شام کے شہر الرقہ میں10 شہریوں کو پھانسی

شام کے شہر الرقہ میں10 شہریوں کو پھانسی

  

دمشق(ثناءنیوز) شام کے شہر الرقہ میں دو بچوں کو سرے عام گولیوں سے بھون دیا گیا اور دو کو سر بازار پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ عرب ٹی وی کے مطابق نہتے نوجوانوں کو پکڑ کر چوک اور چوراہوں پر پھانسی پر لٹکانا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔دو روز قبل داعش کے عسکریت پسندوں نے الرقہ شہر میں دو بچوں سمیت 10 افراد کو قتل کیا ۔ دونوں مصلوب نوجوانوں کو پوسٹروں سے لیپٹا گیا ہے جن پر"مسلمانوں سے لڑنے والوں نے اسی جگہ پر بم دھماکہ کیا تھا" کے الفاظ درج صاف دیکھے گئے۔دیگر افراد میں دو کم عمر بچے بھی شامل تھے۔ ان میں سے ایک کی شناخت احمد خلیل کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دوسرے کی احمد خلف کے نام سے کی گئی ہے۔

 دونوں ساتویں اور آٹھویں جماعت کے طالب علم بتائے جاتے ہیں۔ دیگر مقتولین میں مہند الخلف، ابراہیم الحسین اور یاسر محرب شامل ہیں۔ ان تمام شہریوں کا تعلق الرقہ شہر سے ہے۔شہریوں کے سفاکانہ قتل عام کے ساتھ ساتھ داعش کے عسکریت پسندوں نے الرقہ شہر کی تاریخی اور ثقافتی علامات پر بھی حملے شروع کر دیے ہیں۔ شہر کے وسط میں الرشید گارڈن میں دو شیروں کی مشہور مورتی مسمار کر دی گئی ہے۔ یہ تاریخی علامت سنہ 744 کے دور میں آشوری خاندان کے دور کی یادگار بتائی جاتی ہے۔الرقہ میں تاریخی ثقافتی علامات پر حملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ داعش کے عسکریت پسند مزارات کو بھی اسلامی شریعت کے منافی قرار دیتے ہوئے انہیں بم دھماکوں سے تباہ کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ سماجی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے داعش کے عسکر یت پسندوں کو وہاں سے نکال باہر کرنے کے لیے عالمی برادری سے مدد کی اپیلیں کی گئی ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -