جلد بازی کے فیصلے شوبز میں چند سالوں کے دوران طلاق کا رجحان بڑھ گیا

جلد بازی کے فیصلے شوبز میں چند سالوں کے دوران طلاق کا رجحان بڑھ گیا
جلد بازی کے فیصلے شوبز میں چند سالوں کے دوران طلاق کا رجحان بڑھ گیا
کیپشن: 4 bachia

  

لاہور(حسن عباس زیدی سے )زندگی میں جلدبازی کا نقصان ہوتا ہے انسان کچھ ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے اسے ہر لمحہ پچھتانا پڑتا ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی بہت سے لوگ سوچے سمجھے بغیر ایسے فیصلے کرلیتے ہیں جس کا پچھتاوا انہیں تمام عمر رہتا ہے لیکن زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اسے قسمت کا فیصلہ سمجھ کر خاموش ہوجاتے ہیں لیکن لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ ان تلخ حقیقتوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ اگر شوبز کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو فلم، ٹیلی ویژن، تھیٹر، میوزک اور فیشن انڈسٹری میں ایسے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں جنہیں جلد بازی میں کئے گئے فیصلوں کی قیمت آج بھی چکانا پڑرہی ہے۔ شوبز میں اگر کامیاب ازدواجی زندگی گزرانے والے لوگوں کی کمی نہیں ہے تو وہاں ناکام ازدواجی زندگی کا شکار لوگ بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ حالیہ چند سالوں پر نظر دوڑائی جائے تو بہت سے نامور فنکاروں کی شادیاں ناکام ہوئیں اور بالآخر انہیں علیحدگی اختیار کرکے ایک بار پھر تنہا زندگی گزارنا پڑی۔ شائستہ واحدی ہوں یا نادیہ خاں، زنیب قیوم ہو یا عینی خالد سب نے گھر بسانے کی نیت سے ہی شادی کی لیکن وہ نہیں ہوا جو انہوں نے سوچا ہوا تھا۔ کسی کی شادی سالوں بعد تو کسی کی مہینوں بعد ہی ختم ہوگئی۔ بلکہ اب تو شادیاں دنوں میں ختم ہورہی ہیں۔ ٹی وی کی سابق اداکارہ ستائش خاں کو چند ہفتے بعد ہی طلاق ہوگئی تھی لیکن انہوں نے یہ بات چھپائے رکھی۔ اس کے بعد چند ماہ پہلے اداکارہ شیری شاہ نے شادی کی لیکن ان کی شادی بھی چند ہفتوں بعد ختم ہوگئی جس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں برآمد ہوا۔ حال ہی میں ایک اور اداکارہ کو اپنے دامن پر طلاق کا دھبہ لگوانا پڑا۔ جی ہاں صرف دو ہفتے بعد راستے الگ ہوگئے۔ یہ اداکارہ آج کی معروف سٹار اور ماڈل اریج فاطمہ (ارج فاطمہ) ہیں۔ اریج فاطمہ نے زندگی کا زیادہ حصہ امریکہ میں گزارہ۔ جب وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے کراچی آئیں تو کسی کے کہنے پر انہوں نے شوقیہ طور پر ایک کمرشل میں کامل کیا جس کے آن ایئر ہوتے ہی انہیں بہت کام ملا اور یوں وہ راتوں رات سٹار بن گئیں۔ اب تک وہ مختلف پراڈکٹس کے 25سے زائد کمرشل کرچکی ہیں۔ ان کے چند اہم ڈراموں میں سبزم قدم، ہزاروں سال سبز پری لال کبوتر، ہم نشین، ماہی آوے گا، مرجائیں ہم بھی تو کیا، اک پاگل سی لڑکی، میری بیٹی، گمان اور کسے اپنا کہیں شامل ہیں۔ اریج فاطمہ نے بطور اداکارہ اپنی پرفارمنس کی دھاک تو سب پر بٹھا دی اور لاکھوں ناظرین کے دلوں میں جگہ تو بنالی مگر وہ اپنے شوہر کے دل میں جگہ نہ بنا سکیں۔ اب اسے قسمت یا تقدیر کا کھیل کہیں۔ جلد بازی کا نتیجہ قرار دیں یا کوئی اور نام دیں۔ اریج نے صرف دو ہفتے بعد ہی طلاق لے لی۔ ان کی شادی فراز نامی ایک نوجوان سے ہوئی تھی۔ نکاح کی تقریب میں فنکاروں سمیت شوبز کے دیگر لوگوں نے بھی شرکت کی۔ لیکن جب اریج نے خود ہی سوشل میڈیا پر اپنی طلاق کے بارے میں بریکنگ نیوز دی تو بہت سے لوگوں کو یقین ہی نہ آیا البتہ انہوں نے خود ہی اس کی تصدیق بھی کردی جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ میں اپنی زندگی کو مزید عذاب میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ شادی کے فوراً بعد ہی میرے سسرال والوں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔ انہیں ایک بہو کی نہیں بلکہ ایک بے بی ڈول کی ضرورت تھی جو پارٹیوں اور تقریبات میں اپنے شوہر کے ساتھ دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ساتھ رہے انہوں نے بتایا کہ ہمارا رشتہ ارینج تھا اور نکاح کا مقصد بھی یہی تھا کہ میرا شوہر امریکہ کی امیگریشن کے لئے اپلائی کرسکے لیکن نکاح کے فوراً بعد ہی مجھ پر اپنے شوہر اور سسرال والوں کی حقیقت واضح ہوگئی کئی واقعات بھی ہوئے لیکن میں ان کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتی۔ دوستوں نے یہی مشورہ دیا کہ جتنی جلدی ہوسکے اس رشتے کو ختم کردو ورنہ مستقبل میں مزید پریشانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا میں نے طلاق جیسا تلخ فیصلہ قبول کیا۔ میں اس بحث میں نہیںپڑنا چاہتی کہ قصور کس کا ہے۔شیری شاہ کے بعد اریج فاطمہ کی شادی ختم ہونے پر شوبز سے وابستہ مختلف افراد نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اداکار احسن خاں نے کہا کہ جب بھی کوئی رشتہ ختم ہوتا ہے تو اس میں کسی نا کسی کی غلطی ضرور ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں عام طور پر عورت کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اریج فاطمہ کا فیصلہ غلط ہے یا ٹھیک اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا مگر اتنا ضرور کہوںگا کہ شادی جیسا اہم کام نہایت سوچ بچار کے بعد کرنا چاہیے۔ اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے کہا کہ کوئی بھی رشتہ اعتماد اور محبت کے بغیر نہیں چل سکتا گھر بنانے کے لیے مرد اور عورت برابر کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ گاڑی تبھی چلتی ہے جب دونوں توازن رکھیں۔ رشتہ صرف لینے کا نام ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے بہت کچھ قربان بھی کرناپڑتا ہے۔ شادی انسان کی زندگی کا اہم ترین فیصلہ ہوتا ہے۔ جس میں نہایت احتیاط سے قدم اٹھانا پڑتا ہے۔

مزید :

کلچر -