شوگر ملز کی ٹیکس مراعات ختم، اضافی چینی کی بر آمد بند ہونیکا خطرہ

شوگر ملز کی ٹیکس مراعات ختم، اضافی چینی کی بر آمد بند ہونیکا خطرہ

  

کراچی(آن لائن ) وزارت تجارت کی جانب سے چینی کی بر آمدات پر دی جانے والی مراعات ختم کرنے کے باعث مقامی شوگرملوں کے پاس موجود سرپلس چینی کی بر آمدات بند ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ میڈیار پورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے حال ہی میں مقامی شوگرملوں کو2.5 لاکھ ٹن چینی بر آمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس بار بر آمدکنندگان کو حکومت کے منظورشدہ مقدار کی چینی کوبغیرکسی حکومتی ترغیب کے بر آمد کرنا ہوگی۔ وزارت تجارت کی جانب سے اس ضمن میں جاری ہونے والے ایس آراو کے مطابق شوگرملوں کو چینی کی بر آمدات پر دی جانے والی ایک روپے فی کلوگرام کی ان لینڈ سبسڈی واپس لے لی گئی ہے۔ اس ایس آراو میں شوگرملوں کو2.5 لاکھ ٹن چینی پہلے آئیے اور پہلے پائیے کی بنیاد پر بر آمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ایس آراومیں چینی کی بر آمد پرسبسڈی کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی ترغیب دینے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے،اس سلسلے میں پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شنید قریشی نے بتایاکہ چند سال قبل تک وفاقی حکومت چینی کی بر آمدات پر 1.75 روپے فی کلوگرام پران لینڈ سبسڈی اور دیگر ٹیکس مراعات فراہم کررہی تھی۔ ان ٹیکس مراعات کے تحت چینی کی مقامی فروخت پر فیڈرل ایکسائزڈیوٹی 0.8 فیصد کے بجائے 0.5 فیصد وصول کیے جاتے تھے۔

 مگر یہ ٹیکس مراعات صرف اتنی مقدار کے لیے مقرر کی گئی تھی جتنی مقدارمیں چینی ایکسپورٹ کی جاتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال حکومت نے ستمبر2013 میں ان لینڈ سبسڈی 1.75 روپے فی کلوگرام سے کم کرکے ایک روپیہ کردی تھی جبکہ حالیہ 2.5 لاکھ ٹن کے ساتھ اس سبسڈی اور ٹیکس مراعات کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں شنید قریشی نے بتایا کہ رواں سال ماہ رمضان المبارک کے دوران ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں ہوگا اور نہ ہی چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

مزید :

کامرس -