ایردوآن سمیت 60اہم افراد کرپشن کی تحقیقات میں بری قرار

ایردوآن سمیت 60اہم افراد کرپشن کی تحقیقات میں بری قرار

  

انقرہ(ثناءنیوز) ترکی کے سرکاری پراسیکیوٹر نے ایردوآن کے سابق وزیر سمیت 60 اہم افراد کے خلاف تفتیش روک دینے کا اعلان کرتے ہوئے ان کے خلاف مزید کسی قانونی کارروائی نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان افراد کیخلاف 17 دسمبر 2013 کو انسداد بدعنوانی کے تحت زیر تفتیش لایا گیا تھا۔پراسیکیوٹر نے چار سابق وزرا کے خلاف بھی تحقیقات شروع کی تھیں۔ جس کے بعد حکومتی سطح پر کافی سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ زیر الزام آنے والے وزرا اور ارکان پارلیمنٹ نے استعفے دیدیے تھے جبکہ ایردوآن حکومت نے پراسکیوشن اور پولیس کے سینکڑوں افسران کے تبادلے کر دیے تھے۔

گذشتہ روز پراسیکیوٹر نے اعلان کیا ہے کہ '' ساٹھ افراد جن میں تعمیراتی شعبے کے ٹائیکون علی اگاگلو، ترک فٹ بال فیڈریشن کے سابق سربراہ محمد علی،تاجر احمد نصیف اور وزیر ماحولیات کے صاحبزادے بھی شامل ہیں کے خلاف تفتیش مکمل ہو گئی ہے۔''سابق وزیر مالیات ظفر کاگلیان، سابق وزیر داخلہ معمرگولر، سابق وزیر برائے شہریات نے اسی تفتیش کے شروع ہونے کے بعد ماہ جنوری میں استعفے دے دیے تھے۔ جبکہ سابق وزیر برائے امور ہائے یورپی یونین کو کابینہ میں تبدیلی کے موقع پر سبکدوش کر دیا گیا تھا۔ایردوآن کابینہ کے اہم ارکان یا ان کے بیٹوں اور دیگر اہم شخصیات کے خلاف ان الزامات لگائے جانے پر وزیر اعظم طیب ایردوآن نے اس کی ذمہ داری امریکا میں مقیم عالم دین فتح اللہ گولین پر عاید کی تھی کہ وہ ایردوآن حکومت کو سازش کا نشانہ بنا رہے ہیں۔گذشتہ روزکے روز سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق دیگر زیر تفتیش شخصیات کے بارے میں ابھی تحقیقات جاری رکھی جائیں گی، تاہم مبصرین حالیہ بلدیاتی کامیابی کے بعد ایردوآن حکومت کیلیے اسے ایک اور اچھی خبر سے تعبیر کرتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -