لوڈشیڈنگ کی”خوشخبری“ اور بجلی چوری

لوڈشیڈنگ کی”خوشخبری“ اور بجلی چوری

  

پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ محمدآصف نے قوم کو ”خوشخبری“ سنائی ہے کہ اگلے دو تین ماہ لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگتنا ہوگا، دس دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوگی، وعدے کے مطابق لوڈ شیڈنگ میں کمی کی،لیکن گرمی کی شدت میں اضافے سے بجلی کا شارٹ فال3200میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے، حکومت خود سب سے بڑی نادہندہ ہے۔ چوری بجلی کے عملے کی ملی بھگت سے ہورہی ہے، جون سے پہلے بجلی بل وصول کریںگے۔

خواجہ آصف نے صاف گوئی سے کام لے کر قوم کو یہ تو بتا دیا ہے کہ دس دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوگی، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس لوڈشیڈنگ کو کم رکھنے کے لئے حکومت کیا اقدامات کررہی ہے، دراصل اس وقت قوم کو انرجی کے جس بحران کا سامنا ہے وہ پے در پے آنے والی حکومتوں کی غلط ترجیحات کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف بجلی کی قلت پیدا ہوئی ہے، بلکہ بجلی مہنگی بھی ہوئی ہے اور چوری میں بھی اضافہ ہوا ہے، سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ سرکاری محکمے بھی باقاعدگی سے بل ادا نہیں کرتے، جن اداروں کے ذمے کروڑوں اربوں کے واجبات ہیں جب اُن سے بل ادا کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ نہ صرف بل ادا نہیں کرتے بلکہ بجلی کٹنے پریا محض کاٹ دئیے جانے کے نوٹس پر ہی جوابی کارروائی کی تڑیاں لگانا شروع کردیتے ہیں،۔ ایسے میں اربوں روپے کے واجبات کیسے وصول ہوں گے اور چوری کا سلسلہ کیسے رکے گا؟

سابق حکومتوں نے بڑے ڈیم بنانے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا اور اس معاملے کو دورازکار بحثوں میں الجھا دیا گیا،حالانکہ بڑے ڈیم سے نہ صرف سستی بجلی حاصل ہوتی ہے بلکہ زرعی مقاصد کے لئے پانی بھی ملتا ہے،لیکن اس سستے ذریعے کو چھوڑ کر حکومتوں نے آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدنے کی راہ اپنائی، ان کمپنیوں نے حکومت سے جس انداز میں معاہدے کئے ،اس میں حکومتوں کے لئے سراسر خسارہ اور کمپنیوں کی پانچوں گھی میں تھیں، جن سرکاری حکام نے یہ معاہدے کئے انہوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے،لیکن قوم اس طرح ایک مستقل عذاب سے دوچار ہوگئی۔ جب یہ معاہدے ہوئے تھے اس وقت ایندھن کافی سستا تھا، جوں جوں ایندھن مہنگا ہوتا گیا بجلی بھی مہنگی ہوتی چلی گئی اور اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ حکومت ادھر گردشی قرضہ اتارتی ہے اُدھر یہ دوبارہ چڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور یہ ایک شیطانی چکر کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

 بجلی چوری کا عذاب اس پر مستزاد ہے پورے ملک میں بجلی چوری کی وباعام ہے اور خواجہ آصف کے بقول اس بجلی چوری میں متعلقہ عملہ ملوث ہے، اب گرمی کے موسم میں ائیر کنڈیشنر چلیں گے تو چوری میں بھی اضافہ ہوگا،اگرچہ عابد شیر علی چوری روکنے میں لگے تو ہوئے ہیں، لیکن لگتا نہیں کہ انہیں اس میں زیادہ کامیابی ہوگی،کیونکہ چوروں اور اُن کے سرپرستوں کی طرف سے انہیں جس طرح کے جوابات مل رہے ہیں جس طرح اُن کے خلاف قراردادیں منظور ہورہی ہیں، اس سے نہیں لگتا کہ انہیں زیادہ کامیابی ہوگی، وہ بل بھی پورے وصول نہیں کرسکتے، بس ایساہے کہ اخبارات اور میڈیا میں شور شرابا ہوتا رہے گا۔ ویسے جتنے واجبات ملک بھر میں سرکاری محکموں کے ذمے واجب الاد ہیں اُن کا ایک حصہ بھی مل جائے تو صورتِ حال میں کافی بہتری آسکتی ہے، لیکن محسوس یوںہوتاہے حکومت کو ا س سلسلے میں کافی دشواری ہوگی،بہرحال دیکھیں عابد شیر علی کی کوششوں کاکیا نتیجہ نکلتا ہے؟

مزید :

اداریہ -