یوم مئی پر لاہور پریس کلب کا عظیم کارنامہ

یوم مئی پر لاہور پریس کلب کا عظیم کارنامہ

  

 یوم مئی بھی گزر گیا۔ ہر سال کی طرح چند تنظیموں نے مزدوروں کے حق میں ریلی نکالی اور”ظالمو جواب دو خون کا حساب دو“ وغیرہ کے نعرے لگائے ۔ حسب توفیق جلسے منعقد کرنے کے بعد پریس کلب کے قریب دھرنا بھی دیا اور یکم مئی کا سورج غروب ہونے کے بعد یوم مئی ختم ہو گیا۔ اس یوم مئی سے مزدوروں کو تو کچھ فائدہ نہیں ہوتا البتہ مزدوروں کے اس عالمی یوم کی وجہ سے عام تعطیل سے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اپنی اپنی طبع کے مطابق ضرور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس سال یوم مئی کو اس حوالے سے کچھ انفرادیت حاصل ہوئی کہ لاہور پریس کلب میں قلم مزدوروں کے لئے ایک تقریب کا انعقاد ہوا۔ کونسل آف پاکستان پریس کلبز کا پہلا کنونشن اس مقصد کے لئے منعقد کیا گیا کہ اس کے اغراض و مقاصد واضح کرنے کے علاوہ مستقبل میں اس کے کام کرنے کے انداز سے ملک بھر کے پریس کلبز کے ممبران اور عہدیداروں کو آگاہی دی جا سکے۔

٭.... لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کے بقول اس کنونشن کے انعقاد کے لئے گزشتہ تین ماہ سے تیاری کی جا رہی تھی یقینا ایسا ہی ہو گا کیونکہ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کے علاوہ لاہور سمیت تینوں صوبائی دارالحکومتوں کے پریس کلب یعنی کراچی، کوئٹہ، پشاور کے ساتھ ساتھ اسلام آباد، فاٹا، سکرود، پشین، خضدار، حیدر آباد، لاڑکانہ، کوہاٹ اور پنجاب کے ضلعی اور تحصیل پریس کلبوں کے صدور اور دیگر عہدیدار اس کنونشن میں شریک تھے۔ بلاشبہ ملک بھر کے پریس کلبوں کے ارکان کا یہ ایک ایسا اجتماع تھا جو صحافتی تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کنونشن کے شرکاءسے پریس کلب لاہور کا کونہ کونہ ملک بھر سے آئے ہوئے پریس کلبوں کے عہدیداروں کی خوشبو سے پوری طرح مہک اُٹھا تھا اور صحافی برادری کے اتحاد کے حوالے سے یہ خوشبو ایک نئی منزل کا پتہ دے رہی تھی۔ پریس کلب کے ارکان صحافی ہونے کے حوالے سے اپنی مشکلات سے بخوبی آگاہ تھے اور انہوں نے کھل کر اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو نبھانے کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا۔ خصوصاً بلوچستان سے آنے والے پریس کلبوں کے عہدیداروں نے ایسے ایسے واقعات حاضرین کے گوش گزار کئے کہ جن کو سُن کر صحافت ترک کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا، لیکن اس کے باوجود وہ اس مقدس پیشے سے منسلک ہیں تو اسے اعلیٰ صحافتی خدمت کا درجہ دینا بھی ادنیٰ سی بات ہے۔

٭.... ارشد انصاری نے اپنے ابتدائیہ میں آگاہ کیا کہ اس کنونشن کا مقصد ملک بھر کے پریس کلبوں کو ایک لڑی میں پرونا اور ان سے وابستہ ارکان کے حقوق کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ہے اس مقصد کے لئے ایک متفقہ آئین بنانے کی طرف قدم بڑھایا گیا ہے، جس میں اس بات کو اولیت دی جا رہی ہے کہ تمام پریس کلبوں کے انتخابات31دسمبر تک مکمل ہوں اور ان انتخابات میں مرکز کی طرف سے تیار کئے جانے والے آئین کی پاسداری کو ایک زریں اصول کے طور پر اختیار کیا جائے۔ ارشد انصاری کے ابتدائیہ کے بعد جناب فیصل جو اسلام آباد پریس کلب کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں کو دعوتِ خطاب دی گئی، کیونکہ انہوں نے سب سے پہلے 2012ءمیں ملک بھر کے پریس کلبوں کو یکجا کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ ان کا خطاب صحافیوں کی بہتری کے جذبات سے لبریز ایک بہترین گلدستہ تھا جس سے ملک بھر کے پریس کلب ہمیشہ مہکتے رہیں گے۔ بلاشبہ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو انفرادی اور انقلابی سوچ لے کر آگے بڑھتے ہیں اور اپنی نیک نیتی اور ساتھیوں کی مدد سے اپنا مقصد پا لیتے ہیں۔

٭.... لاہور پریس کلب کی طرف سے اس جرا¿ت مندانہ کنونشن کو ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے مہمان صحافیوں نے ازحد سراہا اور بلاشبہ صحافیوں کے سنہرے مستقبل کے لئے ایک روشن ستارہ قرار دیا اور سب نے بیک زبان اس بات کا اقرار کیا کہ وہ اپنے اپنے مقام پر پریس کلبوں میں مرکز کی ہدایات کے مطابق کام کریں گے اور ان کی ہر کال پر صدق دل سے لبیک کہیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشترکہ اعلامیہ کی ایک ایک سطرکو واشگاف الفاظ میں قبول کیا اور منتظمین کو اس کنونشن کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ ارشد انصاری نے واضح کیا کہ اس کونسل کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کسی ادارے یا اداروں کے خلاف ہے۔ اس کا مقصد صرف اور صرف پریس کلبوں کی حالت بہتر بنانے کے علاوہ اس سے وابستہ ارکان کے لئے حکومت سے جائز مراعات کا حصول ہے اور ہم اس پلیٹ فارم سے قطعی طور پر کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کریں گے ۔ ارشد انصاری کی اس مفصل وضاحت کے بعد تقاریر کے دوران پیدا ہونے والی معمولی غلط فہمیاں بھی دور ہو گئیں۔

 اور تمام شرکاءکے چہرے تازہ کھلے ہوئے گلابوں کی طرح مہلک اُٹھے۔

 ارشد انصاری نے مزید بتایا کہ کوشش کی جائے گی کہ کونسل کے اس قسم کے کنونشن ہر تین یا چار ماہ بعد منعقد کئے جاتے رہیں تاکہ جو قافلہ چل نکلا ہے وہ برق رفتاری سے عظیم منزلوں کی طرف محو ِ سفر رہے۔ موجودہ کنونشن کی پذیرائی اور اس میں کئے جانے والے عہدو پیمان سے بلاشبہ امید کا ایک نیا سورج طلوع ہوتا ہوا نظر آتا ہے، جس کی روشنی سے پریس کلبوں کے ارکان کے مقدر کے ستارے مزید چمک اٹھیں گے۔ اس کنونشن کی تیاری میں بلاشبہ جن لوگوں نے شب و روز ایک کئے وہ قابل ِ تعریف ہیں، لیکن شہباز میاں سیکرٹری لاہور پریس کلب اپنی انتظامی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک بار پھر نمایاں نظر آئے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

کلچر -