آج ”فائر فائٹر ڈے “منایاجائے گا، مرکزی تقریب گورنرہاﺅس میں ہوگی

آج ”فائر فائٹر ڈے “منایاجائے گا، مرکزی تقریب گورنرہاﺅس میں ہوگی

  

لاہور(کرائم سیل)ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمر جنسی سروس (ریسکیو 1122) ڈاکٹر رضوان نصیر نے تمام ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اُن جانباز فائٹرفائٹرز جنہوں نے لوگوں کو ریسکیوکرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانی دی ان کی یاد میں4مئی کو اپنے اپنے اضلاع میں ”فائر فائٹر ڈے “ بھرپور طریقے سے منائیں۔ ا س حوالے سے تمام ضلعی افسران کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اس دن کی مناسبت سے اپنے اپنے اسٹیشن پر فائرفائٹنگ ، فائرفائٹرز کے کردارکے حوالے سے سیمینارزاور دوسری سرگرمیوں کا اہتمام کریں اور پاکستان میں محفوظ معاشرے کے قیام کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔ اس حوالے سے مرکزی تقریب کل (اتوار)کوگورنرہاﺅس میں منعقد ہوگی جہاں گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور ربہترین فائرفائٹرز میں انعامات تقسیم کریں گے اور لاہور کی محفوظ ترین عمارت کو بھی سیفٹی ایوارڈ دیاجائے گا۔اس تقریب میں شرکت کےلئے فائرسیفٹی کمیشن کے ممبران بشمول سی سی پی او لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے ، ڈی سی او لاہور اور مختلف محکموں کے سیکرٹریز کو مدعو کیاگیاہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد اُن بہادر فائر فائٹرز کو خراج تحسین پیش کرنا جنہوں نے بہادری اور جانفشانی سے اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور عوام الناس کو فائرفائٹر زکی خدمات اورفائر سیفٹی کے متعلق آگاہ کرنا ہے تاکہ کمیونٹی کو آتشزدگی کے حادثات کے دوران اُن کے اہم کردار کے متعلق بتایا جا سکے اور آتشزدگی کے واقعات میں واضح کمی لائی جا سکے۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹررضوان نصیر نے ریسکیو 1122کے فائرفائٹرز کو خراج تحسین پیش کر تے ہوئے کہاکہ مصیبت کے وقت لوگوں کو ریسکیو کرنااورآگ بجھانا معزز پیشہ ہے ۔ریسکیورز اور فائر فائٹر زہماری قوم کے اصل ہیروز ہوتے ہیں کیونکہ یہ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر شہریوں کی جان و مال کو بچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فائر فائٹر زجلتی ہوئی عمارتوں میںاپنی جان ہتھیلی میں رکھ کراُس وقت داخل ہوتے ہیں جب لوگ جلتی ہوئی عمارتوں سے باہربھاگ رہے ہوتے ہیں ،اس لئے ایسے ہیروز کی خدمات کو سراہناانہیں قدرکی نگاہ سے دیکھنا ہمارا فرض ہے ۔ڈاکٹررضوان نصیر کا کہنا تھا کہاگرچہ پاکستان میں جدید فائر سروس کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے اور جس نے اب تک 52000سے زائد آتشزدگی کے واقعات پر بروقت ریسپانڈ کرکے قیمتی زندگیوں 150ارب روپے سے زائد کی املاک کو بچایا ہے ، لیکن ہماری پہلی ترجیح ایسے حادثات کی روک تھا م ہونا چاہیے۔

 

مزید :

علاقائی -