مہروز یاور وزیراعلیٰ سے ملنا چاہتا ہے

مہروز یاور وزیراعلیٰ سے ملنا چاہتا ہے
مہروز یاور وزیراعلیٰ سے ملنا چاہتا ہے
کیپشن: najam wali khan

  

مہ روز یاور کی عمر محض ساڑھے چھ سال ہے ۔۔ لاہور کے علاقے کریم پارک کے ایک سکول میں کلاس ٹو کا طالب علم ہے، لاہور اس عمر کے سینکڑوں نہیں ہزاروں شرارتی طالب علمو ں سے بھرا پڑا ہے مگر مہروز یاوران سب سے بہت زیادہ مختلف ہے کہ اس نے بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والی ارفع کریم اور اس کے بعدعزیر اعوان کا دنیا بھر میں سب سے کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کمپیوٹر سپشلسٹ ہونے کا صرف ریکارڈ ہی نہیں توڑا بلکہ اسے ڈبل کر کے توڑا ہے۔کہتے ہیں کہ مائیکرو سافٹ بالعموم ایک روز میں ایک ہی سرٹیفکیشن کے لئے ٹیسٹ لیتا ہے مگر مہ روز نے اپنے ٹیچر حافظ بلال احمد کے ذریعے اجازت چاہی کہ اسے ایک ہی روز ، صرف آدھ گھنٹے کے وقفے سے ،مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ سالوشنز ایسوسی ایٹ اور پھر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ ٹیکنالوجسٹ سپشلسٹ کے امتحانات میں حصہ لینے دیا جائے۔

مہروز سے پہلے کچھ حافظ محمد بلال کا ذکر ہوجائے جو شہر کے راوی روڈ جیسے پسماندہ علاقے میں بچوں کو تعلیم کی دولت سے نواز رہے ہیں، مجھے تو یہ جان کر بہت ہی حیرت ہوئی کہ مہروز یاور سے پہلے مائیکرو سافٹ سرٹیفیکیشن میں ریکارڈ ہولڈر عزیر اعوان بھی انہی کا طالب تھا، وہ نہ صرف محنت کرتے ہیں بلکہ اس محنت کو تسلیم کروانا بھی جانتے ہیں۔ میرے خیال میں تو اس استاد کو بھی ایوارڈ ملنا چاہئے جو بچوں کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کروا تے ہوئے پاکستان کا بہترین امیج دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے ورنہ ایک طرف مکھی پر مکھی مارتے ہوئے کمپیوٹر پڑھانے والے ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں اور دوسری طرف دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان اس کے بچوں کا یہ مثبت ٹیلنٹ نہیں بلکہ وہ خود کش دھماکے ہیں جن میں ہم اپنے بچوں تک کو استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ پنجاب حکومت نے بھی سکولوں میں کمپیوٹر لیبس قائم کی ہیں مگر بہت ساری جگہوں پر یہ اطلاعات ہیں کہ وہاں ٹیچر ز ہی دستیاب نہیں، بہت سارے سکولوں سے سامان چوری ہو چکا ہے اور یوں بھی یہ کمپیوٹر لیبس پرائمری سکولوں میں نہیں ہیں۔ اس خامی کے باوجود میں حکومت کی یہ مساعی قابل تعریف ہے ،دعا صرف یہ ہے کہ سرکاری وسائل کے بہترین استعمال کا کوئی فول پروف طریقہ ایجاد ہوجائے۔مسز یاور نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ابھی تک تو انہیں کوئی لفٹ نہیں کروائی گئی، میں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے حکمران میڈیا دیکھ کر اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس انٹیلی جنس کا اپنا نظام میڈیا سے تیزاور بہتر ہونے چاہئیں۔ مجھے دیگر ذرائع سے علم ہوا کہ مسز یاورسرکاری ملازم ہیں اور ان کے شوہر عرصہ ہوا انگلینڈ منتقل ہو چکے، وہاںان کی فلپائنی خاتون سے ماشاءاللہ بڑے بڑے بچے ہیں۔ سنگل پیرنٹ کی اولاد کے طور پر زندگی گزارتے ہوئے مہروز یاور نے اپنی اس محرومی کو اپنی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ حافظ بلال کایہی کہنا تھا کہ بچے موبائل فونز اور کمپیوٹرز وغیرہ میں دلچسپی لیتے ہیں مگر ان میں سے کچھ کی دلچسپی غیر معمولی ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی جدید گیجٹس میں اس دلچسپی کا رخ فضول گیمز، نیٹ سرفنگ اور چیٹنگ کی بجائے مثبت اور تعمیراتی سمت میں موڑ دیں۔ یہ بہت حد تک خداداد صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ مہ روز جب حافظ بلال کے پاس پہنچا تو اس کے ننھے منے ہاتھوں میں ماو¿س کی گرفت اور استعمال دیکھ کر انہوں نے اس کے اندر چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو پہچان لیا، ٹیلنٹ کی پہچان ہونے کے بعد اگلا مرحلہ اسے پالش کرنے کا تھا اوروہ اس میں بھی ایک مرتبہ پھر کامیاب رہے۔

میں نے مہ روز سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے، اس نے کسی کمپیوٹر کورس کا نام لیا جس کا مجھے علم نہیں کہ وہ کیا بلا ہے، وہ وائیٹ ہیٹ ہیکر بننا چاہتا ہے ۔چھوٹا سا بچہ ہے اور کام بڑے بڑے کرنے کے عزم رکھتا ہے، کہتا ہے کہ وہ اس وقت بھی کسی بھی کمپیوٹر کو ہیک کرسکتا ہے ، وائیٹ ہیٹ ہیکر ایک اصطلاح ہے جو ایسے ہیکر کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو اپنی صلاحیتوں کوقانونی طور پر مثبت نتائج کے لئے استعمال کرتا ہے۔ مہروزوائیٹ ہیٹ ہیکر تو یقینا بن ہی سکتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس نے بتایا کہ وہ پاکستان کا صدر بننا چاہتا ہے تاکہ پاکستان ایک صاف ستھرا ملک بنے اور یہاں سے بم دھماکے بھی ختم ہوں، میرے ذہن میں آیا کہ صدر بننے کی کوالیفی کیشن ابھی تک جینئس ہونا تو قرار ہی نہیں پائی، یہاں طاقت اور اطاعت کے سو ا کوئی تیسرا فارمولہ فی الحال کامیاب نہیں ۔ مہروز کی ایک اور معصوم سی خواہش وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات ہے اور ان کے ساتھ تصویر کو فیس بک پر شئیر کرنا چاہتا ہے۔ میں نے وزیرتعلیم رانا مشہود احمد خان سے کہا کہ ایک بچے کی اتنی سی خواہش پوری کرنے میں آپ کا کیا نقصان ہے، آپ لوگوں نے ارفع کریم کو عزت دی، وہ بجا طور اس کی مستحق تھی مگر ٹیلنٹڈ بچوں کے لئے عزت، محبت اور شفقت کا جذبہ اس کے بعدختم تو نہیں ہوجانا چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ وہ مہروز کے سرٹیفیکٹس کی تصدیق چاہتے ہیں کیونکہ حافظ آباد کے کسی بچے کے حوالے سے فراڈ سامنے آ چکا ہے۔ مہر وز کے ٹیچر حافظ بلال کہتے ہیں کہ ان کے پاس اسناد موجود ہیں جنہیں کسی وقت بھی چیک کیا جا سکتا ہے، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا کے مصداق، مائیکرو سافٹ کا پاس ورڈ بھی موجود ہے، ویب سائیٹ کھولیں اور تصدیق کر لیں۔ رانا مشہود احمد خان نے میرے ساتھ وعدہ تو کیا کہ تصدیقی عمل مکمل ہوتے ہی وہ مہروز کی نہ صرف وزیراعلیٰ سے ملاقات کروا دیں گے بلکہ اس کے ساتھ خود تصویریں بنوا کے فیس بک پر شئیر کریں گے۔وزیرتعلیم پنجاب نے جو وعدہ کیا وہ ان کی مصروفیات کی نذر ہو گیا اور پھر وہ لندن روانہ ہو گئے۔

میںنے مہ روز کا ذکر پنجاب کے وزیر خوراک بلال یٰسین سے بھی کیا کہ کریم پارک ان کے حلقہ انتخاب میں ہی نہیںآتا بلکہ ان کی رہائش بھی اسی علاقے میں ہے۔ بلال یٰسین نے یہ بتا کے مجھے حیران کر دیا کہ مہ روز توان کا ہم سایہ ہے، اس کا گھرغالباً ان کے دفتر کے اتنا قریب ہے کہ انہوں نے میری سفارش پر الفاظ استعمال کئے، ” ان کا توہمارے ساتھ ہی دروازہ ہے“ مگر بلال یٰسین بھی اس وقت گندم کی خریداری کے سلسلے میں مصروف ہیں لہذا وہ بھی نجی طور پر کی گئی درخواست کے نتیجے میں اپنے ہم سائے اور ووٹر خاندان کا دروازہ کھٹکھٹانے کی فرصت نہیں پا سکے۔ مجھے بھی جیسے ضد سی ہو رہی تھی کہ اس بچے کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے اور اس ضد کی وجہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل بچے کا ستقبل محفوظ بنانے کی سادہ سی خواہش کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ اگر پنجاب حکومت اس بچے کی سرپرستی کرے تو پوری دنیا کو شکست دینے والا یہ بچہ وطن کے لئے قابل فخر اثاثہ بن سکتا ہے۔ میں نے پنجاب کے بہت ہی شریف النفس اور محنتی سیکرٹری اطلاعات مومن علی آغا کو فون کیا، یہاں سے کچھ رسپانس ملا اور کچھ ہی دیر کے بعدڈی جی پی آر سے ڈائریکٹر الیکٹرانک میڈیا ضمیر اطہرکا فون آ گیا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ مہ روز یاور کی ایک پروفائیل تیار کرنا چاہتے ہیں ۔ مہ روز کی والدہ اس سلسلے میں ڈی سی او لاہور جاوید قاضی کے دفتر بھی گئیں اور وہاں سے بھی ان کے مطابق حوصلہ افزا جواب ملا مگر ابھی تک سب جواب زبانی کلامی ہی ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرنے اور سرکاری محلات میں رہنے والوں کو شائد یہ یقین ہی نہیں آ رہا کہ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا کوئی اک دھان پان منحنی سا بچہ بھی یہ اعزاز حاصل کر سکتا ہے۔ وہ حیران ہیں کہ حکومت پنجاب نے ارفع کریم کی طرف سے کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ ایکسپرٹ کا اعزاز حاصل کرنے پر تو اسے بہت زیادہ عزت دی مگر دوسری طرف ان کا بیٹا مہ روز یاورحکمرانوں کی توجہ ہی نہیں حاصل کر پارہا۔شائد بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرنے اور سرکاری محلات میں رہنے والوں کو شائد یہ یقین ہی نہیں آ رہا کہ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا کوئی اک دھان پان منحنی سا بچہ بھی یہ اعزاز حاصل کر سکتا ہے۔ اب میں انہیں کیا بتاتا کہ اگرارفع کریم کی طرح مہ روز یاور بھی کسی کرنل کا بیٹا ہوتا تو حکمران بھاگ بھاگ کے اس کی ناز اٹھاتے کہ اس وقت حکومت اپنے ان ”ناراض دوستوں “کو ہر ممکن طریقے سے خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے مگر مہ روز تو میری ایک ایسی محنت کش بہن کا بیٹا ہے جو لاہور کی ضلعی حکومت میں نوکری کر کے اپنا اور اپنے اکلوتے ہونہار بچے کا پیٹ پالتی ہے اور غریبوں سے گھروں سے حکمرانوں کے محلات کے فاصلے اتنی آسانی سے کم نہیں ہوا کرتے۔

 

مزید :

کالم -