مقبوضہ کشمیر ‘نوجوان کی شہادت کے خلاف احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے

مقبوضہ کشمیر ‘نوجوان کی شہادت کے خلاف احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے

  

سری نگر(کے پی آئی)بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوان کی شہادت کے خلاف ہفتے کو بھی مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے ہوے جبکہ سری نگر میں کرفیو جاری رہا ، اس دوران مشتعل نواجوانوں اور پولیس کے مابین نوہٹہ ،کاٹھی دروازہ ،گوجوار ،بانڈی پورہ ، سوپور ، اننت ناگ ،بارہمولہ ،سویہ بگ ،پٹن، قاضی گنڈ اور سوپور میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجہ میں متعددافراد کو چوٹیں آئیں۔ سرینگر میں پولنگ کے روز بدھ کی شام پائین شہر کے نواکدل علاقہ میں فورسز کی فائرنگ سے بشیر احمد بٹ نامی نوجوان کے جاں بحق ہونے پر سرینگر کے ساتھ ساتھ وادی کے دیگر اضلاع میں بھی غم وغصے کی شدید لہر جاری ہے۔ حکام کو خدشہ تھا کہ جمعہ کو بشیر احمد کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے اور چنانچہ انتظامیہ نے مسلسل دوسرے روز شہر 7پولیس اسٹیشنوں صفا کدل ، کرالہ کھڈ، مائسمہ ، مہاراج گنج ، خانیار ، نوہٹہ ، رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کرکے لوگوں کو اپنے گھروں میں محصور کردیا۔ پولیس نے سڑکوں کو سیل کر دیااور لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت کو ناممکن بنانے کے لئے ہر طرف سیکورٹی فورسز کا جال بچھایا گیا ۔ مہاراج گنج، نوہٹہ، خانیار، رعناواری اور جڈی بل علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے بتایا کہ پولیس اور فورسز نے انہیں صبح سے ہی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی اور کئی جگہوں پر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت دی گئی۔

فورسز کی بھاری تعداد میں تعیناتی اور لوگوں کی نقل وحرکت میں پابندیوں کے نتیجے میں پورے پائین شہر میں سکوت چھایا رہا اور وسیع آبادی مسلسل دوسرے روز بھی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی۔ سخت پابندیوں کے باعث تاریخی جامع مسجد سمیت کرفیو زدہ علاقوں کی بیشتر مساجد میں نماز جمعہ بھی ادا نہیں کی جاسکی۔شہر کے سیول لائنز علاقوں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے ہر طرح کے کاروباری ، تجارتی، سرکاری اور غیر سرکاری ادارے بند رہے اور سڑکوں سے گاڑیاں غائب رہیں۔ البتہ کسی کسی جگہ پر چھاپڑی فروش اور آٹو رکھشا سڑکوں پر نظر آئے۔ اس صورتحال کی وجہ سے شہر میں بدستور دوسرے روز معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ شہر کے تمام بازاروں میں دن بھر سناٹا چھایا رہا اور حساس مقامات پر پولیس اور فورسز کے اہلکار گشت کرتے نظر آئے۔ حالانکہ جمعہ کو کسی بھی مزاحمتی تنظیم نے ہڑتال کی کال نہیں دی تھی۔مجموعی طور اگر چہ شہر کی صورتحال پر سکون رہی تاہم شام دیر گئے گوجوارہ،نوہٹہ ،کاٹھی دروازہ ،کاؤ ڈارہ ، راجوری کدل ، صراف کدل ، نوابازار اور ملحقہ علاقوں میں مشتعل نوجوانوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے خشت باری کررہے نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے شلنگ کی۔

مزید :

عالمی منظر -