ہوگی،عمران خان کی جماعت جس صوبے میں حکمران ہے کیاوہاں انتخابات بالکل صاف شفاف ہوئے؟کیا ساری دھاندلی وفاقی انتخابات میں ہوئی؟ان سوالات کا جواب بھی عمران خان کو دینا چاہئے، کہ جہاں ان کی حکومت ہے وہاں تو سب ٹھیک ہے وہاں تو کوئی دھاندلی نہیں ہوئی اور جہاں ان کی جماعت ہارگئی ،کیاساری خرابی وہیں ہے؟

مزید :

اداریہ -